Get Adobe Flash player

شنگھائی کانفرنس میں صدر مملکت کے خطاب کی زبردست پذیرائی۔۔۔ضمیر نفیس

صدر مملکت ممنون حسین کا دورہ شنگھائی نہ صرف پاک چین تعلقات کے فروغ بلکہ ایشیائی ملکوں کے ساتھ باہمی تعلقات کے تناظر میں دور رس اثرات کا حامل ہے اگرچہ صدر مملکت کے دورے کا بنیادی مقصد ایشیائی ملکوں کے درمیان باہمی اعتماد سازی اور رابطوں کے فروغ کے موقع پر ہونے والی چوتھی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کرنا تھا لیکن کانفرنس سے خطاب کے علاوہ عالمی رہنمائوں سے ان کی ملاقاتیں اور اپنے چینی ہم منصب سے ان کے مذاکرات خطے کے مجموعی مفادات کے حوالے سے بے حد اہمیت کے حامل ہیں شنگھائی کانفرنس کی عالمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں روس کے صدر  ولاری میر پیوٹن ' چین کے صدر زی جن پنگ سمیت چوبیس ایشیائی ممالک کے سربراہ شریک ہوئے صدر مملکت کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون اور سری لنکا کے صدر سے بھی ملاقاتیں ہوئیں صدر مملکت کے دورے کا ایک اور اہم پہلو پہلی اردو چینی ڈکشنری کی افتتاحی تقریب میں شرکت تھی پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کو اگرچہ عالمی سطح پر بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے لیکن ایک دوسرے کی زبانوں سے ناآشنا ہونے کے باوجود یہ دوستی باہمی تعاون' ہم آہنگی اور دوطرفہ پرجوش جذبوں کا مظہر تھی اب دونوں ملکوں کی زبانوں کو فروغ ملے گا یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیجنگ یونیورسٹی میں شعبہ اردو طویل عرصہ سے قائم ہے۔ اب اردو چینی ڈکشنری باہمی رابطوں کے فروغ میں مزید کردار ادا کرے گی ڈکشنری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ممنون حسین نے بجا طور پر کہا کہ یہ ڈکشنری دوطرفہ تعلقات کے استحکام میں نمایاں کردار ادا کرے گی اور دونوں ملک درپیش چیلنجوں کا بہتر مقابلہ کر سکیں گے صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ملکوں کے شہروں' دیہاتوں اور قصبوں میں رہنے والے عوام ایک دوسرے کے ساتھ گہری محبت رکھتے ہیں ہمیں یہ محبت اگلی نسل کو منتقل کرنی ہے تاکہ تعلیم' ثقافت' فن یا میڈیا اور کھیلوں کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کی بنیادیں مزید مضبوط بنائی جاسکیں صدر نے کہا کہ  اس وقت جبکہ  دونوں ملک اپنے سفارتی تعلقات کی 63ویں سالگرہ منا رہے ہیں اردو چینی ڈکشنری کا اجراء ایک خوبصورت اور بامعنی اتفاق ہے ادھر شنگھائی کانفرنس سے صدر مملکت کے خطاب کو چین کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے نمایاںکوریج دی اور اس کی وجہ صدر مملکت کا وہ استدلال تھا جو ایشیائی ملکوں کے درمیان اعتماد سازی اور باہمی رابطوں کے حوالے سے ان کی تقریر کی کلید تھا انہوں نے کہا کہ آج ایشیاء کو بہت سے سیاسی اور اقتصادی مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے  جن میں دیرینہ سرحدی اور سیاسی تنازعات سرفہرست ہیں اسی طرح دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے مسائل بھی ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں  کے اثرات اور غربت کے معاملات سے بھی حرف نظر نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہا کہ اعتماد سازی کے  اقدامات اور تنازعات کا پرامن حل ہی اجتماعی سیکورٹی کے مقاصد کے حصول میں مدد فراہم کر سکتا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ ''سیکا'' ان مقاصد کے حصول کے سلسلے میں ایک مفید فورم ثابت ہوگا صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پاکستان ایشیاء میں پائیدار امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے ایشیاء میں ہم آہنگی ہی مقاصد کے حصول کی بنیادی کلید ہے تضادات اور اختلافات نہیں بلکہ تعاون اور قربتیں ایشیاء کے مفادات کے لئے ناگزیر ہیں اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی نئی حکومت کے ساتھ پاکستان مکالمے اور بات چیت کے لئے تیار ہے تاکہ باہمی دوستانہ تعلقات استوار ہوں اور پرانے مسائل حل کئے جاسکیں صدر نے افغانستان کے ساتھ پاکستان کے روایتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ  ماضی کی طرح پاکستان اس خطے کی تعمیر نو اور اس کے لئے افغان حکومت کے ساتھ مل کر ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔شنگھائی کانفرنس کے دوران صدر مملکت کی عالمی لیڈروں کے ساتھ ملاقاتیں بھی بہت مفید ہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کے موقع پر صدر ممنون حسین نے عالمی سطح پر امن وسلامتی اور جمہوری استحکام کے سلسلے میں ان کے کردار کو سراہا اور یہ واضح کیا کہ پاکستان کے عوام ملک میں جمہوریت کے استحکام اور معاشی مسائل کے حل کے سلسلے میں ان کے تعاون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے اسی طرح سری لنکا کے صدر مہندرا راجا پاکسے سے ملاقات کے دوران صدر نے دہشت گردی کے خاتمہ کے سلسلے میں سری لنکا کی کوششوں کی تحسین کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو آنے والے دونوں میں فروغ حاصل ہوگا۔شنگھائی کانفرنس میں صدر پاکستان کی شرکت اور ان کے خطاب کی پذیرائی اس امر کا اعتراف ہے کہ پاکستان میں جہاں جمہوریت مستحکم ہوئی ہے وہاں موجودہ حکومت کے دور میں اس کے ایشیائی کردار کو بھی وسعت ملی ہے اور عالمی و علاقائی سطح پر اسکی پالیسیوں اور کامیابیوں کو سراہا جارہا ہے پاکستان اور چین دونوں کی خارجہ پالیسی میں یہ قدر مشترک ہے کہ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور کشیدگی کے بجائے معاشی ترقی کے مقاصد کو اولیت دی جائے۔