قربانی کی کھالیں ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 پاکستان میں ہر سال عید الضحیٰ کے موقع پر اربوں روپے مالیت کے جانور قربان کیے جاتے ہیں۔امسال بھی پاکستان میں 1 کروڑ 5 لاکھ جانور قربان کئے جانے کی توقع ہے۔ ان جانوروں کی کھالیں بھی ثواب کی نیت سے لوگ مختلف امدادی تنظیموں، دینی مدارس اور یتیم خانوں کو دیتے ہیں۔ تاہم گزشتہ چند سالوں میں مختلف جہادی اور شدت پسند تنظیموں بھی کھالیں اکٹھی کرنے کے کام میں پیش پیش ہیں۔ذوالحج کی آمد کے ساتھ ہی فلاحی تنظیموں اور دینی مدارس نے چرم قربانی اکٹھے کرنے کیلئے بینر، پوسٹر اور تنظیمی پتے اور فون نمبرز والے شاپنگ بیگز تقسیم کرنا شروع کر دیئے۔ حکومتی ہدایت کی روشنی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تنظیموں کی ایسی سرگرمیوں کی نگرانی کا بھی پلان تیار کر لیا ہے تاکہ چرم ہائے قربانی کسی دہشت گردی کے مقصد کے لئے استعمال نہ کئے جاسکیں۔عید کے موقع پر بکرے یا دنبے وغیرہ کی ایک کھال پندرہ سو سے تین ہزار روپے جبکہ گائے یا بیل وغیر کی فی کھال پانچ سے لے کر دس ہزار روپے تک فروخت کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قربانی کی کھالوں سے حاصل ہونے والی رقم  شدت پسند تنظیموں کے لئے آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ اسی لیے پنجاب حکومت نے عید الاضحی کے موقع پر شہریوں سے اپیل کی ہے کہ کالعدم اور نام بدل کر کھالیں جمع کرنے والی جماعتوں پر نظر رکھیں اور انہیں ہرگز کھالیں نہ دیں۔ شہری ملک دوست تنظیموں اور جماعتوں کو کھالیں دیں اور انتہا پسند ، کالعدم اور فرقہ پرست جماعتوں کو کھالیں دینے سے گریز کیا جائے۔ کھالیں جمع کرنے کی شکایات پر کالعدم جماعتوں کے خلاف رینجرز کارروائی کریگی۔عیدالضحیٰ کے موقع پر پاکستانی طالبان سمیت دوسری دہشت گرد تنظیمیں قربانی کی کھالوں کو اکٹھا کر کے، ان سے حاصل کردہ رقم کو ،اپنی جہادی سرگرمیوں میں استعمال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ قربانی کی یہ کھالیں کالعدم دہشتگرد تنظیموں کیلئے فنڈز کی فراہمی و دستیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہونگی۔ یہ تنظیمیں قانونی کارروائی سے بچنے کیلئے اپنے الحاقی یا ذیلی گروہوں کے ذریعے یہ عمل سرانجام دیتی ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے ارکان مختلف علاقوں میں گھوم پھر کر اپنے ہم خیال لوگوں کو اس بات پر تیار کرتے ہیں کہ وہ جہاد کے فلسفے کی پیروی کرتے ہوئے قربانی کی کھالیں انہیں عطیہ کریں۔ یہ تنظیمیں پمفلٹ اور بینرز کے ساتھ ساتھ جمعہ کے اجتماعات میں بھی اپنی مہم چلاتی ہیںاور اکٹھا ہونے والا روپیہ پیسہ اپنی دہشتگردانہ سرگرمیوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اور اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ اس پیسے کے بل بوتے پر دہشتگرد اسلحہ خریدتے ہیں اور پھر خودکش حملوں اور بم دھماکے کرتے ہوئے پاکستان کے معصوم و بے گناہ مردوں ، عورتوں اور بچوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کر نے والے اداروں نے قربانی کے جانوروں کی کھالیں اکٹھی کرنے والی تنظیموں کے کوائف کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔کسی بھی کالعدم تنظیم کو چرمہائے قربانی اکٹھی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ چرمہائے قربانی اور دیگر عطیات اور صدقات اکٹھے کرنے والی تنظیمواں نے جا بجا بینرز اور پوسٹرز چسپاں کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ شہر میں اس ضمن میں کام کرنے والی تنظیموں کے کوائف اور ان کے مقاصد کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے تاکہ یہ عطیات دہشت گردی یا انتہا پسندی کے مقاصد کے لئے استعمال نہ ہوسکیں۔وزارتِ داخلہ نے پاکستان بھر میں قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی اور اس سلسلے میں 65 کالعدم تنظیموں کی فہرست بھی جاری کر دی گئی ہے۔صرف وہ تنظیمیں کھالیں جمع کر سکیں گی جنہیں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے این او سی جاری ہوگا۔ عید الضحیٰ  کے تینوں ایام میں اجازت نامہ حاصل کرنے والی تنظیموں پر یہ لازم ہوگا کہ ان کے رضا کار کھالیں جمع کرنے کے موقع پر اپنا اصل قومی شناختی کارڈ متعلقہ ادارے یا تنظیم کا کارڈ اور محکمہ داخلہ یا ڈپٹی کمشنر کاجاری کردہ اجازت نامہ اپنے ہمراہ رکھیں۔وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ عید الضحیٰ کے موقع پر کھالیں جمع کرنے والوں کی مکمل مانیٹرنگ ہوگی اور زبردستی کھالیں جمع کرنے والوں کے خلاف 'دہشت گردی ایکٹ' کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ہمیں یہ سوچنا چاہئیے کہ کیا ہم دہشتگردوں کے ہاتھوں اپنے ملک کومکمل تباہ وبرباد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں یا پھر اس کوبچانا چاہتے ہیں؟ یقیناً تمام پاکستانی، اپنے وطن پاکستان سے محبت رکھتے ہیں۔ لہذا ہم سب کو چاہئیے کہ وہ اپنے قربانی کے جانوروں کی کھالیں دہشتگرد تنظیموں کو ہر گز ہر گز نہ دیں بلکہ یتیم خانوں اور دوسرے مستحق اداروں اور خیراتی اداروں کو دیں اور وطن پاکستان کو دہشتگردوں سے بچانے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