Get Adobe Flash player

حلقہ NA120:میدان سج گیافاتح کون ہوگا؟۔۔۔ عابد محمود عزام

پانا ما کیس میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والا حلقہ این اے 120 لاہور ملکی سیاست کا محور و مرکز اور ملک بھر میں عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ مختلف جماعتوں کے نامزد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جاچکے ہیں اور پاکستان الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب کے لیے ضابطہ اخلاق بھی جاری کیا جاچکا ہے، جس کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اس کے نمائندوں پر ضمنی انتخاب میں حصہ لینے والے کسی بھی امیدوار کے سیاسی فائدے کے لیے سرکاری وسائل استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں عوامی نمائندگی کے ایکٹ 1976 کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 321568 ہے، جبکہ 2013 کے انتخابات میں ووٹوں کی تعداد دو لاکھ 95 ہزار 826 تھی۔ اس طرح اس حلقہ میں 26 ہزار کی تعداد میں ووٹوں کا اضافہ ہوا ہے۔ حلقہ این اے 120 پر ضمنی انتخاب 17 ستمبر کو ہوگا۔ اس حلقے میں ضمنی انتخاب کے لیے 19 امیدوار سامنے آئے ہیں، جن میں سرفہرست مسلم لیگ نون کی بیگم کلثوم نواز اور پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد ، جن کے کاغذات نامزدگی منظور ہو چکے ہیں۔ سب سے مضبوط امیدوار مسلم لیگ ن کی طرف سے میاں نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز ہیں، کیونکہ یہ حلقہ مسلم لیگ کا مضبوط گڑھ ہے، یہاں سے مسلم لیگ کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔ ابتدا میں مسلم لیگ نون کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس حلقے سے میاں شہباز شریف الیکشن لڑیں گے اور قومی اسمبلی کی اس نشست سے رکن منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کا انتخاب لڑیں گے۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اسلام آباد سے ریلی شروع کرنے سے پہلے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے یہ کہہ کر روانہ ہوئے تھے کہ ان کی خواہش ہے کہ شاہد خاقان 2018 تک مدت پوری کریں۔ نواز شریف کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنی بات پر قائم رہتے ہیں، لیکن انہیں گھر کے دبائو میں آکر فیصلہ تبدیل کرنا پڑا اور اختلافِ رائے سامنے آنے کے بعد کلثوم نواز کو نامزد کیا گیا اور ان کے کاغذات منظور ہوگئے ہیں۔ بیگم کلثوم نواز کے بعد اس حلقے میں مضبوط حیثیت کی امیدوار تحریک انصاف ڈاکٹریاسمین راشد ہیں، جنہوں نے 2013 کے انتخابات میں نواز شریف کے91 ہزار 683 ووٹوں کے مقابلے میں 52 ہزار 354 ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ پی پی پی کے زبیر کاردار نے 2605، جبکہ جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ نے 953 ووٹ حاصل کیے تھے۔اب کی بار پیپلز پارٹی کے فیصل میر اور جماعت اسلامی کے نامزد امیدوار ضیا الدین انصاری ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ اگر تحریک انصاف کو پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کی سپورٹ مل جائے تو مقابلہ سخت ہو گا۔ پی ٹی آئی والے آسانی سے ہار نہیں مانیں گے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اس حلقے کو مانیٹر کررہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے۔ یاسمین راشد گھر گھر جا کر ان ووٹروں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جو پچھلی بار انہیں ووٹ دینے کے لیے راضی نہ تھے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وہ بظاہر کافی پر امید نظر آتی ہیں۔ یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ حلقے میں گھر گھر انتخابی مہم کے دوران لوگ انہیں خوشدلی سے مل رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی جانب سے ہراساں کیے جانے کی شکایت بھی کی۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ نون کی جانب سے اس حلقے میں کامیابی کی امید غلط فہمی ہے۔ محض سرمایہ کاری سے ووٹ نہیں ملے گا۔ یہ بہت پس ماندہ علاقہ ہے، یہاں تو اگر شہباز شریف کو بھی کھڑا کر دیں گے تو ان کی جیت بھی مسئلہ بن جائے گئی۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ لاہور نون لیگ کا مضبوط حلقہ رہا ہے، لیکن سیاسی عمل میں مکافات ِ عمل بھی ہوتا ہے اور میاں صاحب اس وقت جس صورتحال کا شکار ہیں، وہی قوم کے سامنے رکھیں گے۔ ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ عدالتیں ان کے خلاف فیصلے دے چکی ہیں اور انہیں نا اہل قرا دے چکی ہیں، اس لیے انہیں ووٹ نہ دیں۔پاکستان پیپلزپارٹی پنجاب کو اپنا سیاسی مرکز بنانے کا اعلان کرچکی ہے، گزشتہ روز چنیوٹ میں پی پی نے ایک جلسہ بھی کیا ہے، جس میں میاں نواز شریف پر کافی تنقید کی ہے۔ پیپلزپارٹی بھرپور طریقے سے پنجاب میں اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور مسلم لیگ ن کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب میں ایک اہم فیکٹر مذہبی بنیادوں پر بعض امیدواروں کا سرگرم ہونا بھی ہے۔ اہل سنت رہنما مولانا خادم حسین رضوی بھی میدان میں آئے ہیں، جو ممتاز قادری کی شہادت پر مسلم لیگ ن کی قیادت کو ٹارگٹ کرتے اور اس کی مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں، ان کا کافی ووٹ بینک اس حلقے میں ہے۔ ماضی میں سنی ووٹرز نے اپنا وزن ہمیشہ مسلم لیگ نون کے پلڑے میں ڈالا ہے، مگر اس مرتبہ مولانا خادم حسین کے کھل کر میاں نوازشریف کی مخالفت کرنے سے مسلم لیگ کو سیاسی نقصان ہونے کا امکان ہے۔اس کے ساتھ حال ہی میں جماعة الدعوہ کی تشکیل پانے والی جماعت ملی مسلم لیگ نے بھی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 لاہور سے نامزد مسلم لیگ نون کی امیدوار کلثوم نواز کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ ایم ایم ایل کے رہنما نے نواز شریف پر الزام لگایا کہ سابق وزیراعظم پاناما پیپرز کیس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول نہیں کر رہے، جبکہ انہوں نے نوازشریف پر کشمیر معاملے کو ڈی ریل کرنے کا بھی الزام لگایا۔ ملی لیگ کے رہنما نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، ہم امریکا اور بھارت کی جانب سے اس طرح کے رویے کی امید رکھ سکتے ہیں لیکن آپ کے دور اقتدار میں ہمارے ساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھا گیا، وہ کشمیری عوام کے ساتھ کسی خیانت سے کم نہیں اور یہ رویہ قائدِاعظم محمد علی جناح کے نقطہ نظر سے ہٹ گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق این اے 120میں جماعت الدعوة کی ملی مسلم لیگ کا دعوی ہے کہ ان کے پاس پندرہ ہزار ووٹ ایسے ہیں جو مسلم لیگ ن کے ووٹر رہے ہیں۔ اس میں کسی حد تک صداقت بھی ہوسکتی ہے، کیونکہ جماعت الدعوہ کا مرکز اسی حلقے این اے 120میں ہے، جہاں جماعت الدعوہ کا اچھا خاصا اثرورسوخ اور ان کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی میدان میں ہیں، جو ماڈل ٹائون میں اپنی جماعت کے 14افراد کے خون کا انصاف چاہتے ہیں اور اس کیس میں میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کو پھانسی پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کھل کر مسلم لیگ کی مخالفت کر رہے ہیں اور میاں نوازشریف کے نااہل ہونے کی وجہ سے ان کے ووٹ بینک کو نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اگر مسلم لیگ مخالف تمام جماعتیں مل جائیں تو مسلم لیگ کو شکست دی جاسکتی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تمام جماعتیں مل بھی جائیں، اس حلقے سے مسلم لیگ نون کو شکست دینا آسان نہیں ہے۔لاہور کے حلقہ این اے 120 میں لگنے والا انتخابی میدان مسلم لیگ مخالفین کے لیے بڑے امتحان سے کم نہیں، جس کے لیے سیاسی قیادتوں اور ذمہ داروں نے سرجوڑ رکھے ہیں۔ اس حلقہ کی اہمیت نوازشریف کے حوالے سے تھی اور ہے، کیونکہ وہ اپنی سیاست کے آغاز سے اب تک اس حلقہ سے رکن اسمبلی منتخب ہوتے آئے ہیں۔ پہلے یہ حلقہ این اے 95 تھا، بعد ازاں 2002 میں اسے این اے 120 قرار دیا گیا۔ یہ حلقہ تین سیکٹروں، چھوٹے بڑے محلوں اور چند باقاعدہ ہائوسنگ سکیموں پر مشتمل ہے۔ یہ حلقہ خالصتا شہری آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ گورنر ہائوس، پنجاب اسمبلی، سول سیکرٹریٹ جیسے اہم حکومتی مراکز بھی اس حلقہ میں ہیں۔ حلقہ کی بڑی برادریوں میں آرائیں، کشمیری، راجپوت، انصاری، ککے زئی نمایاں طور پر موجود ہیں، لیکن یہاں کی غالب اکثریت دوسرے شہروں سے آ کر آباد ہونے والوں کی ہے۔ یہ بنیادی طور پر ملازمت پیشہ تاجر اور محنت کش لوگ ہیں اور اپنے فیصلے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ماضی کے انتخابات میں نوازشریف نے اپنی انتخابی مہم چلانے کی زحمت نہیں کی تھی اور وہ اپنے حلقہ سے دور رہے تھے، لیکن بدلے سیاسی حالات میں اب اس حلقہ کے انتخاب کو فریقین اپنے لیے زندگی موت، عزت بے عزتی اور اپنے اپنے سیاسی مستقبل کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لارہے ہیں۔ نواز شریف نے 1985، 1990، 1993 اور 1997 کے انتخابات مسلسل جیتے۔ 2002 کے الیکشن میں بھی انہوں نے اس حلقہ انتخاب سے کاغذات نامزدگی داخل کرائے تھے، لیکن جلاوطنی کے باعث الیکشن نہیں لڑ سکے تھے۔ ان کے کورنگ امیدوار پرویز ملک نے کامیابی حاصل کی، جب کہ 2008 میں مسلم لیگ ن نے بیگم کلثوم نوازشریف کے قریبی عزیز بلال یاسین کو یہاں سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑایا، جو کہ ذیلی صوبائی حلقہ پی پی 139 سے 2002 میں رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ بلال یاسین این اے 120 میں کامیاب رہے اور 2013 میں اس حلقے کے اصل مالک نواز شریف نے الیکشن لڑا اور بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی اس طرح نواز شریف اس حلقے سے پچھلے 32 سالوں میں 5 مرتبہ کامیاب ہوئے، جب کہ دو مرتبہ ان کی پارٹی کا نامزد امیدوار کامیاب ہوا۔ ماضی میں ہونے والے انتخابات کے نتائج دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اس حلقے سے مسلم لیگ کو شکست دینا بالکل بھی آسان نہیں ہے لیکن پاناما لیکس میں میاں نوازشریف کی نااہلی کے بعد ممکن ہے مسلم لیگ ن کے ووٹ بینک میں کچھ کمی آئی ۔