پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کاعروج۔۔۔میاں انوارالحق رامے

پاکستان کے پہلے چیف جسٹس سرعبدالرشید اپنی ذات میں بے مثال اور چیف جسٹس ایگزیٹو وزیراعظم لیا قت علی خاں سے لاتعلقی میں با کمال تھے ۔انھوں نے ہمیشہ سماجی رابطوں سے پرہیز کیا تھا کہ کہیں حکومت اور عدلیہ کے درمیاں تعلقات کے بندھن کی وجہ سے غیر جانبداری پر حرف نہ آجائے ۔1953ء میں اُس وقت گورنر جنرل غلام محمد نے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو نااہل قراردینے کے ساتھ پہلی دستور ساز اسمبلی کو گھر کا راستہ دکھا یا تو سپیکر مولوی تمیز الدین نے غلام محمد گورنر جنر ل کے اس آمرانہ فیصلہ کو سندھ ہائی کورٹ میں جس کے چیف جسٹس سرجارج انسٹٹائن تھے چیلنج کردیا تھا ۔عدالت نے بیورو کریٹ گورنر جنرل کے فیصلے کو یکطرفہ قرا ر دیتے ہوئے منسوخ کردیا تھا ۔اس منسوخی کے خلاف مارچ 1955ء کو فیڈرل کورٹ میں چیلنج کردیا ان دنوں وفاقی کورٹ کے مدارا لمہام جناب چیف جسٹس محمدمنیر تھے ۔جنہوں نے گورنر جنرل کے حق میںفیصلہ دے کر پاکستان میں جمہوریت کے پودے کو زہر آلود کردیا یہ موڑ پاکستان کی عدلیہ اور جمہوریت کے زوال کا آغاز تھا ۔اس سانحہ عظیم کے بعد آنے والے فوجی آمروں اور حکمرانوں کے مقابلے میں عدلیہ نے عملاََ ہتھیار ڈال دیئے تھے ۔1958ء میں سکندر مرزا نے آئین کو منسوخ کرکے ملک میں پہلے مارشلاء کی بنیاد رکھ دی ۔اس وقت بھی قوم کی بدقسمتی تھی کہ جسٹس منیر چیف جسٹس کے عہدہ جلیلہ پر فائز المرام تھے ۔موصوف نے اسکندر مرزا اور جنرل ایوب خاں کو اپنے قیمتی مشوروں حمایت ،تعاون سے نوازا تھا ۔جسٹس منیر نے ایک بار پھر جنرل ایوب خاں کے مارشلاء کو جائزقرار دے کر ملک میں آئین شکنی کی روایات کو فروغ دینے کیلئے اپنا کردار ادا کیا تھا ۔جسٹس منیر کے نامہ اعمال میں 1955ء میں قومی اسمبلی کی تحلیل کو جائز قرار دینا ،1958میں مارشلا ء کے نفاذ کو درست قرار دینا اور 1956ء کے دستور کی منسوخی پر مہر تصدیق ثبت کرنا شامل ہیں ۔ان غیر مدبرانہ اور غیر آئینی فیصلوں کے بعد پاکستان میں جمہوریت اور آئین کی حکمرانی کے تصورات کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیا گیا تھا ۔ان فیصلوں کے بعد پاکستان میں جمہوریت اور جمہوری ادارے کبھی مستحکم نہ ہوسکے اور ملک میں ایسا بحران پیدا ہو کہ جس سے ملک دولخت ہوگیا ۔جنرل محمد ایوب خاں اعلیٰ ججوں کے انتخاب میں خود دلچسپی لیتے تھے ۔فوجی آمروں کے ہاتھوں ججوں کی بے قیر ی کاتماشا پوری دنیا نے دیکھا تھا ۔اس ساری غیر منصفانہ صورت حال کی ذمہ داری جناب چیف جسٹس محمد منیر اور ان کے ساتھی ججوں پر عائد ہوتی ہے ۔جنرل ایوب خاں نے اپنے حامی لوگوں کو جج بنایا اور اپنے وزیر خارجہ کو مغربی پاکستان ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بنانے کا بھی کار نامہ سرانجام دیا تھا ۔پاکستان میں دوسرا باضابطہ مارشلاء 1969ء میں جنرل یحییٰ نے مسلط کیا ۔1971ء میں مشرقی پاکستان بنگلادیش بن گیا۔1972 ء میں سپریم کورٹ پاکستان نے یحییٰ خاں کے مارشلا ء کو ناجائز اور یحییٰ خاں کو غاصب قرارد یا ۔1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے تیسرے طولانی مارشلاء کی بنیاد رکھی اور 1973ء کے آئین کو منسوخ کرنے احتراز کیا ۔جنرل ضیاء الحق کو بھی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن ضیاء الحق نے پہلے چیف جسٹس کو ناقابل اعتبار سمجھتے ہوئے عہدہ سے الگ کرکے نئے چیف جسٹس انوارالحق کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنادیا ۔جنہوں نے مارشلاء کو نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دے دیا ۔فوجی آمر کو آئین میں ترمیم کا اختیار بھی تفویض کردیا ۔