Get Adobe Flash player

مردم شماری کے نتائج پر اعترضات ۔۔۔ظہیر الدین بابر

بلاشبہ یہ تشویشناک ہے کہ حالیہ مردم شماری پر مختلف حلقوں کے سنجیدہ اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔ طویل تاخیر کے بعد ہونے والی مردم شماری پر قوم کے ہوشمند طبقات نے اطمینان کا اظہار کیا مگر اب ظاہر کیے گئے اعداد وشمار پر کئی سوالات اٹھائے جارہے ۔آئین کی رو سے ہر دس سال بعد مردم شماری ہونا طے  ہے مگر اہل اقتدار اس بنیادی فریضہ کی ادائیگی میں بھی ناکام رہے بالاآخر  اس ضمن میں سپریم کورٹ کو آگے آنا پڑا۔اب صورت حال یہ ہے کہ سندھ میں شائد ہی کسی جماعت نے  مردم  شماری کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ صوبائی حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی یہ شکوہ کررہے کہ دیہی اور شہری علاقوں کی آبادی کم کرکے دکھائی گئی۔ ادھر یہ اعتراض بھی سامنے آچکاکہ قبائلی علاقوں کی آبادی دانستہ طور پر کم کرکے دکھائی گئی۔ حکومت کے مطابق فاٹا کی سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ فرنٹیر ریجنز کی کل آبادی 50لاکھ سامنے آئی۔ قبائلی علاقوںسے تعلق رکھنے والے بعض حلقے دعوے کررہے کہ محض چار قبائلی ایجنسیوںکی آبادی پیچاس لاکھ بنتی ہے ان کے بقول حکومت نے فاٹا کی تین ایجنسیوں کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا۔ یہ الزام بھی لگایا جارہا کہ حالیہ آپریشن کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہونے والوں کو ادارہ شماریات نے قبائیلوں میں شامل ہی نہیں کیا۔ادھر حکومت کسی طور پر مردم شماری پر اعتراض اٹھانے والوں کا موقف تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔مخصوص علاقوں کی آبادی کم کرکے دکھانے کا دعوی کرنے والوں کا موقف ہے کہ آنے والے دنوں میں ان آبادیوں کو تعمیر وترقی کے لیے کم فنڈز مہیا کیے جائیں گے جن کے باعث ان کی مشکلات میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائیگا۔تاریخی طور پر بروقت مردم شماری نہ کرانے کی بہت سی وجوہات نظر آتی ہیں۔ مثلا ایک وجہ یہ کہ مختلف صوبوں، قومیتوں اور لسانی و مذہبی گروہوں کو مردم شماری کے اعداد و شمار کے بارے میں مطمئن کرنا مشکل ہے۔  یاد رہے کہ یہ صرف ہمارے ہاں  ہی نہیں بلکہ بہت سارے ان ممالک کا مسئلہ بھی ہے جہاں ایک سے زیادہ قومیتیں، لسانی گروہ، مذہبی اکائیاں اور نسلی گروہ بستے ہیں۔ مشرق وسطی کے بہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں اگر مردم شماری کرائی جائے تو اکثریت میں سمجھے جانے والے مذہبی یا نسلی گروہوں کے اقلیت میں بدلنے کا خدشہ ہے اس لئے وہاں مردم شماری کرانے نہیں دی جاتی۔حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی میں 1998 کی آخری مردم شماری کے بعد دو اعشاریہ چالیس فیصد سالانہ کی شرح نمو کے حساب سے ستاون فیصد اضافہ ثابت ہوا ۔ اعداد وشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وطن عزیز  بیس کروڑ ستتر لاکھ سے زیادہ لوگوں کا ملک ہے جس میں سے 36 فیصد لوگ شہروں میں رہتے ہیں۔ بظاہر  آبادی میں اضافے کی مجموعی شرح گری  جو یہاں پر بہبود آبادی یا خاندانی منصوبہ بندی کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری کاوشوں اور عوام کے مجموعی شعور کا آئینہ دار ہے۔اس دفعہ کی مردم شماری میں طریقہ کار تبدیل کیا گیا یعنی اس بار قومی شناختی کارڈ کے نمبر کا اندراج لازمی تھا۔ اس طریقہ کار کے تحت کوئی فرد ایک سے زیادہ جگہوں پر اندراج نہیں کروا سکتا۔ ایک سے زیادہ اندراج کی صورت میں نیشنل ڈیٹا رجسٹریشن اٹھارٹی کا ڈیٹا بیس اس کارڈ کو مسترد کر دیگا جس کا نمبر پہلے سے درج ہوا ہو۔ ا س طرح لوگوں کا اندراج صرف جائے سکونت میں ہی ہوسکا۔ مردم شماری کے اعداد و شمار سے سامنے آنے والے حقائق میں سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ  شہروں میں آبادی کا دبائو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ دیہاتوں سے بہتر سہولیات زندگی اور روزگار کے لئے شہروں کا رخ کرنا ایک معمول کی بات تھی مگر گزشتہ دو دہائیوں میں امن و امان کی وجہ سے قابل ذکر  آبادی شہروں کا رخ کر رہی ہے۔ فاٹا اور خیبر پختونخوا سے امن و امان کی صورت حال کی وجہ سے بھی لوگوں نے شہری علاقوں کا رخ کیا ہے۔ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ لاہور کے بعد پشاور آبادی میں اضافے کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں 1998 کی نسبت سو فیصد آبادی میں اضافہ ہوا ۔ اگر مگر کے باوجود  ملک کو  بڑھتی ہوئی آبادی کے سنگین مسئلے کا سامنا ہے کیونکہ یہاں وسائل اور ذرائع پیداوار میں کمی اور کھانے والوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا۔1981 کی مردم شماری میں آٹھ کروڑ کی آبادی تھی جو آج بیس کروڑسے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اناج اگانے والی زمین، زمین کو سیراب کرنے والے پانی اور صنعتی پیداوار میں  ہرگز خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ماہرین کے مطابق آبادی میں اضافے کو اگر مزید کم نہیں کیا گیا تو مستقبل قریب میں  یہاں غذائی قلت اور رہائش کے سنگین مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ لازم ہے سیاسی ، مذہبی اور سماجی تنظیموں کو آبادی میں اضافہ کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کرنا چاہے۔ حکومت کو مختلف فورمز کے ذریعہ شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والوںکو باور کروانا ہوگا کہ آبادی میں اضافے سے پاکستان کا ہر شہری بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر متاثر ہوگا۔ خوشحال اور پرامن پاکستان کا خواب اسی صورت شرمندہ تعبیر ہوگا جب آبادی میں اضافہ کنٹرول کیاجائے۔ حالیہ مردم شماری پر اعراضات اپنی جگہ مگر اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ ملک کی بڑھتی ہوئی تعداد بطور قوم  ہمارے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہورہی ہے۔