امریکی اندیشوں کا دھواں اور ہماری مجرمانہ غفلت۔۔۔ضمیر نفیس

امریکہ کا یہ الزام نیا نہیں کہ پاکستان  بعض دہشت گردگروپوں کو تحفظ فراہم کر رہا ہے' یہ الزام مختلف اوقات میں مختلف انداز سے سامنے آیا ہے کبھی حقانی نیٹ ورک کا نام لیا گیا اور کہا گیا کہ پاکستان اس نیٹ ورک کو تحفظ فراہم کر رہا ہے کبھی کہا گیا کہ طالبان شوریٰ کو تحفظ دیا جارہا ہے اور اس کے ارکان کوئٹہ میں محفوظ ہیں اب امریکی جنرل نکلسن نے کہا ہے کہ طالبان قیادت کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہے اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے صدر ٹرمپ کی گفتگو سے یہ نتیجہ بھی واضح ہو رہا تھا کہ اگر پاکستان نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو ہمیں یہ کارروائی کرنی پڑے گی۔مذکورہ الزامات کے جواب میں ہمارا سرکاری موقف یہ ہے کہ ہماری سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروپ محفوظ نہیں ہے ہم نے آپریشن ضرب عضب کے دوران اور اس کے بعد بلاتمیز تمام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے اور ان کے ٹھکانے ختم کئے ہیں اس حوالے سے ہم یہ استدلال بھی دیتے ہیں کہ دہشت گردوں کی غیر قانونی نقل و حمل روکنے کے لئے بارڈر مینجمنٹ کا نظام ضروری ہے جس طرح ہم نے  افغان سرحد کے ان علاقوں میں بارڈر مینجمنٹ کی ہے ہے جہاں   سے دہشت گرد پاکستان کے اندر داخل ہوتے۔ اسی طرح افغانستان کو بھی اس نظام کو لاگو کرنے کے سلسلے میں ہم سے تعاون کرنا چاہیے بارڈر مینجمنٹ موثر ہوگی ' بعض چیک پوسٹیں اور چوکیاں مزید تعمیر کی جائیں گی سرحد پر مانیٹرنگ سخت ہوگی تو کوئی دہشت گرد کسی ایک ملک سے دوسرے ملک داخل نہیں ہوسکے گا' اس کے ساتھ ہی ہم امریکہ  اور افغانستان کو یہ مشورہ بھی دیتے ہیں کہ جس طرح ہم نے اپنے ہاں دہشت گردوں کا خاتمہ کیا ہے اور ان کا انفراسٹرکچر تباہ کیا ہے اسی طرح وہ بھی افغانستان کے اندر بھرپور آپریشن کریں امریکہ کے الزامات اور ہمارا موقف سب پر آشکار ہے لیکن کچھ وجوہات ایسی ہیں جو امریکیوں کے خدشات کا باعث ہیں اگر ہم ان خدشات کو دور کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو یہ صورتحال درپیش نہ ہوتی جو آج ہے مثلاً بہارہ کہو میں  سراج حقانی کا ایک قریبی رشتے دار جو بعض حلقوں کے نزدیک اس کا بھائی تھا نان  سے لے کر واپس گھر کی طرف جارہا تھا کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا' وفاقی دارالحکومت کے اس علاقہ سے سراج حقانی کے اس قریبی رشتے دار کی ہلاکت اور موجودگی ایک بڑا سوالیہ نشان تھا مگر ہمارے پاس کوئی مضبوط استدلال نہ تھا کہ یہ نوجوان بہارہ کہو میں کیا کر رہا تھا یہی نہیں چند ہی ماہ پیشتر کوئٹہ میں افغان طالبان کا امیر ملا اختر منصور مارا گیا اسکے قبضے سے ایک دوسرے نام کا شناختی کارڈ برآمد ہوا معلوم ہوا کہ ملا اختر منصور پاکستان کے شناختی کارڈ پر ایک دوسرے نام سے نقل و حرکت کرتا تھا بعدازاں اس افسر کو بھی گرفتار کرلیاگیا جو اسے شناختی کارڈ فراہم کرنے میں ملوث تھا تیسرا واقعہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا ہے۔ پولیو کے خلاف مہم کی آڑ میں جس پاکستانی ڈاکٹر شکیل نے اسامہ بن لادن کی موجودگی کی دریافت کی اس کے ذریعے تمام معلومات امریکیوں تک پہنچیں چنانچہ اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کے لئے امریکہ نے ایسے آپریشن کا فیصلہ کیا جسے وائٹ ہائوس میں بیٹھ کر صدر اوبامہ نے براہ راست دیکھا ہمیں اس آپریشن کی خبر اس کی تکمیل کے بعد ہوئی جب امریکی کمانڈوز اسامہ کو ہلاک کرنے کے بعد اس کی لاش لے کر پاکستان کی فضائی حدود سے نکل گئے تھے۔اندیشے یونہی جنم نہیں لیتے' دھو اں وہیں اٹھتا ہے جہاں آگ جلائی گئی ہو دیکھنے والوں کو دھواں دکھائی دے گیا مگر ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم  نے تو سرے سے آگ نہیں جلائی ہمیں کیا خبر کہ دھواں کہاں سے اٹھتا ہے ہم اندیشوں  کو صاف کرنے میں ناکام رہے ہیں چنانچہ دوسروں کے اندیشے آج ہمارے سامنے الزامات کی صورت کھڑے ہیں' ملا اختر منصور ہمارے علم میں تھا یا نہیں ہماری دھرتی پر مارا گیا' اسامہ بن لادن ہمارے علم میں تھا یا نہیں ہماری سرزمین پر مارا گیا حقانیوں کا نوجوان بھی وفاقی علاقہ میں مارا گیا' اگر یہ سب کچھ ہمارے علم میں نہیں تھا تو بھی یہ قومی جرم سے کم نہیں کہ یہ مجرمانہ غفلت ہے  اور اگر علم میں تھا تو اس پر کیا استدلال دیا جاسکتا ہے شاید کوئی استدلال کام نہیں آسکتا ابھی تک ہم نے ان تینوں واقعات کی اپنی سرزمین پر موجودگی کا جواز پیش نہیں کیا۔