لاہور میٹرو ٹرین منصوبہ ترقی کے نئے سفر کا آغاز۔۔۔عابد محمود عزام

لاہور میں ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر کی لاگت سے ملک میں پہلا میٹرو ٹرین منصوبہ شروع کرنے کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ طے پاگیا ہے۔ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف اور چین کے ترقیاتی اصلاحات سے متعلق قومی کمیشن کے چیئرمین نے شنگھائی میں اس معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستانی صدر ممنون حسین اور ان کے چینی ہم منصب شی جن پنگ بھی دستخطوں کی تقریب میں موجود تھے۔ منصوبے کواورنج لائن میٹرو ٹرین کا نام دیا گیا ہے، جو رواں سال کے آخر میں شروع اور سوا دو سال میںمکمل ہو گا۔ میٹروٹرین کا ٹریک 27.1کلومیٹرطویل ٹھوکر نیاز بیگ سے ڈیرہ گجراں تک ہو گا، جس کا زیادہ تر حصہ یعنی تقریبا 25 کلومیٹر کا حصہ فلائی اوورز پر بنایا جائے گا۔ منصوبے کے لیے سرمایہ کاری اور کام کی نگرانی چین کرے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ میٹرو ٹرین منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد پراجیکٹ ہے، جو ملک کی تاریخ میںاہم سنگ میل ثابت ہوگا اور آمد و رفت کے نظام میں انقلاب لائے گا۔ اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبہ ہمارے عوامی خدمت کے ایجنڈے کا حصہ ہے، جسے تیز رفتاری، شفافیت اور اعلی معیار کے ساتھ مقررہ مدت کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ میٹروٹرین منصوبے کا دائرہ کار بھی دیگر بڑے شہروں تک بڑھایا جائے گا۔ لاہور اور نج لائن میٹرو ٹرین کے آغاز میں روزانہ تقریبا اڑھائی لاکھ شہری سفر کریں گے اور2025 تک مسافروں کی تعداد بڑھ کر پانچ لاکھ ہوجائے گی۔ملک میں میٹرو ٹرین کا منصوبہ ایک قابل تحسین اور قابل قدر منصوبہ ہے۔ اس قسم کے منصوبے ہر ملک کی ضرورت ہیں۔ آج کے دور میں اس ملک کو ترقی یافتہ ملک نہیں تصور کیا جاتا، جہاں ٹریفک کا جدید نظام موجود نہ ہو۔ کسی بھی ملک کے ٹریفک کا نظام اس کی معاشی اور سماجی خوشحالی کا مظہر سمجھا جاتا ہے۔ آج دنیا کے تمام بڑے شہروں میں زیر زمین ریلوے نظام میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت ہے، مگر اس کے باوجود یہ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم ابھی تک ریلوے نظام میں ترقی کرنے اور اس میں جدت لانے کی بجائے اسے صحیح طریقے سے برقرار بھی نہیں رکھ سکے ۔ پاکستان میں انگریز دور کے بچھائے گئے ریلوے ٹریک میں گزشتہ چھ دہائیاں گزرنے کے بعد بھی ہم اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرسکے۔ کراچی میں ایک عرصہ قبل سرکلر ریلوے کا نظام شروع کیا گیا تھا اور روزانہ ہزاروں لوگ اس سے افادہ حاصل کر رہے تھے، مگر بعد میں حکومت اسے جاری نہ رکھ سکی۔ملک بھر میں ہمارا جو ریلوے سسٹم اب چل رہا ہے اس کی حالت بھی قابل رحم ہے، جسے بہتر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ آج پاکستان کے تقریبا تمام بڑے شہروں میں گاڑیوں کی تعداد میں ہوشربا اضافے کے باعث ٹریفک کا دبا بڑھتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں ٹریفک کی حالت زار دیکھنا ہو تو کراچی کی ٹریفک کو دیکھا جاسکتا ہے، جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دبائو کے پیش نظر ہمیں بہت پہلے ہی ملک بھر میں جدید طرز کے میٹرو ریلوے سسٹم کو متعارف کروادینا چاہیے تھا، جو کہ مہنگائی کے اس دور میں ایک عام آدمی کے لیے یقینا مفید ہے۔