Get Adobe Flash player

ٹرمپ پالیسی میں پاکستان کی قربانیاں نظر انداز۔۔۔عبدالقادر خان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان ، افغانستان اور انڈیا کے حوالے سے اپنی پالیسی کا اعلا ن گزشتہ روز 22 اگست2017کو کردیا ۔ اس سے قبل اِس نئی پالیسی کا اعلان 18اگست کو کئے جانا تھا ، لیکن عین وقت پراعلان موخر کردیا گیا تھا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا اعلان توقعات کے برعکس نہیں تھا ۔اپنے مبہم پالیسی بیان کے اہم نکتے کی جانب انھوں نے واضح اشارہ نہیں دیا کہ افغانستان میں امن کے قیام کیلئے امریکی 8400فوجیوں اور نیٹو کی5000افواج کے علاوہ مزید 3900 امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے کرائے کی فوجی کتنے ہونگے ، اس کو واضح نہیں کیا گیا۔گزشتہ دنوں امریکہ کی آرمی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈنگ جنرل، لیفٹننٹ جنرل مائیکل گیریٹ کی قیادت میں چھ رکنی وفد نے رواں ہفتے پاکستان کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے لیفٹننٹ جنرل گیریٹ اور ان کے وفد نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلی عسکری حکام سے ملاقاتوں میں آپریشنز، تربیت اور دیگر شعبوں میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان فوجی تعاون پر رابطے پر گفتگو ہوئی تھی۔لیفٹننٹ جنرل گیرٹ نے پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پبی کے مقام پر قائم انسداد دہشت گردی کے قومی تربیتی مرکز کا بھی دورہ اور انھیں دہشت گرد گروپوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوجیوں کی تربیت سے متعلق پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیاتھا۔امریکی سفارت خانے کے بیان کے مطابق ان سرگرمیوں سے دونوں ملکوں کو خطے میں انسداد دہشت گردی کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری شراکت داری قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہ امر حیران کن ہے کہ امریکہ کی آرمی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈنگ جنرل، لیفٹننٹ جنرل مائیکل گیریٹ جس وقت پاکستان کا دورہ کررہے تھے اور پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور خطے میں دونوں ممالک کے اقدامات کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کررہے تھے ، تو دوسری جانب امریکی صدر اپنی نئی پالیسی کو بنا چکے تھے ۔ کم ازکم انہیں زمینی حقائق سے مکمل آگاہی ضروری تھی ۔ امریکہ کی آرمی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈنگ جنرل، لیفٹننٹ جنرل مائیکل گیریٹ کے دورے سے قبل سینیٹر جان مکین کی قیادت میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹرز کے وفد نے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا تھا۔امریکی سینیٹ کی بااثر آرمڈ سروسز کمیٹی کے وفد میں جان مکین کے علاوہ سینیٹرز لِنڈسے گراہم، شیلڈن وائٹ ہائوس، الیزبتھ وارِن اور ڈیوڈ پرڈیو شامل تھے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق امریکی وفد نے جنوبی وزیرستان کے دورے کے دوران امریکی وفد کو پاک۔ افغان سرحد پر باڑ لگانے کے عمل میں بہتری اور نگرانی بڑھانے کے لیے اٹھائے جانے والے حالیہ اقدامات، سرحدی علاقوں کا فضائی جائزہ اور حال ہی میں بنائی جانے والی چیک پوسٹیں،اسکول، کالج، ہسپتال، اسٹیڈیم اور فراہمی آب کی اسکیمیں دیکھیں۔ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ ہم نے پاکستان افغانستان تعاون اور تعلقات سمیت کئی معاملات پر بات کی اور ہم پراعتماد ہیں کہ صحیح تعاون اور صحیح اسٹریٹجی کے ذریعے ہم اس طویل جدو جہد کو کامیاب ہوتا دیکھ سکتے ہیں۔سینیٹر گراہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہونے والی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ بیان نہیں کر سکتا کہ میں کہ میں دو برسوں کے دوران ہونے والی پیشرفت سے کتنا متاثر ہوا ہوں اور اس میں پاکستان آرمی اور خطے کے عوام کا بڑا کردار ہے۔