افغانستان میں بدترین شکست پر امریکی دھمکیاں۔۔۔ریاض احمد چوہدری

  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق نئی پالیسی میں پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور پاکستان افراتفری پھیلانے والے افراد کو پناہ دیتا ہے۔ پاکستان سے نمٹنے کے لیے اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں جس کے لیے پاکستان کو پہلے اپنی صورتحال تبدیل کرنا ہوگی۔ جنوبی ایشیاء میں اب امریکی پالیسی کافی حد تک بدل جائے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان سے متعلق بیانات پر اپنے ردعمل میں پاکستانی حکمرانوں، سیاسی و عسکری قوتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاوید باجوہ نے پاکستان میں تعینات امریکی سفیرڈیوہیل   سے ملاقات میں آگاہ کیا کہ پاکستان کوامدادنہیں چاہیے بلکہ خدمات کااعتراف چاہتے ہیں۔ امریکاسے مالی امداد کی بجائے اعتمادکے خواہاں ہیں۔ہمیں امریکاسے کسی قسم کی مالی یاعسکری امدادکی ضرورت نہیں۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہمارے کرداراور اعتماد کوتسلیم کیے جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کیلئے افغانستان میں امن اہمیت کاحامل ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں امریکیوں سے کہیں زیادہ ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ ہمیں دھمکیاں نہ دیں۔ ٹرمپ کو جنگ کرنی ہے تو افغانستان میں کریں۔ہم مسلمان ہیں اور پاکستانی بھی ہیں۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں امریکیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ٹرمپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ پاکستان ہے افغانستان نہیں۔تحریک انصاف کے چیئرمین  عمران خان نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا  اپنی ناکامیوں کا بوجھ پاکستان پر ڈالنے کی کوششیں کررہا ہے۔ دہائیوں سے نافذ ناکام افغان پالیسی حقیقت میں امریکی مایوسی کا سبب ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کڑی تنقید کے بعد چین پاکستان کی حمایت میں میدان میں آگیا۔ ٹرمپ کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ نے کہا کہ چین اور پاکستان ایک دوسرے کو بہترین دوست سمجھتے ہیں اور دونوں ممالک کے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی، معاشی اور سکیورٹی کے حوالے سے گہرے روابط ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول محاذ پر ڈٹا ہوا ہے، جس میں اس نے بے شمار قربانیاں دیں اور اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین نے عالمی برادری پر پاکستان کی قربانیوں کا مکمل اعتراف کرنے کے لیے زور دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان اور افغان پالیسی کے حوالے سے غورکے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان امریکہ سے بھرپور احتجاج کرے گا۔ امریکہ کے بیان پر اظہار افسوس کیا گیا امریکہ نے پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا۔ امریکہ افغانستان میں جنگ جیتنا نہیںبلکہ شکست سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ افغانستان میں امریکی فورسز کی موجودگی کے باوجودپاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ امریکی فورسز کو اس صورتحال کی ذمہ داری لینا ہوگی ۔ یہ امر واضح ہے کہ2014 میں شروع آپریشن ضرب عضب اورآپریشن ردالفساد کے بعد پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں رہیں ۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف نے کہاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کاکوئی مقابل نہیں ۔پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف اکیلے جنگ لڑکرامن قائم کیا مگرافغانستان میں دنیاکی 16ممالک کی افواج مل کربھی 15سالوں میں دہشتگردی ختم نہ کرسکیں۔پاکستان کوڈرادھمکاکرافغان جنگ جیتناامریکہ کی غلط فہمی ہے ۔افغان جنگ ہمارے تعاون کے بغیرنہیں جیتی جاسکتی ۔ امریکی صدرکی تقریرپرپاکستان بھرپورردعمل دیگا۔امریکی صدرنے تقریرمیں پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف قربانیوں کو یکسر نظر انداز کیا۔ ڈونلڈٹرمپ نے بھارت کواہمیت دی ہے باوجوداس بات کے بھارت پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ امریکی صدرکابھارت کوپاکستان سے زیادہ اہمیت دینابالکل غیرمناسب ہے۔پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیوں کاسلسلہ ہے جوپچھلے 15سال سے دے رہاہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جتنی قربانیاں دی ہیں اتنی دنیاکے کسی ملک نے نہیں دیں۔ ہم نے 70ہزارشہریوں کی قربانی دی جس میں 17ہزارشہادتیں ہیں ،5ہزارکے قریب ہمارے فوجی جوان اورافسران شہیدہوئے ، دنیاکی کون سی فوج ہے جس نے لیفٹیننٹ جنرل کی قربانیاں دی ہیں۔پاکستان نے چارمیجرجنرل کی قربانی دی ہے اورفوجیوں کے بچوں نے قربانیاں دی ہیں۔پاکستان کی پولیس فورس نے قربانیاں دی ہیں ۔ دوسرے قانون نافذکرنے والے اداروں نے دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دی ہیں ۔ سویلین شہریوں نے قربانیاں دی ہیں۔ کور کمانڈر کراچی 3بھائی تھے ان میں سے 2بھائی اس جنگ میں شہید ہوگئے۔جس طرح امریکہ کواپنے عوام کی رائے عزیزہے اسی طرح پاکستان کوبھی اپنے عوام کی رائے اہم ہے۔پاکستان میں دہشتگردوں کااب کوئی نیٹ ورک نہیں ہے ۔ ہم نے امریکہ کویہ بھی آفرکی ہے کہ پاک فوج کے دہشتگردوں سے کلیئرکرائے گئے علاقوں میں اپنے نمائندیں بھیجیں اورجائزہ لیں کہ ہم نے دہشتگردی کے خلاف کیاکچھ کیاہے۔ 16ممالک کی افواج مل کربھی افغانستان میں طالبان کوشکست نہیں دے سکیں۔ 45 فیصد افغانستان اب بھی طالبان کے کنٹرول میں ہے اورطالبان کااثرورسوخ بھی مزیدعلاقوں تک بڑھتاجارہاہے۔ امریکہ افغانستان میں ٹریلین ڈالرلگاچکاہے۔ ہم نے دہشتگردی کاخاتمہ کردیاہے۔ امریکہ سمجھتاہے کہ پاکستان کو ڈرا دھمکا کر وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ جیت لے گایہ اس کی غلط فہمی ہے ۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تجربے کاکوئی مقابل نہیں۔ ہمارے جنازہ گاہیں ،ہماری مساجد اور ہماری امام بارگاہیں دہشتگردی میں خون سے نہلادی گئیں ۔ امریکہ ہمیں جوامداددیتاہے وہ کولیشن سپورٹ فنڈزکی مدمیں دیتاہے ۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ ہم نے اپنے وسائل سے لڑی۔ ہم نے قوم کے خون پسینے کی کمائی سے جنگ لڑی ۔کسی فوجی نے پیسے لیکرافغانستان جاکرجنگ نہیں لڑی ۔ہم امریکی امدادکے بغیربھی دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔افغان جنگ ہمارے تعاون کے بغیرنہیں جیتی جاسکتی ۔ہم افغانستان میں قیام امن کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔پاکستان امریکہ کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کاخواہاں ہے ،لیکن امریکہ کوپاکستان کی قربانیاں تسلیم کرنی ہوں گی۔ وفاقی کابینہ نے تمام دوست ممالک کو امریکی پالیسی سے متعلق اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کابینہ کے ارکان نے رائے دی کہ پاکستان امریکی الزام تراشی کا بھرپورجواب دے۔ پاکستان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو پذیرائی ملنی چاہیے جب کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں۔