Get Adobe Flash player

ا پنے ہاتھوں چتاکی تیاری۔۔۔ سمیع اللہ ملک

جب سے امریکانے اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت بھارت کوگودلیاہے ،متعصب مودی کا ظالم بھارت عصرحاضرکاواحد ملک بن گیاہے جواپنے تمام ہمسایہ ممالک کیلئے وبالِ جان بنا ہواہے اوراپنے اس امتیازی وصف کے نتیجے میں شدیدترین ردعمل کاسامناکررہاہے۔ پاکستان  بھارت کا ہمسایہ  ملک ہے جسے بھارت کی مسلسل دہشتگردی اورپراکسی وارکاسامنا ہے ۔ مودی نے کنٹرول لائن پرایسااودھم مچارکھاہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کوبھارتی سفارتی نمائندے کودن میں دوبارطلب کرکے اس کی جارحانہ،غیرانسانی اورغیرقانونی حرکات پر باقاعدہ احتجاجی مراسلے ان کے حوالے کرناپڑے ہیں۔نیپال کے ساتھ بھارت کے عرصہ درازسے اچھے تعلقات رہے مگرجس طرح بچھوبدخصلتی کے باعث ڈنک مارنے سے نہیں رہ سکتا،اسی طرح ان دنوں بھارت سرکارکی نیپال کے ساتھ بھی کشیدگی کی خلیج بڑھتی جارہی ہے۔چین اور بھارت کے مابین بڑھتے اختلافات بھارت کیلئے سوہانِ روح بن چکے ہیں۔چین کے صنعتی اورکاروباری اداوں کی جانب سے نیپال میں سرمایہ کاری اورتعداد کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔سرمایہ کاری پانی وبجلی،ہوابازی، معدنیات اورطب سمیت مختلف شعبوں میں کی گئی ہے۔چین کی بین الاقوامی تجارت کے فروغ کی کونسل  اورچین میں نیپالی سفارت خانے کے زیراہتمام نیپال میں سرمایہ کاری کی گول میزکانفرنس میں بتایاگیاتھاکہ حالیہ برسوں میں چینی صنعتی اور کاروباری اداروں کی جانب سے نیپال میں سرمایہ کاری اور تعاون کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوتاجارہاہے اوریہ عمل مستقبل کے نیپال پربھارتی اثرونفوذکودیس نکالاکاسندیسہ  ثابت ہوگاکیونکہ چین نیپال میں اپنی سرمایہ کاری کومحفوظ رکھنے کیلئے کسی بھی راست اقدام کاحق محفوظ رکھتا ہے۔چین کی بین الاقوامی تجارت کے فروغ کے سربراہ جیانگ ژنگ کے مطابق چینی صنعتی اورکاروباری اداروں کی جانب سے نیپال میں براہِ راست سرمایہ کاری کی مالیت 53کروڑ50 لاکھ ڈالرہے جس میں تیس سے زائدچینی وصنعتی اور کاروباری اداروں نے بڑے پیمانے پرسرمایہ کاری کی ہے  اوریہ سرمایہ کاری پانی،بجلی،ہوبازی،معدنیات،طب سمیت مختلف شعبوں میں کی گئی ہے۔چین کی نیپال میں سرمایہ کاری سے نہ صرف نیپال میں جہاں اقتصادی تنوع اور صنعت کاری میں ترقی ہوگی وہاں چینی کاروباری اداروں کوفروغ ملنے کے ساتھ ساتھ نیپال کی خودمختاری کے اعتمادکوبھی نئی جہت نصیب ہوگی۔نیپال کے ذمہ دارسرکاری حلقوں کے مطابق اس وقت چین نیپال میں براہِ راست غیرملکی سرمایہ کاری کے لحاظ سے سب سے بڑاملک اورتجارت کادوسرابڑاساتھی ہے ۔نیپالی حکومت چینی صنعتی اورکاروباری اداروں کی بنیادی تنصیبات،بجلی، معدنیات ،پیٹرولیم، جدید زراعت، سیاحت سمیت اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کاخیرمقدم کرتی ہے۔ نیپال میں چین کی بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری پراب بھارتی رہنمائوں کو گزشتہ  چندبرسوں میں نیپال پرکی گئی عائدپابندیوں کے ثمرات ملناشروع ہوگئے ہیںجس پربھارتی رہنمائوں میں شدیدتشویش پیداہوچکی ہے۔معاملہ اس قدرآگے بڑھ چکاہے کہ گیم بھارت کے ہاتھ سے نکل گئی ہے ۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق نیپال مستقبل میں ایک ایسادردِ سربن جائے  گاجس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔بھارتی رہنمائوں کے مطابق بھارت نے نیپال سے تعلقات بگاڑکراپنے مسائل میں گوناگوں اضافہ کرلیاہے۔چین کے صدرنیپال کے وزیراعظم پشپا کمال ربال سے ملاقات کر چکے ہیں۔