Get Adobe Flash player

عرفان قادرکے نام ۔۔۔محمد آصف عنایت

ناسٹیلجیا یعنی ماضی میں کھونا یا پرانی یادوں میں مبتلا ہونا، سنا تھا دراصل انسان کی زندگی کا ایسا گوشہ یا نگر ہے جس میں بلا شرکت غیرے محظوظ بھی ہوتا ہے اور خدانخواستہ مغموم بھی، ارادہ تو تھا کہ کسی وقت اپنے چند دوستوں میں سے جناب عرفان قادر پر لکھا جائے مگر یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کوشش باقاعدہ ناسٹیلجیا کے حملے کی زد میں لے آئے گی، ہم کسی شخصیت کے مثبت پہلوؤں کا اس کی زندگی میں اعتراف کرنے میں کافی بخیل واقع ہونے والے معاشرے کی بنیاد رکھ چکے ہیں البتہ اگر کچھ غرض ہو تو وہ خوبیاں بھی اس کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں جن سے وہ خود بھی کبھی واقف نہ رہا ہو۔کوئی موجودہ شخصیت اگر ماضی میں بھی شریک سفر رہی ہو تو اس کا یاد آنا فطری اور حسین عمل اس لیے ہے کہ انسان فطری طور پر ہی لڑکپن، جوانی اور نو عمری کے دنوں کو کبھی کبھار یاد کرتا رہتا ہے۔ ماضی کے کھلتے ہوئے دریچوں میں چلنے والے مناظر میں وہ لوگ ہی قبضہ جمائے ہوئے ہوتے ہیں جن کے ساتھ وہ دن گزرے ہوں۔ 1981-83ء کا دور ضیاء الحق کا دور تھا یا وطن عزیز پر عتاب کا راج، تب آج کی طرح لاء کالجز قریہ قریہ اور نگر نگر نہیں کھلے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج ہی تھا اور اس کی اپنی شان اور نام تھا۔ وطن عزیز کے نامور وکلاء وہاں پر لیکچر دیا کرتے تھے۔ میری کلاس کے طلباء میں علی اکبر قریشی، شاہد مبین، ممتاز بخاری،  عمر مہدی، طارق شاہ کھگا، عرفان قادر وغیرہ میرے قریبی ترین دوستوں میں شامل تھے۔ علی اکبر قریشی بعد میں مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی (دوبار) مسٹر جسٹس شاہد مبین حالیہ دور میں بھی ہائی کورٹ میں بطور جسٹس فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دونوں محنت اور دیانتداری کا شاہکار ہیں لیکن آج دل چاہا کہ دبنگ شخصیت جناب عرفان قادر کی بات کی جائے۔ مجھے یاد ہے اُن دنوں یونیورسٹی پر ایک طلباء تنظیم کا راج تھا جس کے سامنے کوئی پرندہ بھی پر نہیں مارتا تھا مگر الحمداللہ ہمارے لیے وہ کبھی بھی مسئلہ نہیں رہے تھے۔ عملی زندگی ایک تیز پانی کے بہاؤ کی طرح ہوتی ہے جس کے بہاؤ میں کوئی کہیں اور کوئی کہیں بہہ نکلتا ہے۔ راقم نے بھی کیریئر کا آغاز وکالت سے کیا۔ ایم آر ڈی کے وقت میں سیاست کی، پھر امریکہ چلا گیا واپس آکر وکالت شروع کی، پھر غلامی سے بد تر سرکاری نوکری زندگی کا توانائی سے بھرپور حصہ کھا گئی، اسی دوران افسانہ نگاری ، کالم نگاری میں بھی وقت لگایا مگر باقی شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ دوستوں کے ساتھ قریبی رابطہ رہا… عرفان قادر جب عملی زندگی میں آئے ، وکالت شروع کر دی، عرفان قادر سینئر بیوروکریٹ سابقہ چیئرمین ریلوے جناب چوہدری عبدالقادر کے بیٹے