تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی میں بغاوت۔۔۔ضمیر نفیس

قومی سیاست دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی ہے مسلم لیگ (ن) پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کی موثر شخصیات کو توڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں اگرچہ پہلے مرحلے میں پنجاب میں پیپلزپارٹی کی پانچ چھ نمایاں شخصیات نے علیحدگی اختیار کرکے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی لیکن اب پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کے باغیوں پر توجہ دینی شروع کر دی ہے خیبرپختونخواہ سے اسکے سابق صوبائی وزیر ضیاء الدین آفریدی کی پیپلزپارٹی میں شمولیت تحریک انصاف کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے البتہ مسلم لیگ (ن) اب تک کسی بھی جھٹکے سے محفوظ ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی کابینہ کو وسعت دے کر پارٹی کو متحد رکھنے کی اہم کوشش کی ہے سندھ سے محمد خان جونیجو مرحوم کے صاحبزادے اسد جونیجو کی مسلم لیگ (ن) میں شمولیت پارٹی کے لئے یقینا تقویت کا باعث ہے اسد جونیجو مسلم لیگ (ن) کے لئے اچھے امیدوار ثابت ہوسکتے ہیں لیکن پارٹی کی طاقت کے بغیر نشست حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں تحریک انصاف کی حکمت عملی یہ ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے بعد کسی طرح شریف فیملی نیب کے ریفرنسز کی لپیٹ آکر سزایاب ہو جائے اور وہ پنجاب میں پیپلزپارٹی کے ساتھ آسانی سے نمٹ سکے۔ چنانچہ اس حکمت عملی کے تحت اب کپتان نے اپنے جلسوں میں آصف زرداری پر بدعنوانی کے حوالے سے دبائو بڑھانا شروع کر دیا ہے۔تحریک انصاف کے چیئرمین کی کامیابی کا دارومدار پیپلزپارٹی کی کمزور سیاسی حیثیت سے جڑا ہوا ہے  مسلم لیگ (ن) کے ووٹر میں تبدیلی کا رحجان بہت کم ہے یہ ووٹر پیپلزپارٹی کی طرف جائے گا نہ تحریک انصاف کا رخ کرے گا البتہ ناراض ہو کر لاتعلق ہوسکتا ہے جبکہ اس کے برعکس پیپلزپارٹی کا کارکن اور ووٹر تحریک انصاف کا رخ کرتا ہے اور اس کا ووٹر اور کارکن پیپلزپارٹی کی سمت آتا ہے اگر جماعتی بغاوت کا تقابل کیا جائے تو تحریک انصاف میں بغاوت مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کے مقابلے میں زیادہ ہے' اگر اس میں داخل طور پر ٹوٹ پھوٹ نہ ہوتی تو اب تک یہ ایک مضبوط پارٹی بن چکی ہوتی۔اہم سوال یہ ہے کہ اس پارٹی میں باغیانہ پن کیوں زیادہ ہے؟ اس کی بہت سی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سردست دو وجوہات سامنے آئی ہیں ایک یہ کہ اس میں سنجیدہ اور پختہ کار کم جبکہ نوجوان زیادہ ہیں جو جلد جذباتی اور مشتعل ہوتے ہیں اورپارٹی ڈسپلن کی پرواہ نہیں کرتے دوسری وجہ لیڈر کی شخصیت کا کمزور سحر ہے جہانگیر ترین' شاہ محمود قریشی' اور فہیم خان وغیرہ آپس میں گھلے ملے ہیں کارکن بھی انہیں بے تکلفانہ دیکھتے ہیں تو قائد سے مرعوب نہیں ہوتے' قائد کی شخصیت میں ایک تدبر' فاصلہ' سنجیدگی' رکھ رکھائو اور کم گوئی ہوتی ہے جو اسے بارعب بناتی ہے اس رعب کے نتیجے میں ایک ڈسپلن پیدا ہوتا ہے دوسرے لیڈر اس کے سامنے اونچی آواز میںبات نہیں کرتے' بات کرنے سے پہلے قائد کا موڈ دیکھتے ہیں' اس کا فیصلہ ہو تو اس پر سختی سے عمل کرتے ہیں مگر عمران خان کے ہاں ایسی کیفیت نہیں ہے۔ شیخ رشید سے لے کر بابر اعوان تک کارکنوں کے سامنے جس انداز سے قائد کا نام لیتے ہیں وہ شایان شان نہیں'' میں نے عمران سے کہا ہے میں کل عمران سے ملا تھا میں نے اسے بتایا تھا'' اس قسم کا انداز گفتگو بارعب قائد کی تصویر کشی نہیں کرتا چنانچہ جو قائدانہ سحر ہونا چاہیے وہ عمران خان کی شخصیت میں پیدا نہیں ہوتا اور عام کارکن بھی اسے عام لیڈر ہی سمجھنے لگتا ہے نتیجہ بہت سے کارکنوں کے باغیانہ  بین کی صورت ظاہر ہوتا ہے اس کے مقابلے میں میاں نواز شریف نے پارٹی لیڈروں کے درمیان ایک فاصلہ رکھا ہے اور شخصیت کا رعب  داب قائم  کر رکھا ہے ' عمران خان نے اپنی شخصیت کو خودبھی نقصان پہنچایا ہے ان کے اکثر جلسوں میں ان کی تقریر کا کچھ حصہ عامیانہ اور سطحی ہوتا ہے لوگ باگ اس لب و لہجے کی تحسین نہیں کرتے جلسے میںانجوائے کرتے ہوں گے لیکن اپنی محفلوں میں تہذیب سے عاری اس گفتگو کی تائید نہیں کرتے' آصف زرداری اور میاں نواز شریف میں لاکھ خرابیاں سہی مگر ان کا لجہ غیر شائستہ اور بازاری نہیں ہوا' لوگ ان دونوں کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہیں ان کے لہجے میں غیر شائستگی ان کی پارٹی کی شاخت  بنتی جارہی ہے لیڈر اور کارکن آپس میں بھی اور اپنے وزیراعلیٰ کے  بارے میں بھی اس لہجے میں بات کرتے ہیں مستقبل میں یہ غیر شائستہ لہجہ پارٹی کے لئے سیاسی نقصان کا باعث بن سکتا ہے مزید باغیوں کی تخلیق کر سکتا ہے۔