امریکا:انسانیت کامجرم۔۔۔سمیع اللہ ملک

عراق ایک بارپھرشہ سرخیوں میں ہے۔ مغربی میڈیا میں عراق کی صورت حال کوبھرپورطورپرکورکیاجارہاہے مگرکوئی بھی مغربی میڈیا آئوٹ لیٹ یہ نہیں بتائے گاکہ امریکاعراقی تنازع کے دونوں فریقوں کی بھرپورمددکررہاہے۔ ایک طرف سے واشنگٹن سے عراقی حکومت کومدد مل رہی ہے اور دوسری طرف اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریاآئی ایس آئی ایس کوفنڈنگ بھی کی جارہی ہے اورعسکریت پسندوں کو تربیت بھی دی جارہی ہے۔امریکی حکومت اگرچہ دہشت گردوں کی مدد کررہی ہے مگرمغربی میڈیاآپ کویہی بتائے گا کہ اوباماانتظامیہ کوعراق میں دہشتگردی پرتشویش ہے۔امریکی اوریورپی میڈیامیں یہ بات زیادہ زوردے کربیان کی جاتی ہے کہ عراق میں جوبھی خرابی ہے وہ امریکی انخلاسے ہے۔ یعنی جب تک امریکی افواج عراق میں تعینات تھیں تب تک وہاں کوئی خرابی پیدا نہ ہوئی تھی اوردہشتگرد بھی قابومیں تھے اوراب گویادہشتگرداور عسکریت پسند کچھ بھی کرگزرنے کے لیے آزاد ہیں۔ امریکانے عراق پرجولشکرکشی کی اوروہاں مختلف گروپوں کی مددسے جوقبضہ کیااس کاموجودہ صورت حال سے موازنہ کرناعجیب ہے۔ امریکا نے خصوصی دستے تیار کیے جنہوں نے امریکی افواج کو مدد دی۔ اب یہی دستے ملک کے حالات مزید خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں۔مین اسٹریم میڈیااب بھی حقائق چھپارہاہے۔حقیقت کوآپ تک پہنچنے نہیں دیاجارہا ۔ تاثریہ دیاجارہا ہے کہ عراق میں خانہ جنگی ہورہی ہے۔میڈیاکے ذریعے صرف وہی تاثرپیداکیااورابھاراجاتاہے جوبڑی طاقتوں کے مفادات کوتقویت بہم پہنچاتا ہے۔عراق میں جوکچھ اب کھل کرسامنے آرہاہے وہ دراصل تعمیری انتشارہے جوپورے خطے کواپنی لپیٹ میں لیتاجارہاہے۔امریکا،یورپ اوراسرائیل نے بہت پہلے منصوبہ بنالیا تھا کہ عراق میں شدیدانتشارپھیلاکراس کے ٹکڑے کردیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ لبنان،فلسطین،عراق،شام،خلیج فارس،ایران اورافغانستان تک شدیدانتشارپھیلانے کاہے۔مقصودصرف یہ ہے کہ یہ تمام ریاستیں شدید کمزور پڑیں اوراِن کے حصے بخرے ہوجائیں۔زیادہ سے زیادہ انتشارپیداکرکے امریکا،یورپ اوراسرائیل اِس پورے خطے میں اپنی مرضی کے حالات چاہتے ہیں اورسرحدوں کانئے سِرے سے تعین بھی اپنی مرضی کے مطابق کرناچاہتے ہیں۔امریکا،یورپ اور اسرائیل چاہتے ہیں کہ پوری عرب دنیا اورایشیائے کوچک سے ہوتے ہوئے افغانستان اورایران تک نقشے نئے سِرے سے ترتیب دیے جائیں ۔ مقصودیہ ہے کہ معاشی،سفارتی اوراسٹریٹجک اہداف حاصل کیے جائیں۔ یہ سب کچھ ایک ایسے منصوبے کے تحت ہورہاہے جوانتہائی دانش مندی اور باریک بینی سے تیارکیاگیا ہے تاکہ کہیں کوئی جھول باقی نہ رہے۔امریکا،اسرائیل اور یورپ بالخصوص برطانیہ کے ایجنڈے کی تکمیل میں علاقائی حکومتیں بھی معاونت کررہی ہیں۔ خطے کے بیشترممالک کوکمزورکیاجارہاہے تاکہ ان کی شکست وریخت آسان ہوجائے۔کسی بھی ملک کوتقسیم کرنے میں خانہ جنگی مرکزی کرداراداکرتی ہے۔ بلقان کے خطے میں اس کاتجربہ بڑی طاقتوں کوکامیابی سے ہمکنارکرگیا۔ سابق یوگو سلاویہ میں نسلی،ثقافتی اورمذہبی تنوع موجودتھا۔اس کابھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے نفرتوں کوہوادی گئی۔ اس کے نتیجے میں سابق یوگوسلاویہ کوسربیا، بوسنیا ہرزیگووینا،کروشیا اورمونٹی نیگرومیں تقسیم کرنے میں آسانی ہوئی۔ اب عراق کوبھی انہی خطوط پرتقسیم کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔شیعہ،سنی اورکرد ریاست کاقیام معرض وجود میں لایا جاسکتا ہے۔ مسلح گروپ کھڑے کردیے گئے ہیں۔ ان کوامریکا،برطانیہ اوراسرائیل ہی کی طرف سے فنڈنگ کی جارہی ہے۔ شام ہویاعراق،ہرجگہ مسلح گروپ میدان میں آچکے ہیں جوکسی بھی حالت میں اپنے مقاصد کوترک کرنے کیلئے تیارنہیں۔ شام میں آمریت اور عراق میں منتخب حکومت کے خلاف لڑائی جاری ہے۔القاعدہ سے جڑے ہوئے گروپوں کوامریکی محکمہ دفاع اورخفیہ ادارے سی آئی اے نے خفیہ اثاثوں کے طورپراستعمال کیاہے۔ شام میں النصر اورآئی ایس آئی ایس مغربی طاقتوں کے پروردہ گروپ ہیں جنہیں فنڈز دینے ہی پراکتفا نہیں کیا گیابلکہ حکومت کے خلاف لڑنے کی باضابطہ تربیت بھی دی گئی ہے۔ واشنگٹن نے عراق اورشام میں عمدگی سے لڑنے والے ایسے گروپ کوتیارکیاہے جوبہتر لاجسٹک سیٹ اپ بھی رکھتاہو تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حرکت ممکن ہو۔ عراق اورشام میں سرگرم گروپ امریکی ایجنڈے کے مطابق کام کررہے ہیں ۔ دونوں ممالک کوتین ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے۔ ایک سنی ریاست معرض وجود میں لائی جائے، ایک عرب شیعہ جمہوریہ بنائی جائے اورآزاد کردستان کی راہ ہموارکی جائے۔بغدادمیں امریکی حمایت یافتہ حکومت امریکی اداروں سے جدید ترین اسلحہ خرید رہی ہے۔ ایف سولہ طیارے بھی فراہم کیے جارہے ہیں۔
(جاری ہے)