تھے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی اور انتہائی نیک نام شخصیت سابق چیف جسٹس آف پاکستان ریٹائرڈ جناب اسلم ریاض حسین کے ہاں بیاہے گئے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، ممبر پرزنر ریفارمز کمیشن، کئی سال تک پراسیکیوٹر جنرل نیب، مسٹر جسٹس لاہور ہائی کورٹ، پھر دوبارہ پراسیکیوٹر جنرل نیب آف پاکستان، صدر پاکستان کے قانونی امور کے مشیر، سیکرٹری وزارت قانون و انصاف و پارلیمانی امور حکومت پاکستان کے علاوہ اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر فائز رہے۔ قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ ان تمام عہدوں پر قومی و آئینی خدمات جواں سالی میں ہی انجام دیں ورنہ ایسے عہدوں پر عموماً میانی صاحب کے مسافروں کو ہی دیکھا گیا ہے۔ واحد عرفان قادر ہیں جو نوجوانی سے جوانی تک ان عہدوں پر قومی خدمات انجام دے چکے… مسٹر عرفان قادر ہمارے دوستوں کے گروپ میں زیادہ کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انتہائی شرمیلے، خوش پوش ، خوش گفتار، خوش مزاج، خوش اخلاق مگر حیرت انگیز طور پر بے باک بھی ۔ کلاس میں ٹیچر کے ساتھ سوال و جواب کا سلسلہ عرفان قادر کا ہی سب سے زیادہ ہوا کرتا تھا۔ کلاس روم میں ٹیچر سوال کے جواب کی وجہ سے اور اب عدالت میں مخالف وکلاء کے علاوہ معذرت سے جج صاحبان قانونی نکات کی وجہ سے گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سب کے ساتھ اچھے تھے مگر طلباء میں علی اکبر قریشی کے زیادہ دوست تھے۔ میرے ساتھ دوستی تو تھی البتہ نظریاتی اختلاف کی بنا پر تھوڑا محتاط بھی رہتے تھے ۔ دوستوں سے چھیڑ خانی میری طبیعت کا خاصہ رہا ہے لہٰذا عرفان بھی اس زد میں آجایا کرتے۔ میں انہیں دلیپ کے وقتوں کے انڈین فلموں کے ایک معروف ہیرو سے تشبیہ دیا کرتا تھا۔ علی اکبر قریشی ہمارے CRبھی رہے۔ ہم یعنی علی اکبر قریشی ، عرفان قادر، ممتاز بخاری، شاہد مبین عموماً ساتھ ساتھ کرسیوںیا بنچوں پر ہوتے۔ گوجرانوالہ سے میرا دوست خواجہ عمر مہدی بھی میری وساطت سے اس گروپ کا حصہ تھا۔ ٹیچرز سے چبھنے والا سوال یہ لوگ مجھ سے کرواتے تھے جبکہ قانونی ابہام کی وضاحت کا سوال عرفان قادر خود ہی کر لیا کرتے تھے۔ میں نے کئی بار اس حوالہ سے ان سے چھیڑ چھاڑ بھی کی مگر عرفان قادر شرمیلے ہونے کے باوجود سوال کرنے میں کبھی دیر نہ کرتے۔ الگ الگ مصروفیات زندگی کے با وجود کبھی کبھار ملاقات ہو جایا کرتی مگر رابطہ مسلسل رہا۔ جب بھی رابطہ ہوا میں نے محسوس کیا کہ جناب عرفان قادر کی معصومیت ، صاف گوئی، بے باکی،سچائی، ذہانت ، شرافت، صداقت، امانت، دانش، دیانت، متانت، ذہانت، فصاحت، اور بلاغت نے جیسے قدرت سے حکم امتناعی لے رکھا ہو، اتنے بڑے بڑے عہدوں پر سال ہا سال فائز رہے۔ جنرل مشرف ، جناب آصف علی زرداری، وزرائے اعظم ، عسکری قیادتوں، اعلیٰ ترین عدالتی شخصیات کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کار رہے مگر عرفان قادر کی معصومیت ، عاجزی نے کسی بڑے عہدے یا بڑی شخصیت کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیا… کبھی ہوتا تھا کہ عدالت کے زیر سماعت مقدمات پر بات نہیں ہوا کرتی تھی اور نہ ہی ججز کے ریمارکس شہ سرخیاں بنا کرتے تھے مگر اب الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے عدالت کی کارروائی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ ہوتی ہے اور قانونی و سیاسی تجزیہ کار عدالت کے باہر ہی ڈائس لگا کر متعلقہ مقدمہ کے متعلق کھلے عام اپنے خیالات کا اظہار فرمایا کرتے ہیں۔ این آر او کا مقدمہ ہو، وزیراعظم کا چٹھی نہ لکھنا، پانامہ کیس ہو، کوئی جے آئی ٹی ہو، کسی توہین عدالت کا مقدمہ ہو یا کوئی آئینی مسئلہ اگر مسٹر عرفان قادر سے کسی نے کوئی سوال کیا یا ان کی رائے مانگی ہو تو انہوں نے ہمیشہ بے لاگ تبصرہ کیا، چاہے وہ اُن کے مزاج اور مفاد کے بھی خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جسٹس رمدے ہوں یا جسٹس افتخار محمد چوہدری ، مسٹر عرفان قادر کی کسی کی بھی عدالت میں موجودگی تاریخ کا حصہ رہی ہے۔ اتنی معصوم شکل و صورت اور فطرت میں ، اتنا بے باک قانون دان میں نے نہیں دیکھا ۔ مسٹر عرفان قادر نے کبھی اپنے مؤقف کو پیش کرنے میں مصلحت کا پہلو تلاش کیااور نہ ہی کسی کا پریشر لیا۔ اُن کی سوچ اور رائے کے پیچھے ہمیشہ قانون اور انسانی وزڈم کارفرما رہے۔اُن کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے وکالت اور عدالتی عہدوں کے معیار، روایات، اخلاقیات اور اقدار کو اپنے مستقبل اور مفاد کو داؤپر لگا کر زندہ رکھا۔ وطن عزیز کے اتنے بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہتے ہوئے مسٹر عرفان قادر پر کبھی کسی سکینڈل کا شائبہ تک نہیں ہوا۔ مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی، مسٹر جسٹس شاہد مبین اور جناب عرفان قادر جیسے ضرب المثل لوگوں کو قومی خدمت کے عہدوں پر فائز دیکھ کر احسا س ہوتا ہے کہ وطن عزیز میں ایک مضبوط نظام ہے جو اسے کبھی ناکام ریاست نہیں بننے دے گا۔ یہ سطور لکھ رہا تھا کہ نواز شریف کی تقریر کے حوالے سے ٹی وی چینل پر مسٹر عرفان قادر اور فروغ نسیم آراء دے رہے تھے۔ فروغ نسیم نے تو بھٹو صاحب کے مقدمہ میں یہ کہہ کر کہ وہ ٹھیک طرح لڑا نہیں گیا تھا عدالتی تاریخ ہی بدل ڈالی حالانکہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا بیان آن ریکارڈ ہے کہ ہم پر پریشر تھا۔ اور پھر فروغ نسیم کہتے ہیں کہ ججوں کو ناراض نہیں کرنا چاہیے ۔ offend نہ کریں گو یا اگر وہ ناراض ہوں تو (جیسے ناراضی فیصلے کی صورت میں بھی نظر آئے گی) ان کی بات کا مفہوم یہ تھا جبکہ مسٹر عرفان قادر کا مؤقف کتابی اور خالص آئینی و قانونی بنیادوں پر تھا۔ میری نظر میں اور میرے مطابق مسٹر عرفان قادر وطن عزیز کے سب سے بڑے قانون دان ہیں۔