جس کے بعد ضیا ء الحق نے اپنی منشاء خواہش اور ضرورت کے مطابق آئین کا مکمل طور پوسٹ مارٹم کردیا ۔18اٹھارویں ترمیم کے ذریعے آئین کی کایا کلپ کرکے اسے 1973ء کے آئین کے مطابق ڈھالنے کی دانشمندانہ کوشش کی گئی ہے ۔1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے ماروائے اقدام کرتے ہوئے فوجی انقلاب بر پا کردیا اور ایمر جنسی کے نام پر پاکستان پر چوتھا مارشلاء مسلط کردیا ۔انہوں نے اعلیٰ عدلیہ کے 18ججوں جن میں چیف جسٹس بھی شامل تھے DCOپر حلف اٹھانے کا حکم صادرکیا ،انکار پر ان سے نجات حاصل کرلی ۔اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق نئے ججوں کو بھرتی کیا گیا ۔نئے چیف جسٹس ارشاد حسن خاں نے جنرل پرویز مشرف کے ماروائے آئین اقدام کو رسوائے زمانہ نظریہ ضروریا ت کے تحت نہ صرف جائز قرا ردیا بلکہ سپریم کورٹ نے بن مطالبہ کئے فوجی غاصب کو آئین میں ترمیم کرنے کے اختیارات سے بھی لیس کردیا ۔جسٹس افتخار چوہدری  کے چیف جسٹس  بننے کے بعد حالات میں واضح تبدیلیوں کے اثرات محسوس کئے ۔چیف جسٹس نے عدالت کی عظمت رفتہ کو بحال کرتے ہوئے ازخود نوٹسز لیکر عوامی مسائل کو حل کرنے کی مقدور بھر کوشش شروع کردیں ۔عدلیہ پاکستان میں سب سے زیادہ فعال ادارہ بن گیا ۔جنرل پرویز مشرف کو یہ بات گوارا نہیں تھی کہ ان کے عزائم کے سامنے کوئی ادارہ کھڑا ہو کر اس کے اقدامات کو للکارے ۔چیف جسٹس  پاکستان افتخار چوہدری نے جب سٹیل مل کی نجکاری اور سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ افراد کے واقعات کا ازخود نوٹس لینا شروع کردیا تو جنرل مشرف کی انا کا غبارہ پھٹ گیا ۔جنرل نے اپنے اختیارات کو چیلنج کرنے والے چیف جسٹس کو آرمی ہاؤس میں طلب کرکے حاکمانہ انداز میں دباؤ ڈالنا شروع کردیا اور زبر دستی جنرلوں کی موجود گی میں استعفیٰ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کی ۔پاکستان کی تاریخ کا یہ ایک یادگار لمحہ تھا ۔چیف جسٹس کے انکار نے عدلیہ کی تاریخ میں ایک سنہری باب کا اضافہ کردیا ۔چیف جسٹس کے دلیرانہ انکار نے وکلاء کی صفوں ،سیاسی کارکنان کے دلوں ،سماجی رہنماؤں کے کردار و عمل میں فوجی حکومت کے گستا خانہ عمل کے خلاف بجلیاںبھردی تھیں ۔جنرل پرویز مشرف 3نومبر 2007ء کو اپنی سیاہ تختی کو جلا بخشنے کیلئے ایمر جنسی کا نفاذ کردیا اور عملاََ ملک کو پانچویں مارشلاء کے سپرد کردیا ۔چیف جسٹس سپریم کورٹ اور اعلیٰ ججوں کو مجبور کیا کہ وہ غیر آئینی PCO کے تحت حلف اٹھائیں ،چیف جسٹس کی سربراہی میں پہلے ہی ایمر جنسی کے نفاذ کو غیر آئینی و غیر قانونی قرار دے دیا گیا ۔جنرل پرویز مشرف نے ججوں اور ان کے اہل خانہ غیر قانونی پر محبوس کرلیا تھا لیکن چیف جسٹس اور ان کے قابل فخر ساتھی جج اپنے مضبوط قدموں پر قائم رہے ۔وکلا ء کی بے مثال قربانیوں ،سیاسی کارکنان کی جرأتوں اور سماجی رویوں کی محبتوں نے اعلیٰ عدلیہ کو بحال کروانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے پہلا حکم ججوں کی رہا ئی کا دیا تھا  ۔چیف جسٹس چوہدری افتخار کے بعد بھی پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں تاریخ رقم کررہی ہیں ۔عالمی جوڈیشل کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے عالی شان چیف جسٹس تصدق حسین گیلانی نے کہا کہ عدلیہ ہر صورت میں پاکستان کے آئین کا تحفظ کرے گی ۔اور موجودہ حالات میں قانون کی بالا دستی کیلئے اس کو اہم کردار بھی ادا کرنا ہوگا ۔انھوں نے فرمایا کہ تین سال کی طویل اور کٹھن جدو جہد کے بعد عدلیہ نے آزادی حاصل کی ہے ۔2007ء کے بعد عدلیہ کی کوششوں اور وکلاء کی قربانیوں کے نتیجے میں ایک جاندارفعال نئی سپریم کورٹ نے جنم لیا ہے ۔سپریم کورٹ نے آئین سے انحراف کے دروازے بند کردیئے ہیں ۔