ملاقات میں دونوں ممالک کے سربراہوں نے بیلٹ اینڈروڈ منصوبہ میں توسیع پرمکمل اتفاق کرتے ہوئے باہم اشتراک سے کام کرنے کااعادہ کیا۔واشنگٹن میں قائم ووڈ رو ویلسن سینٹرفاراسکالرزسے منسلک ایک ماہرجنوبی ایشیامیشائل کوگلمن کاکہناہے کہ چند برس پہلے تک نیپال کے ساتھ تعلقات کی بحالی بھارتی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں تھی ،اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نیپال برسوں سے غیرمستحکم اورمختلف نوعیتوں کے تنازعات کاشکار رہاہے۔بھارت کے مقابلے میں چین نے اپنی سرمایہ کاری میں غیرمعمولی تیزی لاتے ہوئے نیپال میں اپنی اقتصادی سرگرمیوں میں بہت زیادہ اضافہ کردیاہے۔ بیجنگ نے نیپال میں پاورپلانٹس، ہائی ویز،ہوائی اڈوں اورٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔جنوبی ایشیائی سیاست پرگہری نظر رکھنے والے ایک اورماہرکانگولی کے بقول نیپال میں چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اثرو رسوخ پربھارتی سیاستدانوں کو تشویش ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بھارتی اثرورسوخ کو واضح نقصان پہنچا ہے۔تاریخ پر نظر رکھنے والے دانشورجانتے ہیں کہ سری لنکامیں ایک عرصہ  تک خانہ جنگی جاری رہی جس کااختتام سہالیزنیشلسٹس کی فتح پر ہوااورآج کاسری لنکا تیس سال پہلے کے سری لنکاسے بالکل مختلف اوربھارتی غلبے سے پاک ہے لیکن بھوٹان کے علاوہ بھارت کے تمام ہمسایوں نے ایک کانفرنس میں حصہ لیاتھا۔ اس کانفرنس کے شرکاسری لنکا،میانمار،بنگلہ دیش،مالدیپ اورنیپال شامل ہیں۔اسے ہمسایہ ممالک کی جانب سے چین کیلئے نئے منصوبے میں دلچسپی نے بھارت کواپنے اردگرد دائرہ لگائے جانے کااحساس دلایاہے۔اس کانفرنس میں شرکت سے پہلے بھارت نے اپنے ہمسایوں کوخبردار کیا تھا کہ چین کے ساتھ ساجھے داری کی بڑی قیمت چکانی پڑے گی لیکن ان میں سے کسی نے بھی بھارت کی بات پرکان نہیں دھرے۔یہاں پریہ سوال پیداہوتاہے کہ خطے کاسب سے بڑاملک ہونے اور چھوٹے ممالک میں خاطرخواہ اثرورسوخ رکھنے کے باوجود یہ ممالک بھارت کی بات ماننے پرپررضامندکیوں نہیں ہوئے؟بھارت کے تمام ہمسائے بھارت کو ناپسند کرتے ہیں اوراسے شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔چین نیپال تعلقات میں قربت کی ایک بڑی وجہ بھارت کی اپنی ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاندانہ پالیسیاں ہیں۔بالخصوص چین بھارت حالیہ تنازع بہت اہم اورسنگین نوعیت کاہے۔ نیفاکے تنازع کے مقابلے میں بھی بہت سنگین حالانکہ اس وقت جس رقبے پربھارتی قبضہ ہے اورجوتنازع کی بنیاد بناہواہے وہ چندکلومیٹربھی نہیں۔تنازع یہ ہے کہ بھوٹان اور بھارتی ریاست سکم کے درمیان چین کاایک مختصرساقطعہ زمین ہے۔نقشے پرسرسری نظرڈالیںتواس کی کچھ اہمیت سمجھ میں نہیں آتی لیکن اس کی اہمیت کااس وقت اندازہ ہوتاہے جب اس کے نیچے بھارت کے نقشے کوغورسے دیکھیں۔ یہاں چینی سرحدسے ملحق ایک تنگ راہداری بھارتی علاقہ کی ہے جومشکل سے چندمیل چوڑی ہے۔اس راہداری کے نیچے بنگلہ دیش شروع ہوجاتا ہے ۔یہ راہداری سلیکوری کاریڈور کہلاتی ہے اور یہ بھارت مین لینڈکوشمالی مشرقی بھارت سے ملانے والاواحدزمینی رقبہ ہے۔ شمالی مشرقی بھارت اروناچل پردیش ۔آسام میگھالے وغیرہ سات ریاستوں پر مشتمل ہے۔ان میں سے آسام وہ ریاست ہے جہاں بھارت سے علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔یہ ساراکاریڈورکاٹ دیاجائے توبھارت کاان سات ریاستوںسے رابطہ کٹ جائے گا۔چین نے بھوٹان اورسکم کے درمیان واقع اپنے مذکورہ علاقے میں سڑک میں تعمیرشروع کررکھی ہے جوچین بھارت سرحدتک آئے گی۔(جاری ہے)