انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان ؟۔۔۔چوہدری محمد ریاض کھٹانہ

اے قوم مایوس نہیں ہونا انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان نے پوری اسلامی دنیا کا دار الخلافہ بن کر اسے لیڈ کرنا ہے جب پاکستان کے بارے میں حضرت محمد مصطفےٰ ۖ احمد مجتبیٰۖ کی اس حدیث مبارکہ نے عملی جامہ پہن لینا ہے۔
''کالے جھنڈے مشرق سے نکلیں گے تو ان کو کوئی چیز نہیں روک سکے گی حتیٰ کہ وہ  بیت المقدس میںنصب کر دئیے جائیں گے۔ (مسذاحمد)جب 27رمضان المبارک کی رات معرض وجود ہیں آنے والی اسلامی مملکت خداداد پاکستان کی حکمت کو قرآن حکیم کی سورة الدحان کی آیت نمبر1تا 4 واضح کرے گی۔ ترجمہ : حم قسم ہے اس کتاب واضح کی کہ ہم نے اس کو (لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر) ایک برکت والی رات (یعنی شب قدر میںاتارا) ہم آگاہ کرنے والے تھے کہ اس رات پر حکمت والا کام ہماری پیشی سے حکم ہو کر طے کیا جاتا ہے۔
جب آج سے سو سال پہلے والے علامہ اقبال کے اس شعر نے عملی جامہ پہن  لینا ہے ۔
گر ہو تہران عالم مشرق کا جنیوا
شاہد کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے
جب علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کے یہ الفاظ سچ ثابت ہوکر وطن عزیز پاکستان کو وہ قیادت مہیاکر دیں گے کہ بقو ل اقبال
می رسدے کہ رنجیر غلاماں بشکند
دیدہ ام از روزن دیوار زندان شما
یعنی ''وہ آدمی آرہا ہے جو غلاموں کی رنجیروں کو توڑدے گا میں اسے قید خانے کی دیواروں کے روشن دان سے دیکھ رہا ہوں۔ یہ وہ وقت ہوگا
جب پاکستان کی مخلص قیادت پاکستان کو اسلامی دنیا کے اندر نئے نام یعنی Islamic Republic United States of Pakistan  سے متعارف کروادے گی اور اس طرح پوری اسلامی دنیا کی عمل داری پاکستان کے ہاتھ میں ہوگی۔
یہ وہ وقت ہوگا جب پاکستان اپنے نام کے خالق چوہدری رحمت علی کے تجویز کردہ نام ''پاکستان'' کے ہر ہر حرف کے سچ ہونے کی عملی شکل پیش کر رہا ہو گا ، ہر پاکستانی اس ملک کا باشندہ ہونے پر نہ صرف فخر سے سر بلند کر کے چل رہا ہوگا بلکہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان کے اندر کاروبار کرنے پر فخر محسوس کرینگے اور پاکستان دنیا کے نقشہ پر امیر ترین ، پر امن اور حسین ترین ملک بن کر ُابھرے گا جب پاکستان کی مخالف یعنی دشمنان پاکستان کی میلی آنکھ سے دیکھنے والی آنکھ کو نکال باہر کر دیا جائے گا جب پاکستان کا گلیشردنیا کا مہنگا ترین علاقہ بن جائے گا۔ جب پاکستان کا ویزا لگوانا سب ملکوں سے زیادہ مشکل ہو جائے گامگر ایسااُس وقت ہوگا جو انقریب انشااللہ ہونے والا ہے یعنی جب پاکستان کا ہر فرد خصوصاًقائد پاکستان اپنا سب کچھ پاکستان کیلئے وقف کر دے گا جب ملک پاکستان ریاست مدینہ کا نقشہ پیش کر رہا ہوگا جب پاکستان کی سر زمین سے ہر قسم کے ظلم اور ناانصافی کا گلہ گھونٹ دیا جائے گا جب پاکستان کی سر زمین سے فحاشی ، عریانی، بے حیائی، رشوت ستانی اور ہر قسم کی دہشت گردی ہمیشہ ہمیشہ کیلئے رخصت ہو جائے گی۔ جب قرآن و حدیث پر مبنی اسلامی نظام کا نفاذ ،خلافت راشدہ اور محمد بن قاسم کی حکمرانی کی یاد تازہ کر دے گا۔ جب ظالم کرپٹ، رشو ت خور اور بے ڈھنگے لوگوں کیلئے پاکستان کی سر زمین تنگ ہو جائے گی۔
جب منصف اور متقی آدمی کو ہی معزز ترین شہری سمجھا جائے گا جب زکوٰة اور قرضے حسنہ دینے والے تو بے شمار ہونگے مگر زکوٰة لینے والے کو چراغ لے کر ڈھونڈنا پڑے گا  یعنی یہی وہ وقت ہوگا جب ہر خاص و عام اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور حضور پر نورۖ ۖ کے صدقے سے  بقو ل مرید اقبال علامہ فرید نقشبندی  یوں بول اُٹھے گا کہ
ہیں خدا ومصطفےٰ دونوں نگہباں دیس کے
ملک پاکستان کھا سکتا نہیں دشمن سے مات
یہ رہا اور رہے گا حشر تک اب سر بلند
ہیں فرید اس میں بہت سی زندہ رہنے کی صفاتپس اس کے لیئے بقول اقبال اگر میں یوں کہہ دوں تو غلط نہ ہوگا بتا رہی ہیں یہ تبدیلیاں زمانے کی کسی ولی کا یقینا ظہور ہونا ہے کبھی اے حقیقت منتظر نظر آلباس مجاز میں کہ ہزار سجدے تڑ پ رہے ہے میری جبین نیازمیں