Get Adobe Flash player

منشیات اور ہمارے تعلیمی ادارے۔۔۔تنویر صادق

یہ شاید 1972 کی بات ہے۔اس وقت کی اسلام آباد اور آج کی قائد اعظم یونیورسٹی میں ہمارے کچھ دوستوں کا گروپ پیدل چلنے کنٹری واک اور قریبی پہاڑیوں پر چڑھنے روک کلائمنگ کا شوقین تھا۔ ہم لوگ عموما کبھی بارہ کہوکے ارد گرد، کبھی بری امام کے گردونواح اور کبھی راول ڈیم کے دائیں بائیں گھوم رہے ہوتے۔کسی دن کیمپس کے پیچھے والی پہاڑیاں بھی ہمارا ٹارگٹ ہوتیں اور ہم چوٹی پر اس مقام تک جاتے جہاں ہزارہ ڈسٹرکٹ شروع ہونے کا بورڈ لگا ہوتا۔پہلی دفعہ ہم جب اس بورڈ تک پہنچے تو تھکاوٹ سے برا حال تھا۔چنانچہ واپسی کے لئے ہم نے اپنی مرضی کی بجائے اس راستے سے آنے کا فیصلہ کیا جو وہاں کے دیہاتی روزانہ استعمال کرتے تھے۔تھکاوٹ اس قدر تھی کہ ڈھلوان پر سفر کرتے ٹانگیں توازن برقرار رکھنے میں مشکل محسوس کر رہی تھیں۔ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہم سب جھومتے ہوئے ایک پرانے دیہاتی راستے پر نیچے کی طرف گامزن تھے۔ وہ راستہ نیچے کہاں پہنچائے گا اس سوچ سے بے نیاز کہ تھکاوٹ نے ذہن بھی مفلوج کر دئیے تھے۔راستے میں اچانک ایک کھلی جگہ آ گئی۔ وہاں غار نما جگہ بھی تھی اور ایک جھونپڑی بھی تھی۔ چار پانچ درویش نما لوگ وہاں موجود تھے ایک کچھ گھوٹ رہا تھا، ایک چائے بنا رہا تھا۔انہوں نے ہمیں بڑے اچھے انداز میں خوش آمدید کہا۔ صفیں بچھی تھیں ۔ ہم کچھ لمحے آرام کرنے ان پر لیٹ گئے۔ اتنے میں ایک بزرگ چائے لے آئے کہ بیٹا پی لو۔ واقعی اس وقت چائے کی شدید طلب تھی۔ مگر چائے کا رنگ کچھ زیادہ ہی کالا تھا ۔لگتا تھا چائے کے علاوہ بھی کچھ ملایا گیا ہے۔ ایک کے سوا ہم سب نے معذرت کر لی کہ ہم چائے نہیں پیتے مگرہمارا وہ ساتھی جو چائے کا بہت عادی تھا کسی بھی چیز کی پروا کئے بغیر پی گیا۔ ہم وہاں سے چلے تو ہماری ٹانگیں دکھ رہی تھیں جب کہ وہ چائے پینے والا ہر درد سے بے نیاز غنودگی کے عالم میں تھا۔ چائے میں افیون ، چرس ،بھنگ یا کوئی ملتی جلتی چیز ملائی گئی تھی۔راستہ ختم ہوا تو ہم بری امام کے قریب تھے۔ وہاں سے ایک ویگن پر واپس ہوسٹل بڑی مشکل سے پہنچے۔اگلے دن ہم لوگ دوپہر تک سوئے رہے پھر بھی تھکاوٹ برقرار تھی مگر ہمارا سوم رس(ہندوں کا مقدس نشہ آورمشروب)پینے والا ساتھی رات دس بجے پچیس گھنٹے سونے کے بعد بہت ہشاش بشاش اٹھا اور بالکل تازہ دم تھا۔ ہم اس واقعے کو یاد کرکے ہنستے اور نشے والی چائے پینے کی پاداش میں اسے بہت عرصہ چرسی کہہ کر پکارتے رہے۔رب العزت کا احسان ہے کہ اس وقت یہ بگڑا ہوا میڈیا وجود میں نہیں آیا تھا اس لئے ہماری بچت ہو گئی ورنہ ٹی وی پاگل پن کی حد تک چلا رہا ہوتا کہ اسلام آباد یونیورسٹی میں ایک شخص نے بھنگ پی لی۔ یونیورسٹی منشیات کا گڑھ بن چکی۔ ہمارے نمائندہ خصوصی کی موقع واردات سے خصوصی رپورٹ سنیے۔ دونوں گلا پھاڑ پھاڑ کر ایک ہی بات سارا دن دھراتے رہتے اور اس طرح اپنی کم ظرفی اور کم عقلی سے پوری قوم کو مستفید کرتے۔مجھے یہ بات یوں یاد آئی کہ پچھلے دنوں قائداعظم یونیورسٹی میں منشیات کے حوالے سے میڈیا پر بہت سی خبریں آئیں اور میڈیا پرمنشیات کے حوالے یونیورسٹی کے بارے ایک منظم منفی پراپیگنڈہ کیا گیا۔بلا شبہ قائداعظم یونیورسٹی ملک کی بہترین یونیورسٹی ہے اور اس کا یہ اعزاز برس ہا برس سے قائم ہے ۔ پاکستان میں قائداعظم یونیورسٹی کے چاند کی طرح اس چمکتے مقام پر کچھ احمقوں نے تھو کنے کی ناکام کوشش کی مگر کچھ حاصل نہ کر سکے۔ان کا وہی انجام ہوا جو ہمیشہ چاند پر تھوکنے والوں کا ہوتا ہے۔ایجوکیشن یونیورسٹی کے نوجوان وائس چانسلرڈاکٹر رئوف اعظم ،جو قائد اعظم یو نیورسٹی کے پرانے طالب علم بھی ہیں ،تعلیمی اداروں کے مسائل کو بڑی گہری نظر سے دیکھتے اور پوری طرح سمجھتے ہیں۔ ان کی آراء میں وزن ہوتا ہے،امام غزالی نے کہا ہے ریاضی منطق کا علم ہے ۔ ڈاکٹررئوف اعظم بھی ریاضی دان ہیں اور امام غزالی کے افکار کی مکمل تصویر۔ ایسی دلیل سے بات کرتے ہیں کہ کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ ملک میں کوئی یونیوسٹی ایسی نہیں جہاں منظم انداز میں منشیات فروخت یا استعمال ہوتی ہوں۔ بلکہ ان اداروں میں صحت تباہ کرنے والی منشیات کے استعمال کا تصور ہی نہیں۔ کبھی دو چار سال میں کوئی ایک طالبعلم ایسا نظر آ جائے تو اس کا الزام یونیوسٹی پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔یہ معاشرتی برائی ہے جس کا سدباب تعلیمی اداروں کو نہیں معاشرے کو کرنا ہے۔پچھلے چند سالوں میں صرف تین مشہور واقعات نظر آئے ہیں،ایک قائداعظم یونیورسٹی، دوسرا LUMS اور تیسرا کسی سکول کے حوالے سے تھا۔ ان تین واقعات کی اساس پر سبھی تعلیمی اداروں کو قصور وار قرار دینا ٹھیک نہیں۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ ایسے چھوٹے چھوٹے واقعات کا آسانی سے مکمل سدباب کر لیتی ہے۔ ایجوکیشن یونیورسٹی میں کام کے دوران مجھے ایک ایسا واقعہ رپورٹ ہوا تھا، ہم نے اس طالبعلم کو فورا نکال دیا تھا۔ہم کیا ساتھی طالبعلم بھی اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو برداشت نہیں کرتے۔ اس لئے بہت معمولی سطح پر بھی ایسی باتیں اگر ہوں تو چھپ نہیں سکتیں ۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ تعلیمی اداروں میں منظم طریقے سے منشیات کی فروخت یا اس کا استعمال ایک پراپیگنڈے کے سوا کچھ نہیں۔ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ حکومتی سطح پر کچھ دنوں پہلے ایک تجویز زیر بحث تھی کہ داخلے کے وقت ہر طالب علم کا ٹیسٹ لیا جائے ۔، میں نے اس تجویز کی مخالفت یہ کہہ کر کی تھی کہ یہ ایک لاحاصل سعی ہو گی۔ کیونکہ بچے ٹیسٹ کی تیاری کرکے آتے ہیں۔ منشیات کا اثرخون میں چند گھنٹے تک رہتا ہے ۔ اسی لئے کھلاڑیوں کا ڈوپ ٹیسٹ بھی موقع پر لیاجاتا ہے۔ یہ باتیں طلبہ کو بھی پتہ ہوتی ہیں۔ایسے حالات میں کون ایسا احمق طالبعلم ہو گا جو ٹیسٹ کا جاننے کے باوجود گھر سے نشہ کرکے آئے۔ ایک دوسری تجویز یہ بھی تھی ہر یونیورسٹی میں ایک ڈرگ ٹیسٹنگ لیباٹری بنائی جائے۔ میں نے اس سے بھی اتفاق نہیں کیا تھا کہ چار پانچ سالوں میں کسی ایک مجرم طالب علم کے ٹیسٹ کے لئے لیباٹری اور عملے کے بھاری اخراجات اٹھانا غلط ہے۔میڈیا کا رول بھی افسوس ناک ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں جنہیں معاشرے کی فلاح کے لئے میڈیا کو نظر انداز کر دینا چاہئے اس غیر ضروری اچھالا جاتا ہے جو انتہائی غلط ہے۔مغربی ممالک کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ وہاں وہ ادارے جہاں آرٹ کی تعلیم دی جاتی ہے، وہاں کے اساتذہ اور طلبہ کو مخصوص حالات میں اپنی توجہ اپنے کام پر پوری طرح مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔جس کے لئے وہ نشے کی مدد لیتے ہیں۔اس ہلکے پھلکے نشے کے نتیجے میں ان کی توجہ بہت سی چیزوں سے ہٹ کر اپنے کام تک محدود ہو جاتی ہے۔مگر وہ نشہ انتہائی مضر اور ہیروئین جیسا نہیں ہوتا۔ ہمارے بڑے فنکار اور ایسے ملکی تعلیمی اداروں جو فنکاروں کی نرسریاں ہیں وہاں بھی کچھ لوگ یقینا اپنے فن کے ساتھ انصاف کرنے اور اس میں نکھار پیدا کرنے کے لئے ایسا نشہ کرتے ہونگے۔مگر یہ وہ نشہ ہوتا ہے جس کے اثرات ان کی ذات سے بڑھ کرمعاشرہ میں محسوس نہیں ہوتے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ نشہ ایک برائی ہے اور ہمیں نئی نسل کو اس برائی کے اثرات سے دور رکھنا ہے۔