Get Adobe Flash player

معلومات تک رسائی کا نیا قانون۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 وزیر مملکت برائے اطلاعات و،نشریات و قومی ورثہ مریم اورنگزیب نے وفاقی حکومت کی جانب سے عام پاکستانی کو معلومات تک رسائی کا حق دینے کے لئے بل 2017ء ایوان بالا میں پیش کیا جسے چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے مزید غور کیلئے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا جسے بعد میں متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ بل کا مقصد وفاقی حکومت کی تمام وزارتوں، ڈویژنوں اور خودمختار اداروں کے کام اور کارکردگی کے حوالے سے ہر قسم کی معلومات عام پاکستانیوں کو فراہم کرنا ہے۔ بل کی منظوری کے بعد یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ بن جائے گا جس کے بعد ہر پاکستانی کو معلومات تک رسائی کا حق حاصل ہو جائے گا۔سینٹ سے معلومات تک رسائی کے بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی کے اگلے سیشن میں بل پیش کر دیا جائیگا یہاں سے بھی اسکی متفقہ منظوری کی توقعات ہیں۔بل کی منظوری کے بعد 6 ماہ کے اندر ادارے ریکارڈ تیار کر کے انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کریں گے۔ بل کے مطابق معلومات کی فراہمی کیلئے دی گئی کسی درخواست پر انکار نہیں کیا جاسکے گا۔ ہر ادارے میں معلومات تک رسائی کیلئے پرنسپل افسر تعینات کیا جائیگا۔ بل کا اطلاق وفاقی حکومت کے سرکاری اداروں میں ہوگا۔ معلومات تک رسائی بل کے تحت بنکوں' کمپنیوں' مالیاتی اداروں کے اکاؤنٹ ریکارڈ تک رسائی نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ  فورسز' تنصیبات اور قومی سلامتی سے متعلق معلومات تک بھی رسائی نہیں ہو گی۔ ایسے قانون کی کافی عرصہ سے ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ بل کے تین حصے ہیں جن میں عوامی مفاد کا تحفظ کیا گیاہے۔ 10 دن میں معلومات دینا ہوں گی ۔ معلومات روکنے کی صورت میں دو سال سزا اور جرمانہ ہے۔ متعلقہ حکام کو معلومات فراہم نہ کرنے کی وجوہات تین دن کے اندردینی ہوں گی۔ معلومات روکنے کی صورت میں 2 سال سزا اور جرمانہ ہو گا'معلومات کی فراہمی کے حوالے سے درجہ بھی بندی بھی کی گئی ہے۔ جن معلومات کا اجراء قومی مفاد میں نہیں ان کو ایسی کیٹگری میں رکھا گیا ہے جس تک رسائی ممکن نہیں ہو گی۔ اس قانون سے قبل ادارے ایسی معلومات کی فراہمی سے بھی گریز کرتے تھے جن کا تعلق قومی سلامتی اور سیکیورٹی سے دور دور تک بھی نہیں تھا۔ اہلکار اپنی صوابدید پر فیصلہ کرتے اور اپنے تعلقات ہی کو معلومات کی فراہمی کا قانون سمجھتے تھے۔ بینکوں، کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے ایسے اکاؤنٹس ضرور اخفا میں رکھے جائینگے جن کے افشا ہونے سے اداروں کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض این جی اوز اور میڈیا کے اداروں کو اپنی رپورٹوں کی تیاری کیلئے بینک اکاؤنٹس کی معلومات ضروری ہوتی ہیں۔ ان کو اکاؤنٹ ہولڈرز نے بھی کانفیڈنشل نہیں رکھا ہوتا۔ ایسی معلومات پر یکسر پابندی بھی مناسب نہیں۔ فورسز کو معلومات کی فراہمی کے دائرے سے استثنیٰ دینا بھی مناسب نہیں۔ فورسز کے حوالے سے معلومات کی بھی درجہ بندی کر لی جائے۔ جن معاملات کا اخفا ضروری ہے ان تک رسائی کی ضرورت نہیں۔ تاہم جن معاملات کی معلومات کا سیکیورٹی سے تعلق نہیں ان تک رسائی دینے میں حرج نہیں۔ صوبوں میں بھی اس قانون کا اطلاق ہونا چاہیے۔بل کی منظوری کے بعد ہر ایک پبلک باڈی 30 دنوں کے اندر ایک افسر کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گی جو 19 گریڈ سے کم نہیں ہوگا۔ وہ افسر لوگوں کو معلومات کی فراہمی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ بل کے تحت ہر ادارے کا سربراہ معلومات تک رسائی کا حق دینے کو یقینی بنائے گا۔ وہ اس بل کے تحت تمام تر ذمہ داریوں کی نگرانی بھی کرے گا۔ بل کے تحت اگر کوئی شہری یا درخواست گزار فراہم کردہ معلومات سے مطمئن نہیں ہوگا تو وہ 30 دنوں کے اندر معلومات بارے تشکیل شدہ کمیشن کو اپیل کرے گا۔اپیل دائر کرنے کی کوئی فیس نہیں ہوگی، وہ مفت دی جائے گی۔کمیشن اس اپیل کو 60 دنوں کے اندر نمٹانے کا پابند ہوگا۔ بل کی منظوری اور ایکٹ بننے کے بعد 6 ماہ کے اندر وزیراعظم معلومات تک رسائی کے حوالے سے ''انفارمیشن کمیشن'' تشکیل دیں گے۔ یہ کمیشن ایک خودمختار ادارہ ہوگا۔ تین کمشنر بھی مقرر کئے جائیں گے جو ہائی کورٹ کے جج کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔کمشنر وزیراعظم نامزد کریں گے جن کی عمریں 65 سال تک ہوں گی۔ بل کے تحت وزیراعظم ایک چیف انفارمیشن کمشنر بھی مقرر کریں گے جو ان تین کمشنرز میں سے ہی ہوگا۔ کمیشن کے ارکان'کمشنرز انفارمیشن کمیشن میں تعینات ہونے کے بعد اور ذمہ داریاں نبھانے کے دوران کوئی بھی دوسرا عہدہ نہیں رکھ سکیں گے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوںگے۔اس قانون کے آنے سے بلیک میلنگ کا کلچر کم ہوگا۔ کیونکہ بلیک میلر معلومات عام کرنے کا خوف دلاکر بلیک میل کرتے ہیں۔چند بااثر اخباروں' میڈیا گروپس اور صحافیوں کی اجارہ داری ختم ہوگی اور کوئی بھی فرد بغیر رقم خرچ کیے ای میل پر بھی معلومات حاصل کرسکے گا۔اس بل کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے ضروری ہے کہ اس کی مناسب انداز میں تشہیر کی جائے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ان کے کیا حقوق ہیں۔ کن کن معاملات میں وہ کیا کیا معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ اب سے پہلے عوام کو بہت سے معاملات میں بے خبر رکھا جاتا تھا اس طرح کرپشن کی بیماری جڑ پکڑتی گئی مگر معلومات کی رسائی کے بل کی منظوری کے بعد عوام براہ راست کسی بھی قومی و صوبائی معاملات  کے بارے میں جان سکیں گے۔ خصوصاً ایسے ترقیاتی کام جو عوامی ٹیکس کے پیسے سے انجام پاتے ہیں، ان کے معاہدے،  مدت تکمیل، میٹریل اور دیگر معلومات جو پہلے عام نہیں کی جاتی ہیں اور  بعض اوقات کرپشن کی نذر ہو جاتی تھیں، اب براہ راست عوام کے علم میں  ہوں گی ۔ عوام جانتے ہوں گے کہ فلاں منصوبے کی تفصیلات کیا ہیں اور عملاً کیا ہو رہا ہے۔ اس سے کرپشن کے خاتمے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