Get Adobe Flash player

ٹرمپ کیلئے پرکشش' افغانستان میں اربوں ڈالر کی معدنیات۔۔۔ضمیر نفیس

ڈونلڈ ٹرمپ یوٹرن کے معاملے میں اپنے کپتان سے خاصے ملتے جلتے ہیں مسلسل یہ کہتے رہے کہ ہمیں افغانستان سے جان چھڑانی ہے پہلے ہی ہم اس سرزمین پر اربوں ڈالر خرچ کر چکے ہیں مزید نقصان نہیں اٹھا سکتے لیکن اچانک انہوں نے جنگ جیتنے کا فیصلہ کرلیا اور یہ استدلال دیا کہ ہمارے جانے سے جو خلاء پیدا ہوگا اسے دہشت گرد پر کریں گے دہشت گردوں کے لئے جگہ نہیں چھوڑیں گے۔سوال یہ ہے کہ اچانک جیت کا جنون کیسے پیدا ہوگیا سولہ برسوں کی ناکامیوں سے سبق سیکھنے کی بجائے مزید ذلت اٹھانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا اگر ایک لاکھ سے زائد امریکی اور نیٹو فوجی  جدید سامان حزب کے باوجود فتح نہیں دے سکے تو اب کون سا جادو کا چراغ مل گیا ہے کہ جسے رگڑتے ہی جن حاضر ہو کر کامیابی کو پائوں میں ڈھیر کر دے گا ائیر فورس تو پہلے بھی استعمال ہوتی رہی ہے ائیر فورس ہی نے تورا بورا کی پہاڑیوں کو  ریزہ ریزہ کر دیا تھا مزید استعمال ہوگی تو سوائے مزید ہلاکتوں کے اور کیا دے گی۔لیکن بات اتنی سادہ نہیں ہے ٹرمپ سیاستدان کم اور کاروباری زیادہ ہے کاروباری بھی ہے امریکی کیمیکل کمپنی کے چیف ایگویکٹو نے چند روز قبل ٹرمپ کو بتا کر حیران کر دیا کہ افغانستان میں کھربوں ڈالر کی معدنیات موجود ہیں کچھ چینی کمپنیاں ان سے استفادہ کر رہی ہیں ہم  نے افغانستان میں بہت زیادہ خسارے کی سرمایہ کاری کی ہے ان معدنیات پر امریکہ کا بھی حق ہے۔ادھر جب چولیس مسلم ممالک کے لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ ریاض پہنے تو افغانستان کے صدر اشرف غنی نے وہی انداز اختیار کیا جو مزارعہ جاگیردار کے لئے ہی انجام دیتا ہے حضور والا آپ نے افغان عوام کے لئے بہت کچھ کیا ہے ہمیں خوشی ہوگی  کہ اگر ہم آپ کی خدمت کر سکیں کھربوں ڈالر کی معدنیات پر آپ ہی کا تو سب سے زیادہ حق ہے' اشرف غنی  کے اس وار نے جادو کا کام دکھایا ٹرمپ نے یوٹرن لے لیا جیت کا فیصلہ کرلیا افغانیوں کے دل بے شک نہ جیت سکے افغان سرزمین پر بے شک مضبوط قبضہ نہ جماسکے۔ معدنیات جیتنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی اور پھر جب مسابقت میں چین ہو تو امریکیوں کے اضطراب کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے افغانستان  پر ہمارا حق ہے چین کون ہوتا ہے اس کے خزانوں سے استفادہ کرنے والا اشرف غنی سے لے کر ہلمند کی معدنیات تک سب کچھ ہمارا ہے اشرف غنی کی ملازمت مزید پکی ہوگئی البتہ عبداللہ عبداللہ کا مستقبل کوئی نہیں' معدنیات کے حصول کے مزید راستے اشرف غنی بتائے گا امریکیوں کو اس نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا ہے معدنیات کی کانوں کی طرف بڑھیں گے تو طالبان کی مار پڑے گی اور کانوں کو ہاتھ لگائیں گے عراق میں داخل ہونے کے لئے امریکیوں کے لئے امریکیوں نے کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا ڈرامہ رچایا تھا جارحیت کرنے کے بعد جب عراق کو چھان مارا تو ایک بھی ہتھیار نہ ملا اعلان ہوا کہ سی آئی اے نے غلط رپورٹ دی تھی کیمیائی ہتھیار تو موجود نہیں ہیں لیکن اب ایک اور عظیم خدمت سرانجام دینی ہے عراق کو صدام آمریت سے نجات دلانی ہے عراقی عوام کو جمہوریت کی روشنی سے منور کرنا ہے۔ یہ ہے سپر پاور اور اس کی اخلاقیات ملکوں میں داخل ہو کر وہاں اپنی مرضی کا نظام لاگو کرنا ہے آمریت ختم ہوگئی مگر عراق میں جمہوریت کی جگہ دہشت گردی نے ڈیرے ڈال لئے اور امریکہ نے تیل لوٹنے کی کامیاب حکمت عملی استعمال کی۔افغانستان میں آمریت نہیں ہے مگر معدنیات تو ہیں اس دھرتی پر لاشیں گرانے پر جو خرچ اٹھا ہے اسے بھی تو وصول کرنا ہے' ٹرمپ کاروباری آدمی ہے اس نے فائدے کے حصول کا نسخہ بنا لیا ہوگا امریکی فوجوں کی واپسی اور مزید جذبے کے ساتھ جنگ میں کودنے کی تمنا دراصل معدنیات کے حصول کی خواہش ہے' یہ خواہش کس حد تک پوری ہوگی اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ ایک نئی بات یہ سامنے آئی ہے کہ ٹرمپ نے سیکرٹری کامرس کو معدنیات کا جائزہ لینے کے لئے خصوصی طور پر افغانستان بھیجا ہے ہلمند سمیت جن علاقوں میں معدنیات کی کانیں ہیں ان میں سے بیشتر پر افغان طالبان کا قبضہ ہے کچھ وار لارئوز یک کنٹرول میں ہیں' ان معدنیات کا حصول سانپ کے منہ سے موتی نکالنے کے مترادف ہے۔جنرل جان نکلسن نے کابل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ طالبان جنگ نہیں جیت سکتے وہ فوراً ہتھیار پھینک دیں اور امن مذاکرات میں شامل ہو جائیں کیا امن کے حصول کا انداز ہے ایک طرف دھمکیاں دوسری طرف مذاکرات کی تمنا' اب ہم افغانستان میں ناکام  نہیں ہوں گے' مگر حضور یہ تو بتایا جائے کہ کیسے جنگ جیتیں گے کون سی نئی گیڈر سنگھی لائے ہیں ایک لاکھ فوجی جو نتیجہ نہ دے سکے وہ سات آٹھ ہزار فوجی کیسے دے سکیں گے' یوں محسبوس ہوتا ہے کہ امریکہ کے بعض ادارے مل کر ٹرمپ کو ٹریپ کر رہے ہیں' امریکہ دوسری بار ناکامی کی طرف بڑھ رہا ہے۔