Get Adobe Flash player

مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرکے آپریشن کا فیصلہ تشویش ناک !۔۔۔ریاض احمد چوہدری

  شمالی وزیرستان کے علاقوں میرانشاہ، ماچس کیمپ اور میرعلی بازار میںفورسز نے داخل ہو کر شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کیں جن میں انہیں لڑاکا طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی بھی مدد حاصل تھی۔ ماچس کیمپ میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں 4 شدت پسند مارے گئے جب کہ مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار بھی کر لیا گیا۔  فورسزکی حالیہ فضائی اور زمینی کارروائیوں میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 80 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں 75 سے زائد مشتبہ مقامی و غیر ملکی شدت پسند اور 4 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان کارروائیوں کے بعد علاقہ مکینوں نے محفوظ مقامات کی جانب ہجرت شروع کر دی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل سے دہشت گردی میں واضح کمی آئی لیکن شمالی وزیرستان میں فضائی بمباری سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جس سے دہشت گردی میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا۔ مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرکے حکومت کی طرف سے آپریشن کا فیصلہ تشویشناک ہے وہاں فوج کی زمینی کارروائی سے بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوگی جن کی آباد کاری میں مشکلات پیدا ہوں گی۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینئر سراج الحق نے بھی حکومت کو کہا  ہے کہ  طاقت کا استعمال مسائل کا حل نہیں بلکہ سارے مسئلے افہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت ساری قوم امن کی خوشخبری سننے کی منتظر تھی لیکن مرکزی حکومت کے فیصلوں نے نئے سوالات پیداکر دیئے ہیں۔ جنگ میںملک اور فوج دونوں کا نقصان ہے۔ میجر(ر) عامر نے کہا ہے کہ طالبان مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہیں مگر حکومت اور ادارے یکسو نہیں ہیں۔ طالبان کی سنجیدگی واضح ہے کہ انہوں نے غیر مشروط سیز فائر کیا۔ طالبان نے میڈیا کے خلاف بھی کوئی ایکشن نہیں لیا۔ ان کے بیانات میں بھی نرمی آئی۔ طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے سبزی منڈی کے حوالے سے کہا تھا کہ سویلین کو مارنا غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ہے۔ اب حکومت نے آپریشن شروع کر دیا ہے مگر طالبان نے ابھی مذاکرات ختم کرنے کا نہیں کہا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان  کے حکیم اللہ گروپ  کے کمانڈر حاجی دائود نے کہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان حکومت سے امن مذاکرات میں پوری طرح سنجیدہ ہیں ۔ٹی ٹی پی کے سربراہ  ملا فضل اللہ کی قیادت میں  ٹی ٹی پی کی شوریٰ  کے  حکومت سے  مذاکرات میں جو فیصلے ہونگے  ہمارا گروپ ان کی مکمل پابندی کرے گا۔ ہمارے  گرو پ کو  ملا فضل اللہ  کے کمانڈر خان سید سجنا کی برطرفی اور شیخ خالد حقانی کو قائمقام امیر بنانے کا فیصلہ قبول ہے۔ طالبان مذاکراتی کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مولانا یوسف شاہ نے کہا ہے کہ طالبان ہر وقت مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن حکومت سستی کا مظاہرہ کررہی ہے۔ مذاکرات میں ڈیڈلاک نقصان دہ ہے۔ طالبان نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ حکومتی سمیت  مذاکراتی عمل ڈیدلاک کا شکار ہے۔ اس سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا امن کا حصول صرف مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ ڈیڈلاک ختم کرنے کے لئے حکومت کو بار بار یاد دہانی کرائی گئی لیکن حکومت نے ہماری درخواست پر کوئی ردعمل نہیںدیا۔ مذاکرات میں تاخیر سے صورتحال مزید خراب ہو گی اور معاملات مزید بگڑیں گے۔ طالبان شورٰی سے ملاقات کے لئے طالبان سے رابطہ کیا ہے۔وزیرستان میں فوجی کارروائی کے بعد سے کالعدم تحریک طالبان دباؤ کا شکار ہے۔  مذاکرات مخالف طالبان گروپ نے طالبان شوری پر مذاکرات ختم کرنے کے لیے دباؤ بڑھا دیا ہے۔طالبان کے اہم کمانڈر روپوش ہوچکے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے امیر مولوی فضل اللہ کو بھی شمالی وزیرستان آنے سے روک دیا گیا ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ طالبان کے مہمند اور باجوڑ ایجنسی گروپ نے حکومت کے ساتھ ہونیوالے مذاکرات کے خاتمے کا اعلان کردیا۔ کالعدم تحریک طالبان باجوڑ ایجنسی کے امیر یوسف رضا مجاہد نے اعلان کیاکہ اب حکومت کے ساتھ جنگ کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہر جگہ خودکش بمبار بھیجیں گے اور عوام کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو بازاروں اورسرکاری املاک سے دور رکھیں۔  میڈیا کے نمائندوں پر کوئی پابندی نہیں اور تحریک طالبان کے نام بھی ہمارا یہ پیغام ہے کہ وہ میڈیا کے ساتھ رابطے میں رہے۔کچھ عرصہ قبل وزیراعظم محمد نواز شریف نے طالبان سے مذاکرات کیلئے چار رکنی کمیٹی قائم کرتے ہوئے کہا  تھا کہ امن کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں، دہشت گردی کی کارروائیاں فوراً بند کی جائیں کیونکہ مذاکرات اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، صرف ہتھیار ڈالنے والوں سے بات ہوگی۔اگر مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کا کوئی حل نکل سکتا ہے تو حکومت کے اس فیصلہ پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن ہمیں زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہئیے اور ان حقائق کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس سے خون خرابہ ختم ہو گا اور ملک میں امن قائم ہو سکتا ہے اور طالبان قومی سیاسی دھارے میں بھی آسکتے ہیں مگر  طالبان کو بھی امن کی اس خواہش کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھنا چاہئیے۔ لگتا ہے کہ حکومت واقعی طالبان سے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں  اسی لئے تو وزیرستان میں آپریشن شروع کیا گیا ہے۔