امریکا:انسانیت کامجرم ۔۔۔سمیع اللہ ملک

 گزشتہ سے پیوستہ
 دوسری طرف اسلامی اسٹیٹ آف عراق اورالشام کوبھی مغربی خفیہ اداروں کی حمایت حاصل ہے۔ انہیں فنڈز کے ساتھ ساتھ جدید ترین اسلحہ بھی فراہم کیاجارہاہے۔ منظر نامہ یہ ہے کہ عراق اورشام میں تمام حکومت مخالف گروپوں کوبھرپورتیارکرکے میدان میں لایاجائے تاکہ فوج سے ان کاتصادم ہواوریوں مغربی قوتوں کو ایجنڈے کے مطابق اہداف حاصل کرنے میں بھرپورمدد ملے۔میڈیا کے ذریعے عوام کویہ باورکرایاجارہاہے کہ عراق اورشام میں جوکچھ ہو رہاہے وہ شیعہ سنی اختلافات کاشاخسانہ ہے۔ شیعہ سنی اختلافات کی پشت پر امریکی،برطانوی اوراسرائیلی ایجنڈاہے یعنی یہ کہ خطے کے چندبڑے ممالک کومسلک،نسل اورزبان کی بنیادپرتقسیم کردیاجائے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے خطے میں دیگرحلیفوں سے مددبھی لی جارہی ہے۔اب تک تویہی سامنے آیاہے کہ مختلف ممالک میں نسلی،مسلکی اورلسانی بنیادپر تفاوت اوراختلاف کوبڑھاوادیاجائے تاکہ اندرونی لڑائی کادائرہ وسیع ہو۔اِس پورے معمے کاسب سے اہم جزواشنگٹن کی طرف سے دہشت گردوں کو بھرپورتعاون فراہم کرناہے۔پال بریمرنے  عراق میں سِوِل گورنر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اِس میعاد کی بنیاد پر" مائی ڈیئر ایئر اِن عراق"کے عنوان سے کتاب بھی لکھی ہے جو بہت مختلف ہے۔ پال بریمر نے جب عراق انٹیلی جنس اور پولیس کو ختم کیا تو امریکی قبضے کی بھرپور حمایت کرنے والے گروپوں کی فنڈنگ شروع کی۔ ان گروپوں نے عراق کے طول و عرض میں انسانیت سوز مظالم ڈھائے۔ اِن مظالم ہی کے باعث اورمیں عراق کے طول وعرض میں قتل وغارت کاسلسلہ چلاتھا۔پال بریمرکی گورنری کے عہد میں قابض افواج جنیوا کنونشن کے طے کردہ اصولوں کے تحت مقبوضہ علاقوں کے عوام کوتحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہیں اوردوسری طرف اِس قبضے کومضبوط کرنے کیلئے دہشت گردوں اورجرائم پیشہ افرادکے گروپوں کومنظم کیا گیا۔وزارت داخلہ اوراسپیشل کمانڈوفورسزکے ذریعے عراق میں ہزاروں بے قصورسویلینزکوموت کے گھاٹ اتاراگیا۔پال بریمرکے بعدعراق میں امریکی سفیرجان نیگروپونٹے نے قتل وغارت کا بازارگرم رکھا۔ انہوں نے   وسطی امریکامیں بھی ایسا ہی کیاتھا۔ پال بریمر نے جوکام ادھوراچھوڑاتھا،اسے جان نیگروپونٹے نے مکمل کیا۔ جان نیگرو پونٹے نے قاتل دستوں کوبھرپورامداد فراہم کی۔ ان دستوں نے ملک بھر میں لاکھوں سویلینزکے قتل کی راہ ہموارکی۔عراق کابنیادی ڈھانچاتباہ ہوگیا۔ معیشت برائے نام بھی نہ رہی۔ تیل کی پیداواراوربرآمد میں ایسارخنہ پڑاکہ ملک تباہی کے دہانے تک پہنچ گیا۔نیگرو پونٹے نے وسطی امریکا کے ملک ہونڈراس میں سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دی تھیں۔ وہاں انہوں نے تربیت یافتہ قاتلوں کے دستے تیارکیے تھے۔عراق میں بھی انہوں نے ایساہی کیا۔کردوں اورشیعوں پرمشتمل ایسے دستے تیارکیے گئے جوعراق پر امریکی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے سنی رہنمائوں کوقتل کرنے پر مامورتھے۔ السلواڈورآپشن کے تحت امریکی اورعراقی افواج مزاحمت کرنے والے رہنمائوں کوقتل کرنے کیلئے شام کی حدودمیں داخل ہونے سے بھی گریز نہیں کریں گی۔شام میں حکومت کے خلاف لڑنے والوں کے پاس امریکی ہتھیارہیں۔ یہ کوئی حیرت انگیزبات نہیں۔ایسانہیں ہے کہ امریکیوں کواس کاعلم یااندازہ نہ تھا۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوگاکہ ایساہوسکتاہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جنہیں پروان چڑھایاگیاہوتاہے وہی مفادات کے خلاف جاناشروع کردیتے ہیں۔امریکی پالیسی میکرزکواندازہ تھاکہ ان کے دیے ہوئے ہتھیارکسی حدتک انہی کے خلاف استعمال ہوں گے مگرخیر،امریکاکوطویل المیعادبنیادپراپنے مفادات کی زیادہ فکر لاحق تھی۔بہت سے لوگوں کوایسالگتاہے جیسے امریکی پالیسی میکرزبے وقوف ہیں یایہ کہ امریکی پالیسی ناکام ہوچکی ہے،ایسا نہیں ہے۔ دراصل امریکی پالیسی میکرزیہی چاہتے تھے کہ آپ یہ سمجھیں کہ مشرق وسطی میں ان کی پالیسی ناکام ہوچکی ہے یاوہ بے وقوف ہیں۔امریکا نے مشرق وسطی کے حوالے سے جوپالیسی اپنائی ہے وہ غیرجمہوری،مجرمانہ اورسفاک ہے یعنی پہلے تومعاملات کوخوب خراب کیجیے اورقتل وغیرت کا بازار گرم ہونے دیجیے اورآخر میں ایک قدم آگے بڑھ کرخودہی قانون کی بالادستی کی بات کیجیے تاکہ معاملات کودرست کرنے کی راہ کسی حدتک ہموار ہولیکن حقیقت یہ ہے کہ اب دنیا کے مشہور سیاسی تجزیہ نگاروں کی طرف سے بارہامطالبہ کیاجارہاہے کہ جن لوگوں نے عراق پرجنگ مسلط کی ان کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیے کیونکہ انہوں نے انسانیت کے خلاف جرم کاارتکاب کیا۔انہیں کسی بھی حالت میں معافی نہیں ملنی چاہیے۔ یاد رہے کہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم اورجنگ میں امریکاکے سب سے بڑے اتحادی ٹونی بلئیرعالمی میڈیاکے سامنے عراق جنگ کے سلسلے میں اپنی غلطی کااعتراف کرکے معافی کی درخواست کرچکے ہیں۔