Get Adobe Flash player

ایک کی چونچ۔ایک کی دم۔۔۔تنوویر صادق

دونوں گاڑیاں ایک دوسرے کے پیچھے بڑی تیزی سے بھاگی آ رہی تھیں۔ موڑ پر مڑتے وقت بھی دونوں میں سے کسی نے گاڑی آہستہ کرنے کا تکلف نہیں کیا۔ موڑ مڑتے ہی سامنے سپیڈ بریکر تھا جو وہاں رہنے والوں نے اپنی حفاظت کے لئے خود ہی بنوایا تھا۔ بنانے والوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ اس بریکر کی ساخت کیا ہے، سائز کیا ہے،فائدہ کیا ہے۔ نقصان کیا ہے۔اندھا دھند چلتی گاڑیاں کچھ سنبھلتی تو ہیں۔وہاں بریکر کی آمد کا نہ تو کوئی نشان تھا اور نہ ہی بریکر پر کوئی نشان۔بس ایک پہاڑ نما بڑا سا ٹیلا بنا دیا گیا تھا۔ اگلی گاڑی والے کی اس ٹیلے یا سپیڈ بریکر پر نظر پڑی تو دیر ہو چکی تھی ۔ پورے زور سے بریکیں لگانے کے باوجود پہلے گاڑی کا اگلا حصہ آسمان کے رخ محو پرواز ہوا اور اس کے بعدپچھلا حصہ فضا میں رقص کرنے لگا۔پچھلے گاڑی والے نے بھی گاڑی روکنے کی بہت کوشش کی مگرجب اگلی گاڑی زمین پر واپس آ رہی تھی، یہ گاڑی بریکر سے اچھلی اور اس کا اگلا حصہ پہلی گاڑی کے پچھلے حصے میں یوں پیوست ہوا جیسے برسوں کے بچھڑے بڑے تپاک سے گلے مل رہے ہوں۔لمحوں میں گاڑیوں کے کچھ حصے دائیں بائیں سڑک پر گھو منے لگے۔ پچھلی گاڑی کا اگلا بمپر آدھا سڑک پر جھول رہا تھا اور آدھا دونوں کے درمیان پھنسا ہوا تھا جب کہ اگلی گاڑی کا پچھلا بمپر پرواز کرتا ہوا ڈیڑھ دو سو فٹ کے فاصلے پر آرام کر رہا تھا۔ مجھے بچپن میں پڑھی ہوئی نظم یاد آ گئی۔ لڑتے لڑتے ہو گئی گم، ایک کی چونچ، ایک کی دم۔کمبخت سپیڈ بریکر نے دونوں گاڑیوں کو لڑا کر ایک کی چونچ اور ایک کی دم غائب کر دی تھی۔ محلے کے کئی لڑکے بھاگتے ہوئے آئے کہ دیکھیں کوئی زخمی تو نہیں ہوا۔دونوں گاڑی مالکان خیریت سے تھے مگر شدید غصے میں۔ انہوں نے اتر کر پہلے اپنی گاڑیوں پر نظر ڈالی پھر ایک دوسرے کو گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ ہر ڈرائیور حادثے کاذمہ دار دوسرے کو قرار دے رہا تھا۔اس سے پہلے کہ دونوں گتھم گتھا ہوتے ، محلے کے ایک پہلوان نما بزرگ آگے بڑھ کر انہیں روکااور بتایا کہ قصور دونوں کا ہے۔ اس علاقے میں گاڑی تیز چلانا اپنے ساتھ بھی اور علاقہ مکینوں کے ساتھ بھی ظلم ہے۔ تھوڑا سا شعور اگر ہے تو گاڑی رکھنے کے ساتھ اسے چلانے کے اخلاقی تقاضے بھی جانو۔دونوں ڈرائیوروں کو یہ نصیحتیں اچھی نہیں لگیں ۔ بولے یہ سپیڈ بریکر ہے یاآپ لوگوں نے اپنی قبر بنائی ہوئی ہے۔ پہلوان کو بھی غصہ آ گیا۔ اس نے محلے کے پندرہ بیس لڑکے ،جو وہاں اکھٹے ہو گئے ،کو کہا ، بیٹا لگتا ہے گاڑیاں تڑوا کر بھی ان کا پاگل پن دور نہیں ہو، اب زیادہ بولیں تو یہیں سڑک پر لٹا کر تھوڑا سا دھو نا ضروری ہے۔پکڑو اور اسی قبر پر انہیں لٹا دو۔ دونوں گاڑی والوں کو بات سمجھ آ گئی،معذرت کرنے لگے۔پہلوا ن نے لڑکوں کو کہا، پہلے ان کی گاڑیاں ایک سائیڈ پر کرائو اور پھر ان کی جو مدد ہو سکے کرو۔لڑکے ان کے ساتھ گاڑیاں ایک طرف کرانے لگے اور پہلوان سامنے ایک تھڑے پر بیٹھ کر صورت حال کا جائزہ لیتا رہا۔یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ۔ ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔پوری دنیا میں لوگ خصوصا نوجوان اندھا دھند گاڑیاں چلاتے ہیں۔لوگوں کی سلامتی کے لئے ان کی رفتار کو کنٹرول کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس کے لئے سپیڈ بریکرز، سپیڈ کشن اور سپیڈ لمٹ سے کام لیا جاتا ہے۔سپیڈ لمٹ بڑی شاہرائوں پر نافد ہوتی ہے۔ جو عموما سو کلومیٹر یا اس سے کچھ زیادہ ہوتی ہے۔سپیڈ کشن ربڑ، کنکریٹ یا پلاسٹک کسی بھی میٹیریل سے بنائے جا سکتے ہیں ان کی زیادہ سے زیادہ اونچائی تین انچ ہوتی ہے ۔یہ گروپ کی صورت تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگائے جاتے ہیں۔ چھوٹی گاڑیاں ان پر سے گزرتے تھوڑی سی رقصاں ہوتی ہیں اور ڈرائیور 15 سے20 فیصد تک رفتار کم کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔البتہ ایمر جنسی بڑی گاڑیاں ان سے با آسانی گزر جاتی ہیں۔سپیڈ بریکر اپنی ابتدا سے آج تک متنازعہ رہا ہے۔یہ لمبائی میں سڑک کی پوری چوڑائی کے برابر ہوتا ہے۔اس کی سٹینڈرڈ چوڑائی بارہ فٹ سے چودہ فٹ ہوتی ہے جب کہ اونچائی چار انچ ہوتی ہے۔ اگر سپیڈ زیادہ کم کرنی مطلوب ہوتو ایک خاص نسبت سے اس کی چوڑائی تھوڑی کم اور اونچائی تھوڑی بڑھا دی باتی ہے ۔اس کے لئے اب ایک باقاعدہ فارمولا بنا دیا گیا ہے ۔ یہ بریکر آہستہ چلنے والوں کو محسوس نہیں ہوتے البتہ تیز چلنے والوں کو ہلکے سے جھٹکے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ٹریفک کو کنٹرول رکھنے کے لئے سپیڈ بریکر کی کہاں ضرورت اور اور کیسا ہونا چاہیے اس کا فیصلہ حکومت کرتی ہے۔پاکستان جیسے ممالک جہاں قانون کی حکمرانی قدرے کمزور ہوتی ہے، وہاں عوام جہاں چاہتے ہیں ، جب چاہتے ہیں اور جیسا چاہتے ہیں بریکر بنانے میں آزاد ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں آدھے سے زیادہ بریکر ایک فٹ اونچے اور فقط ایک فٹ چوڑے نظر آتے ہیں۔ایسے بریکر صرف رفتار ہی کم نہیں کرتے، کار کو سبق بھی سکھا کر بھیجتے ہیں۔یہ بریکر دنیا بھر میں خلاف قانون قرار دئیے جاتے ہیں۔1906 میں گاڑیوں کی تیز سپیڈ تیس میل یا 48 کلو میٹر فی گھنٹہ ہوتی تھی۔ اس رفتار کو کم کرنے کے لئے امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں شیتم کے علاقے میں روڈ کراس کرنے والی جگہ سڑک پر فٹ پاتھ کی طرز پر ایک پا نچ انچ اونچی چوڑی سی پٹی بنا دی گئی۔ یہ دنیا کا سب سے پہلا سپیڈ بریکر تھا۔اس کے بعد مختلف ملکوں میں اس پر باقاعدہ تحقیق ہوتی رہی۔ اور کئی انداز میں سپیڈ بریکر وجود میں آتے رہے۔آج سپیڈ بریکر پوری دنیا میں موجود ہیں۔ انگلینڈ میں لوگ سپیڈ بریکر کو سویا ہوا پولیس مین کہتے ہیں۔ گنجان آبادیوں میں اور سکولوں کے گرد نواح لوگوں خصوصابچوں کی حفاظت، حادثات سے بچائواور تیز رفتار ڈرائیوروں کو گاڑی آہستہ چلانے پر مجبور کرنے میں سپیڈ بریکر کی افادیت سے کسی طرح انکار ممکن نہیں۔لیکن سپیڈ بریکروں کی بغیر ضرورت تعمیر، غیر ضروری بھر ماراورناقص ڈیزائین نے لوگوں کے لئے مشکلات پید اکر دی ہیں ۔ ایمر جنسی گاڑیوں کی نقل و حمل میں مشکلات بھی پیدا کی ہیں۔ان بریکرز کی وجہ سے کم رفتار کے لئے چھوٹے گئیر کا استعمال شور اور آلودگی کا باعث بنتا ہے۔نوکدار بریکر گاڑیوں کی ٹوٹ پھوٹ کا بھی باعث ہوتے ہیں۔ برطانیہ میں ایمبولینس ایسوسی ایشن کے مطابق سپیڈ بریکرز کی موجودگی میں گاڑیوں کی تیزرفتاری میں رکاوٹ ہزاروں مریضوں کی ہلاکت کا باعث ہوئی ہے۔سپیڈ بریکر کی تمام تر افادیت کے باوجود،حکومتی سطح پر ضرورت ہے کہ عوام کے ہر جگہ اور ہر علاقے میں بغیر پوچھے ، بغیر اجازت غیر ضروری سپیڈ بریکر بنانے پر پابندی عائد کی جائے ۔جہاں ضرورت ہو حکومت بریکر خود بنوائے یا اگر کوئی دوسرا بنانا چاہے تو اس کی تعمیرکوحکومتی اجازت کے ساتھ منسوب کر دیا جائے۔جو سپیڈ بیکر بنایا جائے وہ مروجہ ڈیزائن کے مطابق ہو تا کہ بریکر گاڑیاں نہ توڑیں صرف رفتار پر قابو پائیں۔