وزیر اعظم کا درست فیصلہ۔۔۔ضمیر نفیس

وزیر اعظم نواز شریف نے نر یندر مودی کی دعوت ان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کا درست فیصلہ کیا اس پس منظر میں جبکہ انہوں نے نریندر مودی کی کامیابی پر انہیں مبادکباد دی تھی ان کے ساتھ کام کرنے اور بات چیت کے ذریعے دیرینہ مسائل حل کرنے کے عزم کا اظہار کیاتھا ااور انہیں پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تھی انکار کی کوئی وجہ نہیں تھی البتہ وزارت خارجہ کی بیوروکریسی نے انہیں اس استدلال کے ساتھ شرکت نہ کرنے کامشورہ دیا تھا کہ ان کی شرکت گویا بھارتی بالادستی کو قبول کرنے کی مترادف بھی سمجھی جاسکتی ہے مگر وزیراعظم نے سیاسی رفقاء کابینہ کے بعض اہم وزراء اورعسکری قیادت کے ساتھ مشورے کے بعد شرکت کافیصلہ کیا اوروزارت خارجہ کے مشورے کو مستر د کردیا بی جے پی کی طرف سے سارک ممالک کی تما م سر براہوں کو دی جانے والی دعوت کی بھارتی بالادستی کے کسی مفر وضے سے جوڑنے کی کوئی دلیل نہیں ہوسکتی اگر سارک کے کسی ممبر ملک میں نئی قیادت آئی ہے اور وہ اپنی تقریب حلف برداری میں دیگر سارک ممالک کے سربراہوں کو مدعوکرتی ہے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ نئی قیادت سارک سربراہوں سے اپنے بنیادی رابطوں کاآغاز کرتی ہے تاکہ اس طرح ایک دوسرے کو سمجھنے میں بہتر مد د مل سکے اور سارک کی کامیابیو ں کو سارک ممالک کے عوام کی خواہشات کے مطابق آگے بڑھ جاسکے یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ امریکہ سمیت مغربی دنیا نے جس طرح وزیراعظم نوازشریف کی نریندر مودی کی کامیابی پر انہیں دی جانے والی مبادکباد کو سراہا اسی طرح نریندر مودی کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کو دی جانے والی دعوت کی بھی تحسین کی اور اس توقع کااظہار کیا کہ دونوں ملکوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان رابطوں اوران کی باہمی ملاقاتوں کے نتیجے میں تصفیہ طلب امو ر کو بہتر طور پر حل کیا جاسکے گابھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا قیام اور اس کے ساتھ مکالمہ وزیراعظم نواز شریف کے لیے کوئی نئی بات نہیں پاکستان میں جن دنوں دوسری بار وزیر اعظم نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہوئی تھی بھارت بی جے پی برسراقتدار تھی اٹل بہاری واجپائی اس کے وزیراعظم تھے وزیراعظم نواز شریف کی دعوت پر انہوں نے بس کے ذریعے واہگہ سے لاہور کا دورہ کیا تھا اور مینارپاکستان پر کھڑے ہوکر کہا تھا کہ وہ پاکستان کودل سے تسلیم کرتے ہیں اور اس کی ترقی وخوشحالی کے خواہاں ہیں دونوں ملکو ں کے تعلقات میں یہ بہت اہم اور تاریخی پیش رفت تھی لیکن بدقسمتی سے بعد ازاں جنرل پرویز مشرف نے وزیراعظم کو اعتماد میں لئے بغیر کارگل میں مہم جوئی کی اور جمہوری حکومت کی ساری کامیابیوں پر پانی پھیر دیا ۔اہم بات یہ ہے کہ 11مئی 2013کے انتخابات سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران وزیراعظم نواز شریف نے اپنی متعدد تقاریر میں یہ کہا تھاکہ اگر ہمیں حکومت ملی تو بھارت کے ساتھ مکالمے اور رابطوں کا سلسلہ وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے یہ ٹوٹا تھا بلاشبہ اب قدرت نے انہیں یہ موقع فراہم کردیا ہے بی جے پی کی حکومت ایک بار پھر بھارت میں قائم ہے اور یہ ماضی کی حکومت کے مقابلے میں بہت بڑی اکثریت میں ہے اسے ایوان میں سادہ اکثر یت حاصل ہے اورماضی کی طرح اسے اتحادیوں کے دبائو کا سامنا نہیں کر ناپڑے گا دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو نرنیدرمودی اور بی جے پی کی طرف سے دی جانے والی دعوت پر کانگریس نے سب سے زیادہ تنقید کی ہے گویا سکولر از م کی دعو یدار جماعت دونوں ملکوں کے درمیان بہتر رابطوں اورخوشگوار تعلقات کی حامی نہیں اپنے دور میں اس کا طرز عمل بھی کچھ ایسا ہی تھا جبکہ اس کے برعکس بی جے پی جو دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت کا تشخص رکھتی ہے اس کے دور میں پہلے بھی حکومت پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات خوشگوار تھے اور اب بھی اس نے ایک اچھا آغاز کیا ہے وزیراعظم نواز شریف نے محض نئی دہلی جانے کا فیصلہ کرکے بہت کچھ حاصل کرلیا ہے انہوں نے عالمی سطح پر ایک بار پھر یہ ثابت کردیا ہے کہ ان کی حکومت بھارت کے ساتھ کشیدگی سے پاک اچھی ہمسائیگی کے تعلقات پریقین رکھتی ہے اور دیرینہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی خواہاں ہے دونوں ملکوں کے عوام کونریندر مودی اور نواز شریف نے مثبت پیغامات دیئے ہیں بھارت کی طرف سے وزیراعظم نواز شریف کی وزیراعظم نریندمودی اور بھارتی صدر سے ملاقاتوں کے ذریعے ہی مسائل کاحل تلاش کیا جاسکتاہے وزیراعظم نواز شریف اور وزیراعظم مودی نے ایک اچھاآغاز کیا ہے اگر مثبت جذبوں رویوں اورعمل کی صورتحال ایسی ہی رہی تو امید کی جاسکتی ہے کہ خطے میں دیر پا امن قائم ہوگا اور دونوں ملکوں کے عوام کے خوشحالی کے دیرینہ خوابوں کی تکمیل ہوسکے گی۔