ٹرمپ کا بیان' تمام سیاسی جماعتیں اور پوری قوم متحد۔۔۔ضمیر نفیس

صدر ٹرمپ کی طرف سے نئی افغان پالیسی کے اعلان پر پاکستان کی طرف سے مجموعی طور پر جو ردعمل سامنے آیا وہ پوری قوم کے جذبوں کا آئینہ دار تھا۔ تمام سیاسی جماعتوں سے لے کر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان اور نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ تک ایک ہی لہجہ اور ایک ہی آواز تھی قوم نے ٹرمپ کے پاکستان پر تمام الزامات کو مسترد کر دیا اور یہ واضح کر دیا کہ افغانستان کی جنگ افغانستان کے اندر ہی لڑی جاسکتی ہے اور امریکہ کو نئی پالیسی کے تحت اپنا یہ شوق پورا کرلینا چاہیے پاکستان کی طرف سے یہ بھی پیغام دیا گیا کہ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں پاکستان کے عوام کو افغانستان کا امن زیادہ عزیز ہے اور پاکستان اس مملکت میں قیام امن کے لئے ماضی کی طرح آئندہ بھی اپنی کوششیں جاری رکھے گا ۔اس کے ساتھ ہی واشنگٹن کو بتایا گیا کہ بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں ہے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے اس کے عزائم کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے یہ پاکستان ہے جس نے اب تک افغانستان کی تعمیر نو کے لئے ایک ارب ڈالر خرچ کئے ہیں جو لاکھوں افغان مہاجرین کا مسلسل بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اور اب انہیں ان کے ملک واپس بھیجنے کا خواہاں ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر پاکستان پر دبائو ڈال کر اسے مسئلہ کشمیر  سے پیچھے ہٹانا مقصود ہے تو یہ سراسر احمقانہ خیال ہوگا  پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کی مذمت کرتا ہے  پاکستان کا یہ مضبوط موقف تھا جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ کے بیان کے اگلے روز امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ کشمیر پر امریکہ کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرے گا اس مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل ہونا چاہیے دوسرے لفظوں میں بھارت کشمیر کے مسئلہ کو سرد کانے کے اندر ڈالنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا۔ بھارت کو جلد یا بدیر اس تنازعہ کے حل کے بارے میں سنجیدگی اختیار کرنی ہوگی قوم کے مجموعی ردعمل سے یہ بات بھی  سامنے آئی کہ وہ امریکہ سے کسی قسم کے معاونت کے حق میں نہیں ہے اور دفاع و معیشت کے تمام شعبوں میں چین کے تعاون  کو ترجیح دیتی ہے۔ باہمی شدید اختلافات کے باوجود پاکستان مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف اور پاکستان پیپلزپارٹی سمیت تمام جماعتوں کے ٹرمپ کی افغان پالیسی اور اس کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا اور کہا کہ افغانستان میں طاقت کے  استعمال سے امن قائم نہیں ہوگا  مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے ہی حصول امن کی کوششوں میں کامیابی ہوسکتی ہے اگر عسکری  طاقت کے زور پر کامیابی ممکن ہوتی تو امریکہ بہت پہلے یہ حاصل کر سکتا تھا مگر سولہ برسوں تک فوجی طاقت کے بھرپور استعمال کا کیا نتیجہ نکلا' امریکی فوجیوں کو ناکامی کا داغ ماتھے پر سجا کر افغانستان سے واپس جانا پڑا اس وقت آٹھ ہزار کے لگ بھگ امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ نئی پالیسی کے تحت چارہزار فوجی مزید متوقع ہیں یہ بارہ ہزار فوجی کیسے ناکامی کو جیت میں بدل سکتے ہیں جبکہ متعدد افغان علاقوں میں حکومتی رٹ ہی موجود نہیں ہے افغان طالبان نے مذکورہ پالیسی پر اپنے روایتی انداز میں بیان دیا ہے اور کہا ہے کہ مزید فوجیں آنے پر وہ افغانستان کو امریکی قبرستان بنا دیں گے ۔ امریکہ کی کئی افغان پالیسی کو اگر پاکستان' چین' روس اور ایران سمیت متعدد ملکوں نے مسترد کیا ہے تو امریکہ کے اندر بھی اس کا مضحکہ اڑایا جارہا ہے ٹرمپ کے ناقدین ان سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اگر گزشتہ امریکی حکومتیں ایک لاکھ فوجیوں اور جدید اسلحہ کے استعمال سے جنگ نہیں جیت سکیں تو آپ بارہ ہزار فوجیوں کے ذریعے کیونکر فتوحات حال کر سکتے ہیں۔ بہرحال یہ امر خوش آئند ہے کہ ٹرمپ کے اعلان نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو امریکی پالیسی کے  معاملے میں متحد کر دیا قوم اب امریکہ کے ساتھ محض رسمی تعلقات کی خواہاں ہے پرجوش تعلقات کی حامی نہیں رہی۔