سینیٹر وائٹ ہائوس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں جنوبی وزیرستان کا دورہ کروں گا، اس لیے میں یہاں امن قائم کرنے کے لیے پاک فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔امریکی صدر کی جانب سے نئی پالیسی میں پاکستان کے حوالے سے سخت اظہار کہ امریکہ ، پاکستان میں موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں پر اب خاموش نہیں بیٹھے گا۔ حیرا ن کن ہے کہ ایک جانب امریکی سینیٹ کی بااثر آرمڈ سروسز کمیٹی اور امریکہ کی آرمی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈنگ جنرل، لیفٹننٹ جنرل مائیکل گیریٹ اور امریکی سینیٹرز کاوفد پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اطمینان کا اظہار کررہے ہیں لیکن امریکی صدر کو اپنے بااثر وفود کی جانب سے ان علاقوں میں پہلی بار دورہ کرنے اور تمام اقدامات کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھنے کے باوجود یہ نظر نہیں آرہا کہ پاکستان ماضی کے مقابلے میں سنجیدگی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف کاروائیاں کررہا ہے ، آپریشن ردالفساد ہو یا حالیہ کامیاب ہونے والا انتہائی اہمیت کا حامل آپریشن خیبر4پر حکومت کی رٹ قائم کرنے کے ساتھ 14 ہزار فٹ بلند پہاڑ کی چوٹیوں پر 91چیک پوسٹ کا بنانا ، اور پورے علاقے کو دہشت گردوں سے خالی کرانا بغیر کسی دوسرے ملک کی امداد حاصل ایک اہم کارنامہ ہے۔پاک فوج نے جنوبی ، شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے بعد وہاں تمام ایسے نیٹ ورک کا خاتمہ کیا جو پاکستان ، یا افغانستان میں کسی بھی پر تشدد کاروائیوں میں ملوث پائے جاتے تھے ، پاکستان نے کسی بھی تنظیم یا جماعت کے لئے کوئی گنجائش نہیں رکھی کہ کون گڈ ہے اور کون بیڈ ۔ پاک فوج نے بلاتفریق ان تمام تنظیموں کے خلاف کاروائی کی جن کے ٹریننگ کیمپ پاکستان میں موجود تھے۔ سینیٹر گراہم کا یہ کہنا کہ میں یہ بیان نہیں کر سکتا کہ میں کہ میں دو سالوں کے دوران ہونے والی پیشرفت سے کتنا متاثر ہوا ہوں اور اس میں پاکستان آرمی اور خطے کے عوام کا بڑا کردار ہے میں نے یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں جنوبی وزیرستان کا دورہ کروں گا، اس لیے میں یہاں امن قائم کرنے کے لیے پاک فوج کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔امریکی نئی پالیسی پر سوالیہ نشان ہے۔ 20دہشت گردی تنظیموں کے حوالے سے امریکی صدر کا یہ بیان کہ پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں جو دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان ، افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک اور دہشت گردی کے کاروائیوں کے حوالے سے ثبوت فراہم کرچکا ہے کہ افغانستان میں کابل حکومت کی آشیر باد کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں میں کہاں کہاں دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک ہیں ، پاکستان نے تو آپریشن ضرب عضب ، خیبر آپریشن 4، اور جاری آپریشن رد الفساد میں ثابت کردیا کہ پاکستان نے سنجیدگی کے ساتھ ان تمام نیٹ ورک کا خاتمہ کردیا ہے جو پاکستان میں بھارت اور افغانستان کی ایما پر دہشت گرد کاروائیاں کرتے تھے اور اس کے ساتھ تمام نیٹ ورک بشمول حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی کاروائیاں کی گئیں ، لیکن امریکہ اور افغانستان ایک مثال تو سامنے لائے کہ اس نے افغانستان کی سرزمین استعمال کرنے والے دہشت گرد تنظیموں و کالعد م جماعتوں کے خلاف کیا کاروائی کی ؟ کالعدم جماعت طالبان پاکستان ، کالعدم جماعت الاحرار  سمیت کئی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں موجود ہیں ، پاکستان کی جانب سے مطالبات پر کابل حکومت عمل درآمد نہیں کرتی ، پاک ، افغان بارڈر منجمنٹ پر بھی پاکستان کے ساتھ عدم تعاون کابل حکومت کا وتیرہ رہا ہے ۔ یہاں تک کہ مردم شماری کے لئے جانے والی ٹیموں پر افغانستان نے پاکستانی علاقوں پر گولہ باری تک کی، جس کا مقصد پاک ،افغان بارڈر منجمنٹ کو ناکام بنانا تھا لیکن پا کستانی حکومت اربوں روپے خرچ کرکے پاک ، افغان سرحد جو کہ2600کلو میٹر پر مشتمل ہے ، باڑ لگانے میں مصروف ہے ، وادی راجگال اس کی تازہ ترین مثال ہے کہ ہزاروں فٹ بلند و بالا چوٹیوں پر پاکستانی افواج نے حکومتی رٹ قائم کرکے 253مربع کلومیٹر علاقہ دہشت گردوں سے آزاد کیا جس میں 52دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا اور ہزاروں بارودی سرنگوں کو صاف کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف امریکہ کا کوئی مثبت کردار نہیں ، انسانی حقوق کی عالمی ادارے چیخ چیخ کر بھارتی درندگی کو آشکارہ کرررہے ہیں ، لیکن امریکی صدر کو بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نا انصافیاں بھی نظر نہیں آتیں، بھارت کھلم کھلا ، افغانستان میں مداخلت کررہا ہے ، لیکن امریکی صدر کے نزدیک یہ درست ہیں ۔ پاکستان کی چیک پوسٹوں پر بھارتی ایجنٹس افغانستان کی این ڈی ایس کے ساتھ ملکر جارحیت کرتے ہیں اور عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہیں ، چاہے وہ افغانستان ہو یا مقبوضہ کشمیر یا لائن آف کنٹرول ۔بھارت کی ہر اشتعال انگیزی اور ایک آزاد ریاست کے خلاف کھلم کھلا سازشوں پر امریکی صدر کا خاموش رہنا ، یک طرفہ جانبداری ظاہر کرتا ہے ۔ یہ امریکہ کا دوہرا معیار ہے کہ ایک جانب وہ ایسے انتہا پسند شخص پر اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگاتا ہے جو انسانی حقوق کے انتہائی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہے تو جب وہی مودی وزیر اعظم بن جاتا ہے تو اس کے لئے سرخ کارپٹ بچھا دیا جاتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے لئے تڑپتے عوام پر سات لاکھ سے زائدبھارتی فوج کے مظالم پر آواز دھرنے کے بجائے الٹا حریت پسند کشمیری جماعتوں اور ان کے رہنمائوں پر پابندی اور دہشت گرد قرار دیئے جانے کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔صاف نظر آرہا ہے کہ امریکی صدر بھارت کی خوشنودی کے لئے یکے بعد دیگرے کشمیری حریت پسندوں کے خلاف اقدامات کررہی ہے اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھا کر پاکستان کے خلاف دبائو بڑھانا چاہتی ہے کہ بقول امریکی صدرافغانستان اور پاکستان میں امریکہ کے مفادات واضع ہیں۔ ہمیں ایسے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل کرنے سے روکنا ہو گا جو امریکہ کے لیے خطرہ ہیں۔ اور ہمیں یقینی بنانا ہو گا کہ ایٹمی ہتھیار دہشت گروں کے ہاتھوں تک پہنچنے نہ پائیں، جو ہمارے خلاف استعمال ہو سکتے ہیں۔امریکی صدر کا یہ بیان انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے ، امریکہ پاکستان کے خلاف بھارت کی پشت پناہی اس لئے کررہا ہے کہ ایک جانب حریت پسندوں کے ارادوں کو کمزور کیا جاسکے تو دوسری جانب عراق پر حملوں کے جواز کے لئے جھوٹی رپورٹس کی طرز پر اسرائیلی و بھارتی خواہش کے مطابق پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے ۔ یقینی طور پر اس امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ، لیکن پاکستان کی عسکری افواج بارہا کہہ چکی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہاتھوں میں ہے اور انہیں کسی بھی مسلح گروپ یا کسی انتہا پسند یا دہشتگرد جماعت سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ پاکستان اپنے ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کرنا بھی خوب جانتا ہے اور اپنے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ محفوظ رکھنے میں بھی مہارت رکھتا ہے ۔