ان حالات میں جدید طرز کے میٹرو ٹرین سسٹم کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔ دنیا میں اس قسم کے منصوبے بہت پہلے سے شروع کیے جاچکے ہیں۔ دنیا میں انڈر گرائو نڈ ریلوے کا نظام سب سے پہلے انگریزوں نے 1863میں برطانیہ میں لندن انڈر گرائونڈ ریلوے سسٹم کے نام سے بنایا، جو آج تک بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔ فرانس میں اس انڈر گرائونڈ ریلوے سسٹم کو میٹرو کا نام دیا گیا۔ اسی طرح یہ نظام امریکا کے بڑے شہروں میں بھی بہت کامیاب رہا ہے۔ ان ممالک میں نہ صرف عوام بلکہ وزرااور امرابھی زیر زمین چلنے والی ٹرینوں میں سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ یہ سفر محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ آرام دہ بھی ہے۔ آج کے دور میں کسی ملک کے ترقی یافتہ ہونے کا اندازہ اس ملک کے انڈر گرائونڈ یا میٹرو ریلوے سسٹم سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہانگ کانگ، سنگاپور، بنکاک اور دہلی جیسے شہر جنہوں نے بعد میں اس ریلوے نظام کی ابتدا کی اور وہ جگہ کی قلت کی وجہ سے انڈر گرائونڈ نہیں بنا سکے، انہوں نے اسے اوور ہیڈ برج کی طرز پر بنایا اور یہ سسٹم وہاں بڑی کامیابی سے چل رہا ہے۔اگر غور کیا جائے تو ہمارا ملک ترقی میں دنیا سے بہت ہی پیچھے ہے، جو کام ہمیں بیس سال پہلے کرنا چاہیے تھا ،وہ کام ہم آج کر رہے ہیں۔ ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ملک بھارت نے دارالحکومت دہلی میں 2002میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے دور میں دو ارب پچیس کروڑ ڈالر کی لاگت سے بننے والی زیر زمین میٹرو ریل کا افتتاح کردیا تھا۔ اس وقت اس میٹرو ٹرین کا یک طرفہ کرایہ صرف سات روپے رکھا گیا تھا، جبکہ اس سے بھی دو عشرے قبل یعنی 1982 میں بھارت نے کلکتہ میں زیر زمین میٹرو ٹرین متعارف کروا دی تھی، جس کی 28 کلو میٹر مسافت کی تکمیل 1984 میں ہوئی تھی۔ اس وقت سے بھارت میں میٹرو ٹرین مستقل اور بہتر انداز میں عوام کی خدمت میں مصروف ہے، جس سے نہ صرف یہ کہ بھارت میں کاروں اور بسوں میں کمی آئی ہے، بلکہ آلودگی بھی کم ہوئی ہے، جس سے بھارت کو صاف فضا ملی ہے۔ اسی طرح 9 ستمبر 2009 کو 8 ارب ڈالر کی لاگت سے 4 سال کی قلیل مدت میں گلف ریجن کی پہلی آٹومیٹک میٹرو ٹرین کا افتتاح دبئی میں کیا جاچکا ہے۔ بغیر ڈرائیور کے چلنے والی اس ٹرین کی اس وقت رفتار 110 کلو میٹر فی گھنٹہ تھی، دبئی میں 52 کلو میٹر لمبی اور 29 اسٹیشنز پر مشتمل دبئی میٹرو کا 25 فیصد حصہ انڈر گرائونڈ اور 75 فیصد حصہ اوور ہیڈ برج پر بنایا گیا تھا، جو کہ دبئی میٹرو حکام کے مطابق 2020تک میٹرو کے ذریعے روزانہ ساڑھے چار ملین مسافروں کو لے جانے کا منصوبہ تھا۔پاکستان نے جس چین کے ساتھ میٹرو ٹرین کا معاہدہ کیا ہے، وہی چین اس شعبے میں شاید ساری دنیا کو ہی مات دے چکا ہے۔ چین تو کچھ سال قبل چین سپر ہائی اسپیڈ ٹرین کا آغاز بھی کرچکا ہے، جو کہ 500 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ یہ برق رفتار ٹرین روٹ اب تجارتی سرگرمیوں کے مرکزی شہر گوانگ ژو سے محض آٹھ گھنٹوں میں مسافروں کو دارالحکومت بیجنگ تک پہنچا دے گی۔ ان دونوں شہروں کا درمیانی فاصلہ قریب تین ہزار کلومیٹر ہے۔ اس کے باوجود کہ چین میں ٹرینوں کے ہائی اسپیڈ نیٹ ورک کو کئی مسائل کا سامنا ہے، یہ شعبہ ترقی کرتا جا رہا ہے۔ چین میں تیز رفتار ریل گاڑیوں کا نیٹ ورک 2007میں قائم کیا گیا تھا، مگر یہ انتہائی تیزی سے اس ضمن میں دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک بن گیا ہے۔