ٹرمپ دھمکیوں کے جواب میں موثر پالیسی کی ضرورت۔۔۔رانا اعجاز حسین

 نائن الیون کے بعد فوجی آمر پرویز مشرف کو اپنے اقتدار کے تحفظ، اور امریکی دھمکیوں کے باعث دہشت گردی کے خلاف پرائی جنگ میں شامل ہونا پڑا مگر شمولیت کے بعد پاکستان نے امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر امن و امان کے قیام اور خطے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جنگ اس قدر جانفشانی سے لڑی کہ پاکستان کے تقریبا 73ہزار شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو جان قربانی دینا پڑی، اس کے علاوہ پاکستان کو تقریبا 150 ارب ڈالر کا اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دیکھا جائے تو کسی بھی جنگ میں اس سے بڑی قیمت ، اور اس سے بھاری نقصان اور کیا ہوسکتا ہے۔ مگر امریکہ جسے اپنی ناقص حکمت عملی اور جابرانہ سوچ کی بدولت افغان سرزمین پر شکست فاش کا سامنا ہے ، دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان کی مثالی خدمات کے اعتراف کی بجائے کھلی دھمکیاں دیتے ہوئے اور دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اپنی شکست کا نزلہ پاکستان پر ڈال رہا ہے ۔ گزشتہ دنوں افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان اور ڈومور کا مطالبہ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر پاکستان کی قدر کرتے ہیں مگر ہم پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔ امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں پاکستان کو اپنی کمٹمنٹ دکھانا ہوگی۔ پاکستان سے نمٹنے کے لئے اپنی سوچ تبدیل کر رہے ہیں جس کے لئے پاکستان کو پہلے اپنی صورتحال تبدیل کرنا ہوگی اور پاکستان کو قیام امن کے لئے دلچسپی لینا ہوگی، اگر پاکستان نے دہشت گردوں کی حمایت نہ چھوڑی تو اس کیلئے اسے بہت کچھ کھونا پڑے گا۔ دوسری جانب بھارت سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ نے تعریفوں کے پل باندھ دیئے، ان کا کہنا تھا امریکہ افغانستان میں استحکام کے لئے بھارتی کردار کو سراہتا ہے، بھارت امریکہ کے ساتھ تجارت سے اربوں ڈالر حاصل کرتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ بھارت افغانستان کی اقتصادی معاونت اور ترقی کے لئے مزید کام کرے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مزید 3900 فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان بھی کیا،اطلاعات کے مطابق افغانستان میں8400 امریکی فوجی پہلے ہی تعینات ہیں۔ بھارت کی تعریف کے پل باندھتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ کی یہ بات بڑی دلچسپ کی ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ تجارت میں بہت پیسے کماتا ہے اس لئے اب بھارت افغانستان میں سرمایہ کاری کرے اوراس جنگ شکستہ میں امریکہ کا ہاتھ بٹائے لیکن بھارتی سول اور فوجی قیادت کا ردعمل صاف جواب میں ہوگا کیونکہ بھارتی فوج پہلے ہی کشمیر میں ذلیل ہو رہی ہے اس لئے افغانستان میں نیا محاذ کھول کر آفتوں اور مصیبتوں کو اپنے گھر کی راہ نہیں دکھائے گی۔ جبکہ جوش و جذبات میں امریکی صدر ٹرمپ زمینی حقائق کو بھی بھلا رہے ہیں، انہیں یاد ہونا چاہیے کہ امریکی افواج کو سامان رسد کے سارے راستے پاکستان سے ہوکر گزرتے ہیں، جب پاکستان نے نیٹو افواج کو پاکستان کے راستے ہرقسم کی سپلائی منقطع کی تھی تو امریکیوں نے روس کے ذریعے سپلائی بحال کر نے کوشش کی تھی جس کے نتیجے میں سامان ایک مہینہ کی تاخیر سے پہنچتا تھا اور اخراجات بھی بہت زیادہ تھے، جس پر نہ چاہتے ہوئے بھی امریکیوں کو پاکستان سے معافی تلافی کرنا پڑی تھی۔ جبکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے افغان جنگ میں شریک ہونے، اور نیٹو افواج کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور امریکہ کو پاکستان کے اندر ڈرون حملوں کی اجازت دینے سے ہی پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آیا، جس کے باعث بے گناہ شہری امریکی ڈرون حملوں کی زد میں آکر مارے گئے اور اس کے ردعمل میں ہونیوالی دہشت گردی کی وارداتوں اور خودکش حملوں کے باعث بھی شہریوں کا خون ناحق بہنے لگا۔ اور اس طرح یہ امریکی فرنٹ لائن اتحادی اس پرائی آگ میں کود کر دہشت گردوں اور انتہا پسند تنظیموں کے مین نشانے پر آگیا۔ اس جنگ میں خود امریکہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے کے باوجود خطے میں دہشت گردی پر قابو پانے میں بری طرح ناکام رہا ۔ درحقیقت امریکہ اس خطہ کو دہشت گردی سے مکمل طور پر نجات دلانے میں مخلص ہی نہیں، بلکہ اپنے مفادات کے تحت دہشت گردوں کے مختلف گروپوں کی سرپرستی کررہا ہے اور انکی دہشت گردی کی کارروائیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈال کر اور پاکستان کو ہراساں کرکے چین اور سی پیک منصوبے سے دور کرنا چاہتاہے اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنے کی دیرینہ خواہش بھی رکھتا ہے۔آج ہمیں قومی یکجہتی کو فروغ دے کر امریکہ کے اس دہرے کردار کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس تناظر میں سب سے مناسب یہی ہے کہ امریکہ کی افغانستان ، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کی پالیسیوں میں تبدیلی کے بعد پاکستان بھی اپنی پالیسی میں تبدیلی لائے،اور خود کو اس پرائی جنگ سے علیحدہ کرتے ہوئے امریکہ کو افغانستان میں اپنی جنگ خود لڑنے دے۔، جہاں طالبان آج بھی اسکی مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کو باور کروارہے ہیں کہ اگر اس نے افغانستان سے اپنی فوجیں نہ نکالیں تو افغانستان کو امریکی فوج کا قبرستان بنا دیا جائیگا۔جب امریکہ کو ہماری قربانیوں کا اعتراف ہی نہیں تو ہمیں اس پرائی آگ میں خود کو مزید جھلسانے کی کیا ضرورت ہے۔ جبکہ پاکستان کے لئے امریکی امداد میں کمی پہلے ہی آچکی ہے، حکومت کو بخوبی علم ہے کہ جون 2017 میں واشنگٹن نے حقانی گروہوں کے خلاف ناکافی کارروائی کی وجہ سے پاکستان کو دی جانے والی تین سو پچاس ملین ڈالر کی فوجی امداد روک دی تھی۔ ہمیں صرف اپنے وطن کے دفاع کے تقاضے نبھانے سے ہی سروکار ہونا چاہیے جو مثالی قومی اتحاد و یکجہتی کا متقاضی ہیں۔ وزیر خارجہ کو اپنا دورہ امریکہ منسوخ کردینا چاہئے، اورپاکستان کوٹرمپ کی گیدڑ بھبھکیوں کی ذرا بھی پروا نہیں کرنی چاہئے بلکہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے واضح بتا دینا چاہئے کہ پاکستان دیگر ملکوں کی طرح کمزور نہیں جوکہ با آسانی امریکی ترنوالہ بن جائے گا بلکہ پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ایک ایسا مضبوط ملک ہے جس کی حفاظت کیلئے جان پر کھیل جانے والی بہادر مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کی قربانی پیش کرکے ، اور اللہ تبارک و تعالی کی خصوصی نصرت و مدد سے پوری دنیا میں اپنی شجاعت و بہادری کی دھاک بٹھا چکی ہے۔دوسری جانب نیٹو فورسز دہشت گردی کیخلاف لڑی جانے والی جنگ میں دنیاکے جدید ترین جنگی سامان حرب و ضرب سے لیس ہونے کے باوجود افغان سرزمین کو دہشتگردوں سے پاک تو درکنار انہیں اپنی جگہ سے ہلا بھی نہیں سکی اور دندناتے پھرتے دہشت گرد آج بھی افغانستان میں ان کا منہ چڑا رہے ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کررہاہے، گزشتہ دنوں آپریشن خیبر فور کے ذریعے بچے کھچے دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع کر دیا گیا ہے اور انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب اس پاک سرزمین پر بسنے والے دہشت گردی کا نام و نشان تک بھول کر روشن مستقبل اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہوں گے ۔