Get Adobe Flash player

امریکی کانگرس اور قومی اسمبلی کے درمیان رابطوں کی ضرورت۔۔۔ضمیرنفیس

صدر ٹرمپ کے الزامات اور ان کی دھمکیوں کے جواب میں قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر جس قرارداد کی منظوری دی ہے اس کا لب و لہجہ سخت ہے اور یہ سینٹ کی سفارشات کے مقابلے میں قومی امنگوں کی موثر طور پر نمائندگی کرتی ہے قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ '' امریکی الزامات واپس لئے جانے تک افغانستان کیلئے پاکستان کے راستے امریکی سازو سامان کی رسد پر پابندی عائد کی جائے''پاکستان اور امریکہ کے درمیان وفود کے تبادلوں پر بھی پابندی عائد کی جائے مشترکہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی اسمبلی کا ایوان 21اگست کو افغانستان و جنوبی ایشیاء سے متعلق بیان میں پاکستان پر الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جنرل نکلسن کے کوئٹہ اور پشاور میں طالبان شوریٰ کی موجودگی کے الزام کو بھی ایوان مسترد کرتا ہے اور بھارت کو افغانستان میں کردار دینے کی مذمت کرتا ہے یہ کردار زمینی حقائق سے راہ فرار اختیار کرنے کے مترادف ہے بھارت کو بالادست بنانے سے خطہ غیر مستحکم ہوگا۔قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ایوان مقبوضہ کشمیر کے عوام کی سفارتی،  سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے اور ان کے حق خود ارادیت کی تائید کرتا ہے۔یہ بھی کہا گیا کہ ایوان امریکہ کے پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کے دعوے کو مسترد کرتا ہے جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پاکستانی معیشت کو 123ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوچکا اس جنگ سے پاکستان میں 70ہزار قیمتیں جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر اور افغانستان میں نیٹو کمانڈر کے بیانات پاکستان کو یرغمال بنانے اور دھمکیاں دینے کے مترادف ہیں چنانچہ اس صورتحال میں ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ پاکستان کی آزادی ، خود مختاری اور علاقائی سالیمت کے تحفظ کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔قرارداد میں افغان مہاجرین کی واپسی کو ممکن بنانے پر زور دیا گیا۔ افغان حکومت سے اپنی سرزمین پر تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار اور دیگر دہشتگرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کو جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے حملے کئے جاتے ہیں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکہ ، اتحادی افواج اور افغان حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کو افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہ کرنے دیں۔ قومی اسمبلی کی مذکورہ قرارداد بلاشبہ ایک جامع قرارداد ہے مناسب تھا کہ اس میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی کی تقریر کے اہم نکات بھی شامل کردئیے جاتے انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی امریکی کانگریس کے سربراہ کو خط لکھیں جس میں پاک امریکہ جوائنٹ کمیٹی بنانے کی تجویز دی جائے اور ان سے کہا جائے کہ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی نشاندہی ہم کرتے ہیں جبکہ پاکستان پر لگائے گئے الزامات کے وہ ہمیں ثبوت فراہم کریں ہم اپنا موقف واضح کرینگے۔ چوہدری نثار علی کی تجویز بامعانی اور قابل عمل ہے پاکستان اور امریکہ منتخب ایوانوں کے سربراہوں کے درمیان مکالمے اور رابطے کے ذریعے مشترکہ کمیٹی دونوں طرف کے الرامات کا جائزہ لے سکتی ہے۔امریکہ اگر دھمکیاں دے سکتا ہے تو ہم بھی اپنا لیور استعمال کرنے کے حوالے وارننگ دے سکتے ہیں ماضی میں امریکی فوجیوں کے سلالہ حملے پر پاکستان نے افغانستان کو نیٹو سپلائی روک دی تھی اور امریکہ سے معافی کا مطالبہ کیا تھا شروع میں امریکہ نے معذرت سے انکار کردیا تھا مگر سپلائی کی معطلی کے بعد جب اس پر دبائو بڑھا تو اس نے معذرت کرلی تھی ہمیں نہ صرف رسد روکنے کے حوالے سے وارننگ دینی چاہیے بلکہ یہ بھی واضح کرنا چاہیے کہ رسد کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان معاہدہ ہونا چاہیے آئندہ کیلئے ہمیں مفت سہولت کو ختم کردینا چاہیے۔اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ایک دوسرے کے شہریوں کو مفت ویزا فراہم کیا جارہا ہے یہ طریقہ کار ختم ہونا چاہیے اس کی وجہ سے افغانستان سے لوگ بھاری تعداد میں پاکستان تے ہیں کیونکہ وہاں روزگار کے مواقع نہیں ہیں اس کے برعکس پاکستان سے افغانستان جانے والوں کی تعداد بہت مختصر ہے افغانیوں کیلئے کم از کم پچاس ڈالر  مقرر ہونی چاہیے۔