Get Adobe Flash player

امریکہ میں بیت الخلا استعمال کرنے کی سزا 20سال۔۔۔ ڈاکٹر بی اے خرم

عاطف بھنداری مصری امریکہ نژاد ہے جو 2002 سے امریکہ کا مکین ہے ، بھنداری ارجنٹائن سے پام سپرنگ اپنے گھر کی طرف جانے کیلئے ڈیلٹا ائیر لائن پر چڑھا اور اپنی سیٹ پر جا بیٹھا،عاطف بھنداری کو ڈائریا کا مرض لاحق تھا جس کے باعث بیت الخلا جانے کی طلب بار بار ہو رہی تھی، جہاز کو ٹیک آف کرنے میں ذرا دیر تھی تو عین چند منٹ پہلے عاطف بھنداری کو زور سے بیت الخلا  جانے کی طلب ہوئی ،دوسری طرف جہاز کے ٹیک آف کا وقت بھی شروع ہوگیا ،بھنداری اپنی سیٹ سے اٹھا اور واش روم کی طرف چلنے لگا ،تھوڑی دیر بعد واش روم میں داخل ہوا ۔بعد ازاں جیسے ہی بھنداری بیت الخلا ء سے نکلا تو عجب معاملہ دیکھتا ہے ،جہاز میں سیکیورٹی الرٹ ہے اور ڈیلٹا سیکورٹی بھنداری کو اریسٹ کرنے کیلئے اپنے ہاتھ اوپر کرنے کو کہتی ہے ،یہ دیکھ کر بھنداری احتجاج کرتا ہے لیکن سیکیورٹی کی طرف سے سخت آرڈر دیئے جاتے ہیں کہ تم اپنی جان کے خود ذمہ دار ہوگے اسی دوران ایک مسافر سارے واقعہ کی ویڈیو بنا لیتا ہے، بھنداری کو ایمرجنسی بنیاد پر جہاز سے اریسٹ کر کے اتار لیا جاتاہے۔اریسٹ کرنے کے بعد بھنداری کو پتہ چلتاہے کہ وہ ظاہری بودوباش ،رنگ اور شکل و شباہت سے جرائم پیشہ اور دہشتگرد معلوم ہوتا ہے ،اس بات کا اندازہ سیکیورٹی عملہ کو تب ہوا جب بھنداری جہازکے ٹیک آف کرنے کے چند منٹ پہلے مشکوک انداز سے چل کر واش روم گیا۔بھنداری کو عدالت میں ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا صرف اس بات کو ثابت کرنے کیلئے کہ بھنداری شکل و شباہت ،رنگ و ظاہری بود و باش سے ایک دہشتگرد یا جرائم پیشہ نہیں ہے،بھنداری کو واش روم میں جانے کی سزا 20سال تک جیل ہوسکتی تھی ۔بار بار دوران ٹرائل بھنداری کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا گیا،دوران ہراست بھنداری کو اذیت اور کرب کا سامنا کرنا پڑا ،بھنداری دوران ٹرائل رو رو کر اپنی سچائی کا ثبوت دیتا رہا ،جیوری کے شفاف اوپن ٹرائل کی بابت بھنداری پرلگائے گئے الزامات ثابت نہ ہوسکے ، بالآخر بھنداری کو باعزت رہا کردیا گیا۔آج عاطف بھنداری رو رو کر دنیا سے یہ سوال کرتاہے میرا چہرہ،میرا رنگ ،میرا جسم ،میرے بال ،میری بول چال سب قدرتی ہے ،میں خود اپنے جسم رنگ،چہرہ یا اپنی نسل میں تبدیلی نہیں کرسکتا ۔تو پھر کیوں مجھے چند منٹ کیلئے بیت الخلا  جانے کی سزا جیل ٹرائل میں گزارنی پڑی ،اگر آج میں اپنی سچائی کو جیوری کے سامنے ثابت نہ کرسکتا تو مجھے 20سال جیل میں گزارنے پڑتے ،سوال یہ ہے کہ جب میں ائیر پورٹ سے لیکر جہاز میں داخل ہوا تب تک کسی نے مجھے مشکوک نہ کہا لیکن جیسے ہی میں جہاز میں باتھ روم میں حاجت پوری کرنے گیا تو مجھے مشکوک سمجھ لیا گیا یہ کہاں کا انصاف ہے؟۔آج پوری دنیا میں روشن خیالی کی بات کرنے والا امریکہ خود نسل پرستی اور تنگ نظری کا شکار ہو چکا ہے،بھنداری کا واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ امریکہ کی مختلف ریاستوں میں متعدد دفعہ ایسے واقعات رو نما ہو چکے ہیں جن میں ایک سکول کے استاد کو دوران ٹیک آف بیت الخلا  استعمال کرنے پر سیکیورٹی کے نام پر اریسٹ کرکے فلائٹ سے نکال دیاتھا،جبکہ ایک آٹزم کی مریض بچی کو فلائٹ اٹینڈنٹ نے کھانا مانگنے پر ایمرجنسی صورت حال میں ہنگامی لینڈنگ کر کے جہاز سے زبردستی اتاردیا تھا وجہ یہ تھی کہ بچی کا کھانا مانگنا فلائٹ اٹینڈنٹ کیلئے باعثِ تشویش تھا۔لبرل ،لیفٹس اور سوشلسٹ بلکہ پینے پلانے والے افراد امریکہ اور یورپ کو بہت اچھا سمجھتے ہیں وہاں کی شخصی اور مذہب آزادی کو دیکھ کر یہ پاکستان کے بارے میں مختلف رائے بناتے ہیں اور عجب عجب دلائل پیش کرکے اپنا موقف درست ثابت کرتے ہیں لیکن میں نے آج تک پاکستان میں ایسا نہیں دیکھا کہ کسی فلائٹ اٹینڈنٹ نے سیکورٹی کے نام پر کسی مریض بچی کو زبردستی ہنگامی لینڈنگ کرکے جہاز سے بے دخل کردیا ہوجسکا یہ قصور ہو کہ اس نے مارے بھوک کے کھانا مانگ لیا ،ٹرمپ حکومت کے دورِ اقتدار میں نسل پرستی کے رجحان میں خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہے جس سے یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائٹس جوکہ یواین جنرل اسمبلی 1948کا حصہ ہے اسکی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ نسل پرستی اور شخصی تفریق کے رجحان میں اضافہ کے باعث امریکہ میں انسانی استحصال کی جو لہر پنپ رہی ہے اس سے دنیا بھر کے ممالک کو امریکہ کے حالات پر تشویش ہے،ایک طرف امریکہ نام نہاد دہشتگردی کیخلاف جنگ ہار چکا ہے دوسری طرف نسلی امتیاز کی جنگ اور معاشی بدحالی کا شکار ہورہاہے جوکہ امریکہ کی مسلم مخالف دشمنی کا نتیجہ ہے۔یہ سب نسلی امتیاز ،شخصی استحصال اور اپنے ہی ملک کے شہریوں کو مشکوک سمجھنا،ان کے ساتھ بدسلوکی کرنادہشتگردی کے نام پر معصوم انسانوں کا خون بہائے جانے کا نتیجہ ہے امریکہ اپنے ہی گھر میں اتنا ڈرا ہوا ہے کہ اسکو ہر کوئی دہشتگرد نظر آتا ہے ،امریکہ کے شہری دہشتگردی کے خوف میں مبتلا ہو چکے ہیں اسی لیئے کسی کو بھی سیکیورٹی تھریٹ سمجھ کرا سکا استحصال کیا جا رہاہے۔