Get Adobe Flash player

اہل غزہ کے انسانی حقوق؟۔۔۔تنویر اعوان

فلسطینی علاقے غزہ جس کی کل لمبائی 41کلومیٹر،چوڑائی کم از کم 6اورزیادہ سے زیادہ 12 کلومیٹرہے،اس کے جنوب مغرب میں 11 کلومیٹرمصری سرحد ہے جہاں سب سے بڑا کراسنگ بارڈررفح واقع ہے،جس کو  2013سے مصری سیسی حکومت نے غزہ کے مسلم ،مظلوم و مجبور فلسطینی عوام کی آمد ورفت کے لیے بند کیا ہوا ہے،جب کہ اس کے علاوہ باقی تمام سرحدی راہداریاں اسرائیلی قبضے میں ہونے کے علاوہ اسرائیلی بحریہ نے سمندری حدود میں بھی تین ناٹیکل میل کا پہرہ لگا رکھا ہے اور کسی فلسطینی کشتی کو اس پہرے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔یادرہے کہ 2005 تک غزہ کا کنٹرول اسرائیل کے پاس تھا لیکن غزہ پر سے کنٹرول ختم کرنے کے بعد اسرائیل 2008 ،2012 اور 2014 میں غزہ پرشدید بمباری اور آگ وآہن کی برسات کرچکا ہے ،اس سے بھی زیادہ تشویش ناک صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کرکے وہاں کے 20 لاکھ سے زائد باسیوں سے ان کا بنیادی حق چھین رکھا ہے،جس کی وجہ سے وہ بدترین حالات میں اپنی زندگی کے ایام کاٹ رہے ہیں ،جس پر اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں جو یقینا قابل تشویش ہے ،مرکز اطلاعات فلسطین پر شائع ہونے والی یوروہیومن رائٹس مانیٹرکی رپورٹ جسے غزہ کی تنہائی کے ایک لاکھ گھنٹے کا عنوان دیا گیا ہے، اس میں اسرائیل کی جانب سے گزشتہ دس سال سے جاری غزہ کی ناکہ بندی اور اس کے ناگفتہ بہ حالات کا جائزہ لیا گیا ہے،رپورٹ کے مطابق غزہ میں غربت کی شرح 65 فیصدہے اور 72فیصد رہائشی غذائی قلت کا شکارہیں اسی طرح وہ اںکی 80 فیصد عوام بین الاقوامی امداد پر جی ر ہے ہیں جب کہ اس علاقہ میں بیروزگاری کی شرح 43 فیصد ہے۔ دوسری طرف غزہ رفتہ رفتہ اندھیرے میں ڈوبتا جارہا ہے اور شہر کا واحد پاور پلانٹ ایندھن کی کمیابی کی وجہ سے بند ہونے کے قریب ہے اور فی الوقت یومیہ صرف چار گھنٹے ہی بجلی کی ترسیل ممکن ہو پارہی ہے جس کی وجہ سے غزہ کے ہسپتالوں میں سینکڑوں مریضوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں جن کے علاج اور آپریشنز کے لئے مناسب مقدار میں بجلی دستیاب نہیں ہے۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ فلسطین میں جابجا اسرائیلی ظلم و تشدد کی داستانیں جہاں انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ رہی ہیں وہیں رفح کراسنگ پر مفلوک الحال وبے بس ،لاچار و مجبور،محصور فلسطینی مسلمان مصری حکومت کی سنگ دلی پر ماتم کناں نظر آتے ہیں ، یہاں محصور ہرفلسطینی کا برادر اسلامی ملک سے پہلا اورآخری مطالبہ یہی ہے کہ گزرگاہ کو ان کی سفری آمدورفت کے لیے کھولا جائے۔جب کہ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی ناکہ بندی کا شکار اہل غزہ کے لیے حال ہی میں افریقی ملک الجزائر سے آنے والے ایک امدادی قافلے کو مصری حکام نے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے سے روک دیا، جس کے بعد وہ امدادی قافلہ واپس جانے پر مجبور ہوگیا ہے ،جب کہ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الجزائر سے آنے والے امدادی قافلے کے منتظمین نے مصری حکومت سے پیشگی اس کی اجازت بھی لے رکھی تھی، تمام قانونی تقاضے پورے ہونے باوجود مصری انتطامیہ نے امدادی قافلے کومحصورین غزہ تک پہنچنے سے روک دیا۔بلاشبہ ارض مقدس کے باسیوں کے لیے جہاں صہیونی جارحیت اور تشدد باعث تکلیف ہے وہیں اپنوں کی طرف سے عدم تعاون ان کے مسائل میں روز برو ز اضافے کا باعث بن رہا ہے ،اگر اسلامی برادری مسئلہ فلسطین و کشمیر سمیت درپیش مسائل کے پرامن حل کے لیے یکسو ہو کر عالمی فورم پر موثر آواز اٹھائے اور اتفاق و اتحاد کے ذریعے خود انحصاری کو فروغ دے تو وہ دن دور نہیں جب اسلامی دنیا ایک فیصلہ کن قوت کی صورت میں عالمی فورم پر موجود ہوگی۔