قومی سلامتی کمیٹی نے قومی جذبوں کی ترجمانی کی۔۔۔ضمیر نفیس

قومی سلامتی کمیٹی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی کا جس موثر انداز میں تجزیہ پیش کی ہے اور جس طریقے سے پاکستان پر صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کیا ہے بلاشبہ اسے پوری قوم کے جذبات و احساسات سے تعبیر کیا جاسکتا ہے وزیر اعظم کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں چار گھنٹے تک مذکورہ افغان پالیسی کے مختلف پہلوئوں اور اس کے بس منظر میں مخصوص عزائم کا جائزہ لیا گیا کمیٹی کے اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ، پاک فضائیہ اور بحری افواج کے سربراہوں ، قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان وزیر دفاع خرم دستگیر، وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ احسن اقبال سمیت اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی نے پاکستان کے خلاف مخصوص الزامات مسترد کردئیے اور کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان کے ذاتی مفاد میں ہے افغانستان پاکستان کا قریبی ہمسایہ ہے افغان بحران میں پاکستان نے افغان بھائیوں کی مدد کی جس کے نتیجے میں پاکستان کو افغان مہاجرین کا بھاری بوجھ برداشت کرنا پڑا کمیٹی میں کہا گیا کہ مشرقی افغانستان میں دہشتگردوں نے اپنی پناہ گاہیں قائم کیں پاکستان مخالف دہشتگرد سرحد پار سے کارروائی کرتے ہیں یہ گھمبیر صورتحال پاکستان ہی نہیں عالمی برادری کیلئے بھی چیلنج ہے پاکستان نے افغانستان میں امن و استحکام کی عالمی کوششوں کا ساتھ دیا ہے کمیٹی میں کہا گیا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا کر افغانستان مستحکم نہیں ہوسکتا اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کو منشیات اور اسلحہ کی نقل و حمل جسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس کے باوجود اس نے افغانستان میں سماجی بہبود کیلئے ایک ارب امریکی ڈالر خرچ کئے مفاہمتی عمل کے ذریعے امریکہ اور افغانستان کا ساتھ دیا افغانستان میں فوجی کارروائی ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کا باعث بنی افغانستان میں استحکام کی کسی بھی پالیسی میں مہاجرین کی واپسی اہم ہے پاکستان اس کیلئے تیار ہے۔قومی سلامتی کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ امریکہ افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کرے اور افغان سرحد سے دہشتگردی کرنے والوں کو سامنے لایا جائے افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جاسکتی پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشتگردوں کے خلاف بلا تفریقن کارروائی کی ماضی میں دہشتگردی کے خلاف امریکہ سے تعاون ہمارے عزم کا عکاس ہے امریکہ امداد کے بجائے ہماری کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرے ہماری معیشت کو اس جنگ میں ایک سو بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کیلئے پر عزم ہے ہمسائے بھی اپنی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کا دعویٰ سراسر حقائق کے منافی ہے امریکہ سے افغان آپریشن کیلئے زمینی اور فضائی سہولت میں مدد کی امریکہ نے اس پر پاکستان کو کوئی مالی امداد یا معاونت فراہم نہیں کی۔قومی سلامتی کمیٹی نے خطے میں امن تباہ کرنے کی بھارتی پالیسیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ بھارت ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہے وہ دہشتگردوں کو ریاستی پالیسی کے طور پر استعمال کررہا ہے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگردی کی مذمت کرتا ہے یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی قوت ہے اور اس کا کمان اینڈ کنٹرول نظام بہت مستند ہے جس کا عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا گیا ہے۔قومی سلامتی کمیٹی کے ذریعے پاکستان کی جمہوری وعسکری قیادت نے امریکہ کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کو کسی امداد کی نہیں اعتماد کی ضرورت ہے امریکہ افغانستان میں دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے فوری کردار ادا کرنا چاہیے لیکن افغانستان سے باہر یہ جنگ نہیں لڑی جاسکتی تاہم پاکستان امن عمل میں تمام ممالک سے تعاون کرسکتا ہے پاکستان مخالف دہشتگردوں کی افغانستان میں موجودگی اور بھارت کی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے بھی ٹھوس حقیقت پسندانہ موقف اختیار کیا گیا ہے۔