Get Adobe Flash player

سابق ہائی کمشنر کا غم و غصہ اور احتجاج۔۔۔ضمیر نفیس

قومی حلقوں میں ان دنوں نئی دہلی میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط کے اس الوداعی خط کا زور شور سے تذکرہ ہے جو امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری کے نام لکھا گیا ہے اس خط میں اعزاز چوہدری کو پاکستان کا بدترین خارجہ سیکرٹری اور امریکہ میں ملک کا ممکنہ ناکام ترین سفیر قرار دیا گیا ہے دفتر خارجہ نے اس تنازعہ کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اعزاز چوہدری نے امریکہ میں پاکستان کے سفیر کا منصب سنبھالنے کے لئے خارجہ سیکرٹری کے عہدے سے سبکدوشی سے قبل اپنے تمام رفقائے کار کو الوداعی خطوط لکھے تھے جس میں ان کے تعاون پر روایتی انداز میں تشکر کے جذبات کا اظہار تھا بعض حلقوں کا خیال ہے کہ عبدالباسط نے اعزاز چوہدری کے اس خط کے جواب میں دل کی بھڑاس نکالی ہے نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر کے دفتر کے سرکاری خط و کتابت کے کاغذ پر انگریزی میں خط لکھا گیا ہے۔ اس کے ایک پیرا گراف میں کہا گیا ہے کہ جتنا  میں آپ کے بارے میں غور کرتا ہوں اتنا ہی میرا یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ آپ پاکستان کے بدترین خارجہ سیکرٹری ہیں مجھے اندیشہ ہے کہ امریکہ میں بھی آپ پاکستان کے بدترین سفیر ثابت ہوں گے ان خدشات کی وجہ بہت سادہ ہے یہی وجہ تو یہ ہے کہ آپ سفارتکاری جیسے نازک اور اہم کام کے لئے موزوں نہیں ہیں ویسے تو میں کئی مثالیں دے سکتا ہوں لیکن اونا میں پاک بھارت مشترکہ اعلامیہ اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کی ذلت آمیز شکست  میرا موقف ثابت کرنے کے لئے کافی ہے دوسری بات یہ ہے کہ آپ کا دل اپنی جگہ نہیں ہے  میں پوری شدت سے محسوس کرتا ہوں کہ جتنی جلد آپ کی واشنگٹن سے ہٹا دیا جائے اتنا ہی پاکستان کے مفاد میں بہتر ہوگا' اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو 27فروری 2018ء کو جب آپ کی مدت ملازمت مکمل ہو جائے گا آپ کو ملازمت میں توسیع نہیں دی جانی چاہیے۔خط کی آخری سطر میں  کہا گیا ہے کہ اتنے اہم عہدے پر مشکوک حیثیت کے افراد کی تعیناتی پر اللہ ہی پاکستان کی مدد کرے۔عبدالباسط وزارت خارجہ کے سینئر افسر تھے وہ سیکرٹری خارجہ بننے کے اہل تھے مگر تہمینہ جنجوعہ کے سیکرٹری خارجہ بننے کے بعد انہوں نے اس سال جولائی میں قبل ازوقت ریٹائرمنٹ کے لئے درخواست دی تھی جو اس وقت کے وزیراعظم نے قبول کرلی تھی ان کے بعد ترکی میں پاکستان  کے سفیر سہیل محمود کو بھارت میں پاکستان کا ہائی کمشنر لگایا گیا اعزاز چوہدری امریکہ میں سفیر ہونے سے پہلے دسمبر 2013ء سے مارچ 2017ء تک سیکرٹری خارجہ رہے وہ تجربہ کار سفارتکار ہیں مگر یوں محسوس ہوتا ہے کہ عبدالباسط کو اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی نے سخت صدمہ دیا ہے اور وہ شدید غصے و دبائو  کا شکار ہیں تہمینہ جنجوعہ کی سیکرٹری خارجہ کی حیثیت سے تعیناتی کو بھی انہوں نے غیر مستحق قرار دیا ہے ان کے مطابق محترم خاتون ان سے جونیئر ہیں اور وہ میرٹ کے مطابق اس عہدے کا استحقاق نہیں رکھتیں۔ہائی کمشنر ' سفیر یا سیکرٹری خارجہ سمیت کوئی بھی منصب ہو اس پر زیادہ دیر تک نااہلیت پوشیدہ نہیں رہ سکتی فوراً آشکار ہو جاتی ہے اعزاز چوہدری نے اسلام آباد میں میڈیا کے سامنے اور وزارت میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے غیر مستحق ہوتے تو چند ہی دنوں میں  بے نقاب ہو جاتے میں سمجھتا ہوں عبدالباسط  جنہیں سینئر ہونے کا زخم ہے دراصل ایک غیر متوازی اور سیکرٹری خارجہ کے لئے غیر مستحق شخصیت تھے انہوں نے اپنے خط میں سفارتکاری کو ایک نازک اور اہم کام قرار دیا ہے  سوال یہ ہے کہ کیا سابق ڈپٹی کمشنر عبدالباسط کا اپنا لب و لہجہ نازک ہے اور سفارتکاری کی ضروریات پوری کرتا ہے وہ تو الفاظ کے  لٹھ لئے چاروں طرف وار کر رہے ہیں یہ درست ہے کہ ان کے ساتھ ترقی کے معاملے میں ناانصافی ہوئی ہے لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ آگے ''جنجوعہ'' ہے پاکستان کے معاشرے میں سرکاری ملازمتوں میں افسروں سے ناانصافی کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور عبدالباسط کو صبر کرنا چاہیے اللہ تعالیٰ صبر آنے والوں کے ساتھ ہے۔