Get Adobe Flash player

امریکہ کی نئی سہ ملکی مبہم پالیسی۔۔۔ عبدالقادر خان

امریکہ نے سہ ملکی امریکی پالیسی کا اعلان کردیا ہے ۔ اس اعلان کو مبہم پالیسی قرار دیا گیا ہے ۔ امریکی وزیر دفاع جم میٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ افغان جنگ کے خاتمے کے حوالے سے حکمت عملی کے نزدیک پہنچ گئی ہے۔افغانستان میں 16برسوں سے جاری جنگ اب امریکہ کیلئے طویل ترین تنازعہ کی شکل میں حلق میں اٹک گئی ہے ۔ افغانستان میں 8400امریکی اور تقریبا5000نیٹو فوجی موجود ہیں ، لیکن افغان طالبان کے خلاف مستحکم کامیابی حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہیں ۔ یہ بات قابل غور بھی ہے کہ دو لاکھ سے زائد نیٹو افواج کی موجودگی اور800ارب ڈالرز خرچ کرنے کے باوجود جب افغانستان کو فتح نہیں کیا جاسکا تو یہ13400 غیر ملکی فوجی کس طرح کامیاب ہوسکتے ہیں ؟ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پاک ، افغان اور بھارت پالیسی کا اعلان یکسر جانبدارنہ رہا ۔ نئی امریکی انتظامیہ کو مسلسل امریکی اور افغان سیکورٹی فورسز کی مسلسل شکست کے بعد سے امریکی عوام کی جانب سے بھی شدید دبائو کا سامنا ہے کہ جب اسامہ بن لادن امریکہ کو مل چکا ہے تو اب کیا جواز ہے کہ امریکی عوام کے ٹیکس کی رقم بے معنی جنگ پر خرچ کی جا رہی ہے ۔ امریکہ اس طویل ترین جنگ میں اب تک800ارب ڈالرز خرچ کرچکا ہے اور اس کے ہزاروں فوجی موت کے منہ میں جا چکے ہیں ۔ہزاروں جسمانی معذوری کا شکار ہوچکے ہیں اور لاکھوں امریکی ڈپریشن کا شکار ہیں ، ان ہی رجحانات کی وجہ سے افغانستان سے واپس آنے والے متعدد امریکی فوجی ذہنی دبائو کو برداشت نہیں کرسکے اور خودکشی پر مجبور ہوئے۔اب جبکہ16برس گزر جانے کے بعد امریکہ کوبھی اس بات کا یقین ہوچکا ہے کہ وہ افغانستان کی جنگ کو نہیں جیت سکتا اور امارات اسلامیہ کو شکست نہیں دے سکتا تو امریکا نے دوسرے آپشنز پر غور شروع کردیا ہے ، جس میں قوی تر امکان ہے کہ افغانستان سے اپنی فوج بلا کر پرائیوٹ فوج کرائے کے فوجی کو افغانستان میں بھیجے گا یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے اس حوالے سے واضح بیان نہیں دیا۔ امریکا، افغانستان پر اپنا اثر رسوخ اور افغان عوام پر تسلط برقرار رکھنے کے لئے اپنی موجودگی کو یقینی بنانا چاہتا ہے ۔اس لئے امریکا اپنے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے افغانستان کو افغان عوام سے کئے وعدے کے مطابق خالی کرنے کو تیار نہیں ہے۔امریکا 23ارب ڈالرز سالانہ اخراجات کی تجویز کے بعد اس شش وپنچ کا شکار ہے کہ مزید فوج بھیجی جائے یا کرائے کے فوجی بھیجے جائیں ۔امریکا کو اس وقت جہاںافغان سیکورٹی فورسز کی ناکامی کا صدمہ ہے تو دوسری جانب داعش کے مضبوط ہوتی جڑوں اور شام و عراق کے بعد داعش کا افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کے یقینی خدشات نے بھی پریشان کیا ہوا ہے کہ افغان انتظامیہ میں اتنی اہلیت ہی نہیں ہے کہ وہ بیرونی امداد کے بغیر امارات اسلامیہ اور دولت اسلامیہ کو شکست دے سکیں ۔امریکی انتظامیہ پاکستان پر مختلف الزامات عائد کرکے مسلسل دبائو بڑھا کر ڈومور کا مطالبہ کررہی ہیں ، لیکن پاکستانی فوج کے سربراہ نے واضح پیغام دیا ہے کہ امریکا ، امداد کے بجائے پاکستانی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی موجودہ پالیسی نو ڈومورکی پالیسی کو برقرار رکھے گا اور افغان حکومت کے ساتھ ملکر چار ملکی رابطہ گروپ کو فعال کرے گا۔امریکا نے پہلے ہی فوجی امداد دینے کے حوالے سے پاکستان پر سخت شرائط کا اطلاق کیا ہوا ہے ۔ پاکستان کو امداد دینے سے قبل اس بات کویقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان ، امریکی ہدایات احکامات پر عمل درآمد کررہا ہے یا نہیں ۔ جبکہ پاکستان کے مقابلے میں بھارت کے ساتھ ، امریکا جہاں اپنے سفارتی ، تجارتی تعلقات کو بہتر بنا رہا ہے وہاں بھارت کی خوشنودی کے لئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنا قابل ذکر کردار ادا کرنے کے بجائے آزادی پسند کشمیری تنظیموں اورحریت رہنمائوں کو بھارت کی خواہش پر عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں بھی شامل کررہا ہے ، جس پر پاکستانی وزرات خارجہ نے بھی ردعمل دیتے ہوئے امریکی اقدامات کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ امریکا افغانستان سے مکمل انخلا  کے حوالے سے کسی حتمی فیصلے پر جانے سے قبل اپنے 16برس کی کارکردگی کا جائزہ لے تو با آسانی سمجھا جاسکتا ہے کہ امریکا اگلے 16برس بھی افغانستان میں دو لاکھ فوجیوں کے ساتھ بیٹھ جائے تب بھی افغانستان میں امن قائم نہیں رکھ سکتا ۔ افغانستان میں امن کا فارمولادیا جاچکا ہے کہ امریکہ ،افغانستان سے انخلا کرے اس کے بعد ہی کسی امن فارمولے پر بات کی جاسکتی ہے ۔ قطر میں سیاسی دفتر کا قیام بھی عالمی برادری اور خاص کر امریکا سے مذاکرات کیلئے قائم کیا گیا تھا، بعض رہنمائوں کی رہائی بھی ہوئی لیکن ان کی نقل و حرکت پر پابندی رکھی ہوئی ہے ، اسی طرح بلیک لسٹ اور سفری پابندی بھی عائد ہیں ،دوسری جانب افغان انتظامیہ کے عدم تعاون کی وجہ سے قطر کے سیاسی دفتر کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا ہے۔امارات اسلامیہ متعدد بار قطر دفتر کے حوالے سے اپنا موقف دے چکی ہے ۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے افغانستان میں نامزد نائب سفیر کی جانب سے قطر کی جانب سے امارات اسلامیہ کو مالی امداد دینے کے بیان پر ردعمل بھی سامنے آیا تھا کہ افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت کو سب سے پہلے سعودی عرب نے ہی تسلیم کیا تھا ۔ اب بھی سعودی عرب افغانستان میں قائم امن کے حوالے سے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ امریکا ، افغانستان میں اپنی نئی پالیسی کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستانی عوام اور سیکورٹی اداروں کی قربانیوں کو نظر انداز نہ کرے ۔ پاکستان ، افغانستان میں جلد از جلد قیام امن کے لئے سنجیدہ ہے  کیونکہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوگا ، پاکستان میں افغانستان کی سرزمین سے کی جانے والی دہشت گردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیان بارڈر منجمنٹ کو یقینی بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان پیدا شدہ غلط فہمیوں کے ازالے کیلئے مسلسل رابطہ ضروری ہے ۔ امریکا ، سی پیک ، ون روڈ ون بیلٹ منصوبوں کے ذریعے چین کو اقتصادی طور دنیا بھر میں حاوی ہوتے دیکھ رہا ہے ، لہذا افغانستان میں امن کے قیام سے امریکی مفادات پورے نہیں ہوسکتے ، جس کیلئے مسلسل افغانستان کو شورش زدہ رکھنا اہم ہے ۔ امریکا ، چین کی اقتصادی طاقت سے خوف زدہ ہے اس لئے ایک جانب بھارت کو استعمال کررہا ہے تو دوسری جانب افغانستان میں اپنی شکست کے باوجود مکمل انخلا کیلئے بھی ذہنی طور پر تیار نہیں ہے بلکہ کرائے کے فوجی بلیک واٹر کی شکل میں رکھنے کے ناکام منصوبوں پر بھی غور کررہا ہے ۔ لیکن اس کے مضمرات پر غور کرنے پر تیار نہیں کہ کرائے کے فوجیوں سے تشدد کو مزید بڑھاوا ملے گا ۔کابل حکومت امریکا کو بھی کرائے کے فوجی کا مشورہ دے رہے ہیں ، جس کا مقصد انھیں افغانستان میں امن سے کوئی سروکار نہیں بلکہ افغانستان میں امن کے نام پر اربوں ڈالرز ملنے والی امداد میں کرپشن و خرد برد سے ہے ۔امریکی ٹرمپ انتظامیہ کو نئی سہ ملکی پالیسی پر ماضی کے تجربات کو بھی مد نظر رکھنے چاہیں تھے اور خطے میں تبدیل ہوتی صورتحال میں امریکی عوام کے اربوں ڈالرز کو جنگ میں خرچ کرنے کے بجائے اپنی عوام کے فلاح و بہبود کیلئے خرچ کرنے پر زیادہ توجہ دے تو یہ امریکا کیلئے بہتر ہوگا اور جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک کے حق میں بھی ہوگا ۔ جب تک جنگ رہے گی ، امن قائم نہیں ہوسکتا اور امریکا اگر اپنی مرضی کے مطابق جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے تو یہ بھی ممکن نہیں ہے ۔پاکستان ماضی کی خارجہ پالیسیوں کے مقابلے میں موجودہ حالات کے تحت پاکستان کے قومی مفاد کو ترجیح دے کیونکہ اسی میں پاکستان و افغانستان کی عوام کو فائدہ ہے ۔ خطے میں امن ہوگا توخطے کی عوام کو ثمرات ملیں گے۔