سائبر جرائم اور سماجی زندگی۔۔۔حمیرا اسلم

جدیدیت اور ماڈرنزم کے اس تیزرفتار اور ترقی یافتہ دور میں گذشتہ کی برس سے یہ تیسری دنیا اس رفتار سے آگے بڑھتی رہی ہے کہ ذاتی زندگی کی اہمیت کم اورسماجی زندگی کی اہمیت خونی رشتوں سے کہیں پرے نظرآنے لگی ہے۔ دنیاکی تاریخ میں جتنے بھی معاشرے گزرے سب نے اپنے وقت کی اہمیت کا اہم جز اپنے ماں باپ بھائی بہن اور دیگر عزیزواقارب کو سمجھا مگر آج کی دنیا کا حال قدرے مختلف ہے  کیونکہ آج ایک بشر کی زندگی اس قدر تغیرات کا شکارہوچکی ہے کہ قریبی رشتوں سے زیادہ سماجی رشتوں کی قیمت معنی رکھنے لگی ہے ۔ زندگیاں اتنی ردوبدل کا شکار ہوچکی ہیں کہ ماضی میں جہاں کسی کی میت پر تعزیت کرنے مرحومین کے گھر جایاکرتے تھے آج سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر تعزیتی پیغام لکھ کر فرض کی ادائیگی کردیتے ہیں ۔ اس قدر سفید خونی کا عالم برپا ہوگیاہے کہ کل کا خاندان آج کا فیس بک اکائونٹ بن گیا ہے۔ سماجی زندگی اس قدر ضروری جز بن گئی ہے کہ انسان اپنی حیات کا نصف سے زائد حصہ ان سماجی رابطوں کی نیٹ ورکنگ ویب سائیٹس پرگزار دیتا ہے ، اب جو بھی کوئی تقریب یا کوئی واقعہ یا قصہ یا کوئی کہانی غرض کے عام انسانی زندگی میں رونما ہونے والے حالات و واقعات کو گھر والوں کو بتانے سے قبل فیس بک وغیرہ پر پوسٹ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔معاشرے کے اس تغیر کی بدولت جہاں اپنے پیاروں سے جو غیر ملکی ہیں ان سے روابط قائم رکھنا آسان ہو گیا ہے وہیں روزمرہ یا کسی خاص موقع پر لی جانے والی تصاویرکا ان اکائونٹس پر شیئر کردینا بھی وقت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک جدید کلچر بن گیا ہے ، اس سے دوست احباب اپنے پیاروں کو دیکھ تو باآسانی سکتے ہیں مگر آج کے جھوٹ، دھوکے، فریب، بے راہ روی اور عجیب نفسا نفسی کے عالم میں یہ انتہائی غیر جانب دار عمل بن چکا ہے، آج ان ہی ذاتی تصویروں اور ذاتی معلومات کی عوض یا یوں کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ آج کے زمانے میں کسی بھی انسان کی کوئی بھی چیزذاتی رہی ہی نہیں ہے، ان تصاویر کا غیر قانونی اور غلط طریقے سے استعمال کرتے ہیں ، لوگ ایک دوسرے کے ذاتی فیس بک ا کائونٹس ، جی میل اکائونٹ، انسٹاگرام وغیرہ ہیک کرکے انہیں بلیک میل کرتے ہیں باقاعدہ ایک منظم اور سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت لوگوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، ان سے پیسے کا حصول کیا جاتا ہے ، خصوصا لڑکیوں کی آئی ڈیز کو زیادہ سے زیادہ ہیک کیا جاتاہے اور بنتِ حوا کی عزت کے بھوکے انسانی روپ کے بھیڑیے انکی عزت کو پامال کرنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑتے۔اس جدت کی انتہا سے بہتر تو برسوں قبل کی وہ پتھر کی زندگی تھی کہ جہاں کم ازکم لڑکیوں، عورتوں اور بچیوں کی عزت تو محفوظ تھی، جو کہ آج انتہائی غیر محفوظ ہو کر رہ گئی ہے۔دنیا میں بڑھتے ہوئے سائبر جرائم کی شرح حد سے تجاوز کرنے لگی ہے آج نہ صرف ایک عام انسان بلکہ ملک کے بڑے بڑے سیاستدان کے بھی اکائونٹس بھی ہیک کردیے جاتے ہیں حال ہی میں پی ٹی آئی کے رکن کی بھی آئی ڈی ہیک کرلی گئی ، کون ہے جو ان افعال کی سرپرستی کر رہا ہے ، کون ہے اس غیرقانونی فعل کو ہوا دے رہا ہے ، ملکِ خداداد میں بھی سائبر کرائم کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوگیاہے، آئے دن رجسٹرڈ شکایتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے ، مگر مجرموں کا پتہ سرکاری ادارے بھی نکالنے میں کہیں کہیں ناکام رہے ، حکامِ بالا سے اس تحریر کے ذریعے یہی سوال عرض ہے کہ اس قسم کے جرائم کا خاتمہ کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ حکمتِ عملی بنائی جائے کہ عوام اس قسم کی زحمتوں سے بچ سکے۔ اور سائبر کرائم کے چند قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