Get Adobe Flash player

عدلیہ کے ساتھ وکلاء اور سیاستدانوںکے برتائوکا فرق!۔۔۔ پروفیسر ضیاء الرحمن کشمیری

مہذب معاشروں میں انصاف کی فراہمی کے لیے بنچ اور بار لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں بنچ اور بار کے درمیان اکثر تنازعات جنم لیتے رہتے ہیں۔چند روز قبل ایسا ہی ایک تنازعہ ملتان ہائی کورٹ بنچ کے ججز اور ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر کے درمیان شروع ہوا ، جو اس قدر بڑھا کہ ایک بار پھر ملک میں وکلاء گردی کے واقعات رونما ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ قانون کے محافظ خود قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ طوفانِ بد تمیزی ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ ملتان میں جسٹس قاسم خان کے ساتھ بر سر عدالت بدتمیزی کرنے والے اور ان کے کمرے کے باہر لگی ان کے نام کی تختی توڑنے والے ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر شیر زمان قریشی اور ان کے رفقاء نے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے طاقت کے زور پر عدلیہ کو یر غمال بنانے کا طرزِ عمل اختیار کیا ہوا ہے اور ملک بھر سے وکلاء کی بڑی تعداد ناجائز طور پر ان کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ کی سربراہی میں 5رکنی فل بنچ کی طرف سے ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی سے شروع ہونے والا تنازعہ اس قدر شدت اختیار کر گیا ہے کہ جب فل بنچ نے شیر زمان قریشی کو عدالت میں پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کئے تو وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے اس فیصلے کے خلا ف ملک بھر میں عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ ملتان بار کے صدر کے خلاف جاری قانونی کارروائی کو فوری روکا جائے اور وارنٹ گرفتاری واپس لیے جائیں ۔ ججز اور وکلاء کے درمیان تنائو یا ٹکرائو میں اس وقت شدت آئی جب 22اگست کو مذکورہ بالا فل بنچ نے صدرملتان بار کی وکالت کا لائسنس منسوخ کر کے پولیس کو ان کی گرفتاری کا حکم دیا ۔ اس پر ملتان ہائی کورٹ بار کے صدر کے حامی وکلاء مشتعل ہوگئے اور یہ اشتعال انگیزی اس قدر بڑھی کہ کمرہ عدالت کا آہنی گیٹ اکھاڑ دیا گیا ، کمرہ عدالت پر حملہ کی کوشش کی گئی ، لاہور ہائی کورٹ کی عمارت پر شدید پتھرائو کیا گیا ، جس سے کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے، وکلاء نے صحافیوں اور پولیس اہلکاروں پر بھی حملے کئے۔ اس کے بعد یہ ہنگامہ آرائی پھیل گئی اور وکلاء نے شاہراہِ قائد اعظم بلاک کر کے پورے علاقہ میںکاروبارِ زندگی کو معطل کر دیا۔بار اور بنچ کے درمیان تصادم نظامِ انصاف کی موت کے مترادف ہے۔ایک طرف عدلیہ ملک کا مقدس ترین ادارہ ہے، جس کے ذمہ انصاف کی فراہمی کا فریضہ ہے جبکہ دوسری جانب وکلاء ہیں جو انصاف کی فراہمی کے لیے عدلیہ اور ججوں کی مدد کر تے ہیںاور ان کو قانون و انصاف کا محافظ بھی کہا جا تاہے۔ کالا کوٹ پہننے والے قانون کے ان محافظوںکی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ کے خلاف جاری اس شر انگیزی کو کم سے کم الفاظ میں بھی شرمناک کہا جا سکتا ہے۔ایک ادنیٰ سطح کا قانون دان بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی فل بنچ کے سامنے ملتان بار کے صدر کی پیشی ضروری تھی اور انہیں قوانین و عدالتی پروٹوکول کے احترام میں سرنڈر کرتے ہوئے اپنے آپ کو بنچ کے سامنے پیش کرنا چاہئے تھا لیکن انہوںنے نہ صرف فل بنچ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کیا بلکہ انا کا مسئلہ بنا کر اپنے حامی وکلاء کے ساتھ مل کر اس معاملہ کو عدلیہ کے ساتھ ایک جنگ کی شکل دے دی ۔وکلاء کے اس طرزِ عمل کے بعد عدلیہ کی توقیر پر اور قانون و انصاف کی عملداری پر بہت بڑا سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ ملتان بار کے صدر نے فل بنچ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے اور نہ صرف انکار کیا بلکہ پہلے سے بڑھ کر توہین ِ عدالت کی کارروائیاں کیں اور ملک گیر سطح پر عدالتی نظام کو جام کرنے کی بھی کوشش کی ۔ آج اگر اعلیٰ عدلیہ نے اپنی صفوں میں موجود ان قانون شکن وکلاء کا کڑا محاسبہ نہ کیا تو کل یہی عدلیہ یا اس کا کوئی فل بنچ کسی حکومتی اور عوامی نمائندے کو کس حیثیت سے طلب کرنے کی ہمت کر سکے گا؟