پاکستان میں معاشی ترقی کے اہداف کا حصول۔۔۔ریاض احمد چوہدری

  مختلف ممالک کے معاشی اہداف پر نظر رکھنے والے عالمی معتبرامریکی جریدے بیرنز  نے پاکستان کی معاشی ترقی سے متعلق حوصلہ افزا رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق پاکستان طویل المدت معاشی ترقی کے اہداف تیزی سے حاصل کر رہا ہے اور اس کی سالانہ شرح نمو 4.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ جریدے نے اپنی رپورٹ میں موجودہ حکومت کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے پاکستان غیرملکی سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کررہا ہے جب کہ پاکستان آہستہ مگر مستحکم معیشت کی جانب گامزن ہے اور اداروں کی نج کاری کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سے سرمایہ کاری کی ریل پیل ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چین کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری اور خاص طور پر توانائی کے شعبے میں طویل المدت سرمایہ کاری سے بھی پاکستان کی معیشت کو استحکام ملے گا جب کہ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ 2018 تک پاکستان میں بینک قرضوں کی واپسی 25 فیصد تک پہنچ جائے گی جو کہ 2013 تک صرف 17 فیصد تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  پاکستان کی آبادی 19 کروڑ  ہے جس میں آدھی سے زائد آبادی 25 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو کہ کسی بھی ملک کی معاشی صلاحیت کو مستحکم کرنے کی بنیاد ہوتی ہے۔ ماضی میں پاکستان میں جمہوری تسلسل برقرار نہ رہ سکا جس کی وجہ سے پالیسیوں کے تسلسل میں بھی رکاوٹ آئی اور ملک کو معاشی طور پر اہداف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کہنا کہ پاکستان معاشی طور پر ایک نا کام ملک رہا درست نہیں۔  وطن عزیز نے تاریخ کے بہت سے ادوار دیکھے کبھی آمریت جس کی وجہ سے معاشی تسلسل برقرار نہ رہ سکا اور کبھی جمہوریت اس کے باوجود آج پاکستان میں جو کچھ ہے وہ دنیا کے کسی ملک سے کم نہیں۔بھارت سے پاکستان کا معاشی مواز نہ کریں تو بھارت میں کروڑوں کی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو خط غربت سے نیچے زندگی اور جھونپڑیوں میں گزراوقات کر رہے ہیں جبکہ پاکستان کے عوام بھارت کے عوام کی نسبت خوشحال اور آرام دہ زندگی گزار رہے ہیں۔موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو ملک کی سلامتی کو درپیش خطرات کے ساتھ ساتھ پاکستان کی معیشت کی صورت حال یہ تھی کہ معاشی عالمی ادارے پاکستان کو معاشی طور پر دیوالیہ ہوتا دیکھ رہے تھے۔ ملک کی جی ڈی پی گروتھ 3فیصد مالی خسارہ 8فیصد سالانہ زرمبادلہ کے ذخائر 8بلین ڈالر سے کم اور ملک کو اٹھارہ سے بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سامنا تھا۔ معاشی صورت حال خراب ہونے کی وجہ سے کوئی پاکستان میں 100ڈالر سرمایہ کاری کرنے کے لیے بھی تیار نہ تھا۔ ایسے حالات میں حکومت نے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے لیے چار شعبوں پر خصوصی توجہ دی ان میں تعلیم اور سماجی شعبہ ، معیشت ، توانائی اور دہشت گردی کا خاتمہ شامل تھا۔ ان چاروں سالوں میں جی ڈی پی کی شرح کو 4 فیصد سے بلند رکھا جو اس سال 5.3فیصد ہے اور پچھلے نو سالوں میں بلند ترین سطح پر ہے جس کی تصدیق ورلڈ بنک نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں بھی کی ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کا ذکر کریں تو آئی ایم ایف نے پاکستان کی ان چار سالوں کی معاشی کارکردگی کو سراہا ہے اور پیشگوئی کی ہے کہ 2017میں پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ 5.2فیصد رہے گا۔ جو اب تک کے اعدادو شمار کے مطابق اس سے زیادہ ہے یعنی 5.3فیصد ہے اگر اسی طرح ترقی کا عمل جاری رھتا اور ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار نہ ہوتا تو 2018ـ19میں پاکستان کا جی ڈی پی گروتھ 7فیصد تک ہو سکتا تھا جو اب مشکل نظر آرہا ہے۔ پاکستان کا مالی خسارہ جو 2013میں بلند ترین سطح یعنی آٹھ فیصد پر تھا کم ہو کر 2016میں 4.6فیصد تک آگیا ہے اور اس میں مزید کمی متوقع ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر جو 2013میں 8بلین ڈالر تھے 2017میں 22بلین ڈالر کی سطح عبور کر چکے ہیں۔ٹیکس اصلاحات کے نتیجہ میں ٹیکس وصولیوں میں ان چار سالوں میں 60فیصد اضافہ ہوا ہے۔2013 سے قبل ملک کو بدترین توانائی بحران کا سامنا تھا۔ سولہ سے بیس گھنٹے تک لوڈشیڈنگ ہوتی تھی جس سے صنعتی ترقی کا پہیہ مکمل طور پر جام ہو چکا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں صنعتی کارکن بیروزگار ہو چکے تھے۔ حکومت نے اس مسئلہ کے حل کے لیے دن رات کام کیا قلیل مدتی ، وسط مدتی اور طویل مدتی منصوبوں کا آغاز کیا۔ اب تک سات ہزار میگا واٹ کے قریب بجلی قومی گرڈ میں شامل ہو چکی ہے۔ ساہیوال کول پاور پلانٹ 1320میگاواٹ پیداوار شروع کر چکا ہے۔ بھکھی بلوکی گیس پاور پلانٹ پیداوار دے رہے ہیں جبکہ حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹ بھی جلد پیداوار شروع کرنے والا ہے۔ یہ عالمی اداروں کی جائزہ رپورٹ کا احوال ہے۔ یہ وہ اعترافات ہیں جن میں ہمارا شاندار مستقبل چھپا ہے۔ یہ حقیقت ہے موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد معاشی شعبے پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ اقتصادی راہداری کا بین الاقوامی سطح کا روٹ شروع کر دیا جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ وہ لوگ جو اپنا کاروبار لپیٹ کر نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا جا رہے تھے یا جا چکے تھے وہ دوبارہ پاکستان میں آنا شروع ہو گئے۔ یہ ملک اگر صرف دو برسوں میں دنیا بھر کی بڑی معیشتوں کے مقابل کھڑا ہے تو اگر اس ملک میں یہی سلسلہ دس بیس سال جاری رہے تو مجھے سو فیصد یقین ہے یہ ملک دنیا کی تیز ترین معاشی طاقت بن جائے۔