Get Adobe Flash player

ا پنے ہاتھوں چتاکی تیاری۔۔۔ سمیع اللہ ملک

گزشتہ سے پیوستہ
ان میں سے آسام وہ ریاست ہے جہاں بھارت سے علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔یہ ساراکاریڈورکاٹ دیاجائے توبھارت کاان سات ریاستوںسے رابطہ کٹ جائے گا۔چین نے بھوٹان اورسکم کے درمیان واقع اپنے مذکورہ علاقے میں سڑک میں تعمیرشروع کررکھی ہے جوچین بھارت سرحدتک آئے گی۔گزشتہ ماہ جون میں بھارتی فوج نے چینی علاقے میں داخل ہوکرسڑک کی تعمیرروک دی اورعلاقے پرقبضہ کرلیااوروہاں سے چینی فوج کونکال دیا۔بھارت کو اندیشہ یاخدشہ ہی نہیں پورایقین ہے کہ آئندہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں چین اس سڑک کے ذریعے سے مذکورہ کاریڈورپرگولہ باری کرکے یہ راستہ بندکردے گاجس میں سے بھارت کی ایک اہم مرکزی ریلوے لائن اورایک سڑک گزرتی ہے۔بھارت اس راستے کوچوزے کی گردن کانام بھی دیتاہے یعنی چین کوحملہ بھی نہیں کرناہوگا بس گولہ باری کرے گاجیساکہ خودبھارت کنٹرول لائن سے مسلسل کرتارہتا ہے اورچوزے کی گردن کاٹ دے گا۔چین بارباراپناعلاقہ خالی کرنے کی وارننگ دے رہاہے لیکن بھارت کان نہیں دھررہا۔ بھارت کاکہناہے کہ چین اقصائے چین کشمیراور دوسرے علاقے واپس کردے جن پربھارت نے  کی جنگ یا اس سے پہلے سے قبضہ کررکھاہے۔بھارت کے پاس ایک بہت بڑاکارڈتبت ہے جسے استعمال کرکے وہ چین کو پریشان کرسکتاہے لیکن وہ یہ کارڈبھی استعمال نہیں کرے گاکیونکہ اس کے ردعمل میں چین ایک نہیں،دو دوکارڈ(کشمیراورآسام)استعمال کرے گااوربھارت کو مزید پریشانی کاسامنارہے گا ۔بھوٹان سے ملحقہ اس علاقے کو ڈوکلامکی سطح مرتفع کہا جاتاہے۔چین سڑک کی تعمیرپر تلاہوا ہے اوربھارت اسے روکنے کیلئے ڈٹاہواہے۔ معاملہ تشویشناک ہے جومزید تشویشناک ہوسکتاہے،تشویش سے بڑھ کرخطرے کی حد میں داخل ہوسکتاہے لیکن بھارت کی اپنے ہمسایوں سے چھیڑ چھاڑکاایک بڑاخطرہ عرصے سے کنٹرول لائن پرمنڈلارہاہے۔پاکستان نے اب تک کمال ضبط وتحمل کامظاہرہ کیاہے مگر تابہ  کے؟وہ وقت بہت جلدآ سکتا ہے کہ بھارت کوسبق سکھانے کیلئے فیصلہ کن اقدام کردیاجائے۔کنٹرول لائن پربھارت کی قابض فوجوں کی جانب سے سرحدی اورجنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اب روزکامعمول بن گئی ہے نیزاب بھارتی درندوں نے مقبوضہ اورآزادکشمیرمیں معصوم شہریوں اورآبادی کو نشانہ بنانامعمول بنالیاہے۔ گزشتہ چندروزپہلے مقبوضہ کشمیرکے گریزسیکٹرمیں بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز نے فرضی جھڑپ کے دوران میں دو بے گناہ نوجوانوں کوگولیوں سے چھلنی کردیا جبکہ فوجی ترجمان نے مارے جانے والوں کو دراندازقراردے دیا،ادھر اننت ناگ ضلع میں بھی گزشتہ دنوں مکمل ہڑتال رہی اورمختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے ۔ یہ ہڑتال تین نوجوانوں کی شہادت کے خلاف کی گئی۔قاضی گنڈ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سابق سرپنچ نذیراحمدزخمی ہوگیا۔ کنٹرول لائن کے سماہنی اور نکیال سیکٹرپربھارتی فوج نے بلااشتعال گولہ باری اور فائرنگ کی۔تندرپورکارہائشی راج منصب دادگھرکے صحن میں گولہ لگنے سے ایک ٹانگ سے محروم ہو گیا اوراس کادس سالہ بیٹاشہید ہوگیا۔ دیگرعلاقوں میں تیرہ افرادکے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ چاہی گڑھامیں ایک خاتون یاسرہ بی بی شدیدزخمی ہو گئی۔بھارتی گولہ باری سے کئی جانوربھی ہلاک ہوگئے اورپوراعلاقہ اپنے گھروں میں محصور ہے۔پاک فوج نے بھرپورکاروائی کرتے ہوئے دشمن کی پوسٹوں اوردیگرتنصیبات کو نشانہ بناکرتباہ کردیا۔دوسری طرف بھارتی ترجمان نے دعوی کیاہے کہ پاکستانی فوج کی گولہ باری سے دوبھارتی فوجی مارے گئے ہیں۔کنٹرول لائن پربھارت کی بلااشتعال انگیزیوں کاسلسلہ اب ایک معمول بن گیاہے۔ اخباری رپورٹرزکواب اس میں خبروالی کوئی بات ہی نہیں نظر نہیں آرہی۔زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ اشتعال انگیزیاں روکنے کی بجائے بھارت تعاون پرآمادہ نہیں۔اس کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنزنے پاکستانی ڈی جی ایم او کے رابطہ پرکہاکہ بھارت اپنے دفاع میں فائرنگ کررہاہے۔ چند ہفتے قبل آزادکشمیرمیں اقوام متحدہ کے مبصرین سرحدی علاقے کادورہ کررہے تھے۔ان کی گاڑی پراقوام متحدہ کاجھنڈابھی نصب تھامگربھارتی فوج نے انہیں براہِ راست نشانہ بنایا۔خوش قسمتی سے مبصرین بحافظت وہاں سے نکل آئے ،اس واقعے سے معلوم ہوتاہے کہ بھارت عالمی اداروں کوکشمیرکے تنازع میں کسی طرح کرداردینے کے خلاف ہے اوروہ عالمی مینڈیٹ کے حامل اداروں کے اسٹاف کونشانہ بنانے سے گریزنہیں کرتا۔جنوب مشرقی ایشیاء آبادی کے لحاظ سے دنیاکاسب سے بڑاخطہ ہے۔اس بڑی آبادی کوزندگی کی بنیادی سہولتوں میں کمی اورعدم دستیابی کاسامنا ہے۔ صحت،تعلیم،روزگاراورغذاسے محرومی نے اس خطے کے باصلاحیت لوگوں کے مسائل میں اضافہ کیاہے۔بھارت میں چالیس کروڑ سے زائدآبادی خطہ غربت سے نیچے زندگی گزاررہی ہے۔پاکستان میں غریب افراد کی تعدادچھ کروڑکے قریب ہے۔دونوں ملک ایک دوسرے کے ہمسائے ہیں۔باہمی تعلقات اچھے ہوں توایک دوسرے کی بہت سی ضروریات پوری کر سکتے ہیں لیکن تنازعہ کشمیرپرمسلسل بھارتی ہٹ دھرمی سے تعلقات بہترنہیں ہورہے۔تنازع کوپرامن اندازمیں طے کرنے کی کوششیں جب بارآورنہ ہوسکیں اور روایتی ہتھیاروں والی جنگیں بھی نتیجہ خیزنہ رہیں توتباہ کن ہتھیاروں کی نہ ختم ہونے والی دوڑشروع ہوگئی ۔بھارت نے  ایٹمی دھماکے کئے توپاکستان نے جواباایٹمی دھماکے کر ڈالے تاکہ بھارت کو اس کی اوقات میں رکھاجاسکے اوراب تومیزائل ٹیکنالوجی میں توبھارت کوبہت پیچھے چھوڑچکاہے۔ایٹمی ہتھیاروں کی موجودگی نے مسئلہ کشمیرحل کرنے کی سنجیدہ کوششوں کی ضرورت پہلے سے دوچندکردی ہے۔ خطے کی سیکیورٹی میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی بڑھنے لگی ہے جبکہ دونوں ممالک کے غریب عوام کاپیٹ کاٹ کاٹ کرخطرناک اسلحے کے گودام بھرنے کی دوڑ جاری ہے۔ پاکستان نے ٹیکٹیکل ہتھیارتیارکرکے خودکواس دوڑسے کسی حدتک الگ کرلیاہے تاہم بھارت اب تک جنگی جنون میں مبتلاہے۔تازہ اعدادو شمارکے مطابق بھارت ، امریکا ،اسرائیل اوریورپ سے اسلحہ وجنگی ٹیکنالوجی خریدنے والے پہلے ممالک میں شامل ہوچکاہے۔پاکستان کاموقف ساری دنیاکے سامنے واضح رہاہے کہ مسلم اکثریتی کشمیرکا پاکستان کے ساتھ الحاق کیاجائے۔دونوں ممالک کے درمیان پہلی جنگ کے بعد اقوام متحدہ نے ایک قراردادمنظورکی تھی جس میں کشمیری باشندوں کوحق خود ارادیت دینے کے معاہدے پرعالمی طاقتوں کے بطورضامن دستخط موجودہیں لیکن بھارت ابھی تک سفارت یاشروفت کی زبان سمجھنے کیلئے تیارنہیں بلکہ بلاجوازاشتعال انگیزیوں کوبڑھاوادے رہاہے۔بھارت نہ صرف آزادکشمیر کے دیہاتوں کو نشانہ بناتارہتاہے بلکہ مقبوضہ کشمیرسے آنے والے دریائوں کاپانی بھی روک رہاہے جس سے کسی بھی وقت دونوں ملکوں میں فوجی تصادم کا خطرہ ردنہیں کیاجاسکتا۔دنیاکاکوئی بھی ملک اپنے علاقوں میں ایسی خطرناک صورتحال پیدانہیں کرتا لیکن بھارت کے متعصب حکمران جنگی جنون میں مبتلا ایک ایسی آگ سے کھیل رہے ہیں جوسارے ملک کونیست ونابود کرسکتی ہے۔ بھارت چین کے ساتھ بھی سرحدی چھیڑچھاڑمیں مصروف ہے۔حال ہی میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں سینکڑوں بھارتی فوجیوں کے جہنم رسیدہونے کی اطلاعات بھی ہیں۔ادھرکشمیرمیں اشتعال انگیزی خطرناک حدوں تک پہنچ چکی ہے۔کیابھارت اورچین دونوں کے ساتھ جنگ چاہتاہے؟کیا امریکاکے کہنے پر بھارت خوداپنے ہاتھوں سارے ملک کی چتاتیارکرنے کی ہمت رکھتاہے؟