یہ وکلاء گردی اور وکلاء کی طرف سے اعلیٰ عدلیہ کی بار بار توہین دیکھ کر تو سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف جو کہ عوام کے منتخب کردہ نمائندے تھے، ان کی طرف سے عدلیہ کے فل بنچ کے حکم پر''متنازعہ'' جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے اور بعد ازاں سپریم کورٹ کے فل بنچ کی طرف سے اپنے خلاف آنے والے نااہلی کے فیصلے کو بلا چوں و چراں تسلیم کرنے کے اقدام کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے کہ انہوںنے اکثریتی عوامی حمایت حاصل ہونے کے باوجود اور اپنے حق میں ملک گیر احتجاج بلکہ پہیہ جام کر دینے کی طاقت رکھنے کے باوجود نہ صرف عدلیہ کے حکم پر خود کو جے آئی ٹی کے روبرو پیش کیا بلکہ فل بنچ کی طر ف سے کمزور بنیادوں پر کئے گئے سخت فیصلے کو من و عن تسلیم کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے منصب کو خیر باد کہہ کر عدالت ِ عظمیٰ کے وقار کا جھنڈا مزید بلند کر دیا ۔جبکہ اس کے بر عکس آج خود اسی عدلیہ سے تعلق رکھنے والے وکلاء کا طرزِ عمل یقینا عوام کے اندر شدید مایوسی پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو قانون کے سبق پڑھاتے نہیں تھکتے لیکن خود اس قانون کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔عدلیہ کا تقدس مجروح کرنے والے ان وکلاء کوسابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی جیسے سیاستدانوں سے عدلیہ کا احترام سیکھنے کی ضرورت ہے۔حقیقت حال یہ ہے کہ اگر اس تمام صورتحال کے بعد اعلیٰ عدلیہ ان شر پسند اور قانون شکن وکلاء کے آگے ''بلیک میل'' ہوگئی اور عدلیہ نے وکلاء کی صفوں میں موجود ان کالی بھیڑوں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں نہ لائی تو آئندہ ملک کے عوام اس کو مثال بنا کر وزیر اعظم یا کسی بھی عوامی نمائندے کے خلاف ہونے والے عدالتی فیصلے کو ماننے سے اسی طرح انکار کر دیں گے اور عدالتوں کو دبائو میں لانے کے لیے ملک گیر سطح پر احتجاجی مہم چلا کر عدالتوں کو اپنے فیصلے واپس لینے پر مجبور کیا کریں گے ۔ذرائع ابلاغ کے توسط سے ملنے والی اطلاعات بہت افسوسناک اور حیران کن ہیں کہ قانون کے علمبردار یہ کالے کوٹ والے وکلاء کس دیدہ دلیری سے عدالتوں اور عوامی گزرگاہوںپر دہشت پھیلا رہے ہیں۔ ان کی زد سے معزز جج محفوظ ہیں، نہ صحافی اورپولیس و عدالتی اہلکار بلکہ ان سب کے ساتھ عوام بھی ان کی شرپسندی سے امان میں نہیں ہیں ۔ اس طرح کا طرز ِ عمل اگر کسی سیاسی جماعت کی طرف سے سامنے آتا تو اب تک سخت سے سخت ایکشن لیا جا چکا ہوتا اور نہ جانے کیا کیا طوفان بر پا ہو چکا ہوتا ، خود یہ وکلاء بھی اس لاقانونیت کے خلاف میدان میں نکل آئے ہوتے اور پورا ملک عدلیہ کے خلاف ہونے والے کسی بھی نوعیت کے عوامی احتجاج کے خلاف سینہ سپر ہوچکا ہو تا لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ خود کالے کوٹ والے قانون کو بے توقیر کر رہے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کی توہین در توہین کر رہے ہیں، معزز جج صاحبان کے احکامات ماننے سے صریح انکار کر رہے ہیں، ملک بھر میں لاقانونیت کے مظاہرے کر رہے ہیں، تو ان کے خلاف فوری اور بڑے پیمانے پر قانون کیوں حرکت میں نہیں آرہا ؟اس معاملے کو فل بنچ کی طرف سے اتنا سہل کیوں لیا جا رہا ہے؟ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے کہ عدلیہ اور جج صاحبان اس معاملے میں نرمی اور مفاہمت سے کام لے رہے ہیں!عوامی نمائندوں کے خلاف انگریزی ڈکشنری دیکھ کر انتہائی کمزور بنیاد پر اتنے بڑے فیصلے کہ وزیر اعظم تک کو گھر بھیج دیا گیا ، اس کے بر عکس ایک ملتان ہائی کورٹ بار کا صدر ان سے قابو کیوں نہیں آرہاجو کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق کُل وقتی وکیل بھی نہیں بلکہ اس کا اصل بزنس پراپرٹی کا ہے ۔عوامی سطح پر اس صورتحال کو عدلیہ کے دوہرے معیار سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔عوام کے اندر یہ تاثر پھیل رہا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اپنے پیٹی بند وکلاء بھائیوںکے ساتھ نرمی والا معاملہ کر رہی ہے اور یہ مسئلہ '' مٹی پائو'' پالیسی کے تحت حل کر لیا جائے گا۔عوام کے اندرایسا تاثر پھیلنا ، عدلیہ کی عزت اور وقار کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بن رہا ہے۔ اس لیے قبل اس کے کہ پانی سروں سے بلند ہو جائے، لاہور ہائی کورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ کو بلا تاخیر قانون کو حرکت میں لانا چاہئے اور عدلیہ کی توہین کرنے والے صدر ملتان ہائی کورٹ بار کو قرار واقعی سزا دینی چاہئے بلکہ ان کی حمایت میں عدالتوں کا بائیکاٹ کرنے والے اور عدلیہ کی توہین کرنے والے اس کے تمام شر پسند اور قانون شکن ساتھی وکلاء کو بھی عبرت ناک سزائیں دینا چاہئیںتاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ختم ہو جائے۔ بصورتِ دیگر اگر اس معاملہ کو افہام و تفہیم کی نذر کیا گیا اور اپنے پیٹی بندوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی اور رعایت برتی گئی تو پھر عوام بھی اپنے نمائندوں کے خلاف ہونے والے کسی بھی نوعیت کے عدالتی فیصلے کے خلاف میدان میں نکلنے پر حق بجانب ہوں گے۔