داخلی مسائل خارجہ پالیسی ناکام بنا رہے۔۔۔ظہیر الدین بابر

 ایوان بالا یعنی سینٹ نے بھی امریکی صدر کی افغان پالیسی میں پاکستان پر الزام تراشی کی سنگین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے اراکین سینیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان پر ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے مزید سخت ردعمل جانا چاہیے تاکہ دنیا کو  پیغام دیا  جائے کہ پاکستان کمبوڈیا یا ویت نام نہیں ۔صدر ٹرمپ بیان پر ملک  کے سب ہی اہم اداروں کی جانب بھرپور مذمت کرنا خوش آئند مگر اس موقع پر خود احتسابی سے کام نہ لینا بہرکیف زیادتی ہوگی۔ اہل سیاست ہوں یا  قومی ادارے سب ہی کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ گزرے ماہ وسال میں جو جو کوتاہیاں ہوئیں ان کا ازالہ کب اور کیسے ممکن ہے۔ یعنی ان نقصانات کی تلافی کیوں اور کیسے ممکن ہے جن کے سبب آج ملک کو یہ دن دیکھنا پڑا۔یہ پہلی بار نہیں کہ امریکہ نے پاکستانیوں کے جذبات مجروح کیے ۔ ایبٹ آباد آپریشن اور سلالہ چیک پوسٹ پر امریکہ کاروائیاں صدر ٹرمپ کی حالیہ تقریر سے کئی درجہ بڑھ کر تھیں ۔ مذکورہ واقعات کے بعد بھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے بڑے بڑے دعوے کیے مگر پھر ثابت ہوا کہ یہ محض زبانی جمع خرچ کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ یقینا ایک بار پھر موقع ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز اپنی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کریں۔ اس نقطہ پر بھی غور وفکر کرنا ہوگا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ  پاکستان گزشتہ 70سال سے امریکہ کا ساتھ دے رہا مگر انکل سام صرف اور صرف اپنے مفادات کا اسیر ثابت ہوا۔ ایک نقطہ نظر یہ سامنے آرہا کہ ملکی خارجہ پالیسی کا از سر نو ترتیب دینا ہوگا،  بالخصوص پرویز مشرف کے دور حکومت میں سفارتی محاذ پر کیا کھویا کیا پایا اس پر بھی غور ہونا چاہیے۔ ملکی سرحدوں کی نگرانی مزید سخت کرنا ہوگی تاکہ پاکستان پر مداخلت کا الزام نہ لگ سکے۔ذمہ داروں کو یاد رکھنا ہوگا کہ افغانستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے  ایسے لوگ پاکستان میں موجود ہیں جو  خرابیاں پیدا کر رہے ہیں۔  اس میں کسی کو شک نہیں رہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا بڑا مقصد  بھارت کو خوش کرنا تھا مگر امریکہ کے پالیسی ساز حلقے یہ بھول رہے کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کو بڑھانے سے امن نہیں انتشار پیدا ہوگا۔اگر مگر  چونکہ چنانچہ کے باوجود حکومت کو  امریکی صدر کے بیان کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مستقبل قریب میں درپیش چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ آج  خارجہ پالیسی کو متحرک بنانے کے علاوہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ ن نے خواجہ آصف کو وزیر خارجہ بنا ڈالا مگر اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلا دنیا کے مختلف ممالک میں پارلیمانی  وفود بھیجے جائیں  جو ان ملکوں کی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔ بین الاقوامی سطح پر  چین کے بعد افغانستان میں تعینات روسی ایلچی ضمیر کابلوف نے بھی صدر ٹرمپ کی نئی حکمت عملی کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ پاکستان پر دبائو ڈالنے سے خطے کی مجموعی سیکیورٹی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ضمیر کابلوف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کے حوالے سے اسٹریٹیجی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے جس کے ساتھ مذاکرات کیے جانے چاہیں۔ قبل ازیں  روسی وزیر خارجہ نے افغانستان سے متعلق نئی امریکی پالیسی کو قابل مذمت قرار دے دیا۔ ''چین اور روس کی شکل میں پاکستان کو یقینی ایسی حمایت میسر آچکی ہے جو آنے والے دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور مدد کرسکتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس کے داخلی مسائل کا  آئینہ دارہوا کرتی ہے ۔ آسان الفاظ میں یوں  کہ ملکی معیشت جوں جوں اپنے پائوں پر کھڑی ہوگی کوئی بھی ریاست زیادہ باوقار انداز میں عالمی برداری میں اپنے مفادات کا تحفظ کرسکتی ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تادم تحریر فرد واحد ہو یا جمہوری قیادت کسی نے بھی حقیقی معنوں میں ملکی استحکام کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ ناکامیوں کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دے کر ہر کوئی مصنوعی کامیابیوں کو ڈھول پیٹتا رہا۔ سمجھ لینا چاہیے کہ پاکستان مسائل کے گرداب سے اسی صورت نکلے گا جب ہم داخلی مشکلات  پر قابو پالیں گے۔ حکمران طبقہ کو عوام کو بالخصوص اور اقوام عالم کو بالعموم بے وقوف بنانے کی حکمت عملی سے اب  باز آنا چاہیے۔ خوشنما وعدوں اور بڑے دعوئوں سے ملکی مسائل کسی صورت حل نہیں ہونے والے اس سچائی کو دل وجان سے جس قدر جلدی تسلیم کرلیا جائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ایک خیال یہ ہے کہ گزرے ماہ وسال میں اگر پاکستان امریکہ پر انحصار کرتا تھا تو اب اس نے چین کا دامن تھام لیا ہے۔ اسلام آباد میں آنے والی ہر حکومت عوام کو یہ تاثر دینے کے لیے کوشاں ہے کہ سی پیک کی شکل میں یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ جائیں گی۔ کمزور معیشت اور کروڑوں پاکستانیوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کیا چین کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہے اس  اہم اور بنیادی سوال کا مفصل جواب ارباب اختیار کو دینا چاہیے۔