جدید دور کے تقاضے۔۔۔زاہد رضا خان

یہ وہ دور گزر رہا ہے جس میں دنیا ترقی کی بے شمار منازل عبور کر چکی ہے۔اب دنیا گلوبل ویلج کا روپ دھار چکی ہے۔گھر بیٹھے بیٹھے دنیا کے دوسرے کونے میں رہنے والے لوگوں سے اس طرح آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کی جاسکتی ہے کہ جس کا تصور اٹھارویں صدی میں نہیں کیا جاسکتا تھا۔لاکھوں کروڑوں میل دور رہنے والے اس طرح آپس میں محو گفتگو ہوتے ہیں کہ جیسے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے ہیں۔وہ ہمارے گھر کے تمام افراد کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور ہمارے گھر والے ان لوگوں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ گھر میں سب لوگ کیا کر رہے ہیں۔جدید دور کی اس ترقی سے بہت سے مثبت فوائد بھی اٹھائے جاسکتے ہیں اور اگر انسان اپنے نفس امارہ کی طرف چل نکلے تو ان ممالک سے جہاں تہذیب نام کی کوئی شے نہیں ہے ۔جہاں لباس جسم کے اوپر سے اتر چکا ہے۔جہاں ابلیس ننگے ناچ ناچ رہا ہے۔ان کی تہذیب کی نقل کر کے اپنے آپ کو ان کے طور طریقوں پر ڈھال سکتا ہے۔دوسری طرف اچھی ذہنیت والے لوگ اپنے نفس لوامہ کو اپنا کر ،دنیا کی گندی تہذیب سے لوگوں کو بچنے کی تلقین کر سکتے ہیں۔یعنی میڈیا کی جدید ترقی سے فائدہ اٹھا کر ساری دنیا میں امن و سلامتی کا دین پھیلایا جاسکتا ہے۔دنیا کی تمام اقوام کو غیر فطری رجحا نات کے نقصانات سے آگاہ کیا جاسکتا ہے۔اسلام جو دین فطرت ہے اور جس کو اپنانے میں سراسر فلاح ہی فلاح ہے۔اس تعلیم کو لیکر ساری دنیا میں رائج کیا جاسکتا ہے۔جماعت اسلامی کے بانی سید ابو الاعلی مودودی نے کیا خوب جملہ کہا تھا کہ قرآن و سنت کی دعوت کو لے کر اٹھو اور ساری دنیا پر چھا جائو۔موجودہ دور میں اس کا الٹ کام ہو رہا ہے۔عمومی طور پر انسانیت، اسفلا سافلین کا نمونہ بنی ہوئی ہے۔اور یہ بات بھول گئی ہے کہ انسان کو بہترین تخلیق پر پیدا کیا گیا ہے ۔اسے اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے۔اس کوجانوروں جیسی زندگی گزارنے کے لئے دنیا میں نہیں بھیجا گیا ہے۔اسے اس جدید دور سے درست فائدہ اٹھانا ہے۔وہ کلچر اپنانا ہے جس میں انسانیت معراج کو پہنچ جائے۔انسان کی معراج کیا ہے۔وہ تحفہ جو سرور دو جہاں،خاتم المرسلین حضرت محمد ۖ جب معراج پر گئے تو اپنے ساتھ لائے یعنی نماز، اور اسی کو مومن کی معراج کہا گیا۔وہ باتیں جو پچھلے دور میں لوگوں کی سمجھ میں نہ آتی تھیں اس جدید دور میں سمجھ آنے لگی ہیں۔جب تک ہوائی جہاز ایجاد نہیں ہوئے تھے لوگ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ انسان فضائوں میں بھی سفر کر سکتا ہے۔ اب سائنس نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ انسان چاند پر پہنچ سکتا ہے۔اور چاند تک پہنچ کر دکھا دیا۔یہ ساری باتیں سائنس دانوں نے مسلمانوں کی کتاب قرآن کے مطالعہ سے معلوم کیں۔قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ سورج،چاند ستارے انسانوں کے لئے مسخر کر دئے گئے ہیں۔تسخیر ماہتاب تک انسان کی رسائی ممکن بنا دی گئی اور یہ حضرت انسان نے کرکے دکھایا۔ہمارے پیارے نبی ۖ نے براق پر ساتوں آسمانوں کی سیر کی۔جنت اور دوزخ کو دیکھا۔تمام انبیا کی امامت کی جنتیوں کو دیکھا،دوزخیوں کو دیکھا۔یہ ساری باتیں موجودہ دور میں سمجھنی بہت آسان ہو گئی ہیں۔جب قرآن میں یہ فرمایا گیا کہ انسان اپنے ایک ایک عمل کو قیامت کے دن دیکھ لے گا ۔یہ بات اب انہونی تو نہیں معلوم ہوتی ۔سینکڑوں سال پرانی ویڈیو جب دیکھی جاسکتی ہے۔تو قیامت کے دن سارے جہانوں کا مالک ہماری ساری زندگی کی فلم ہمیں نہیں دکھا سکتا؟جو کام انسان اپنی محنت سے کرنے پر قادر ہے اس سے بڑا کام زمین و آسمان کا مالک رات و دن کو لانے والا ،سورج کو مشرق سے طلوع اور مغرب میں غروب کرنے والا نہیں کر سکتا؟جدید دور ہمیں اپنے دین فطرت سے بہت قریب کردیتا ہے۔کاش ہم اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کریں کہ اپنے بارے میں،انسان کی ساخت کے بارے میں،دنیا کے نظام کے بارے میں غور و فکر کرنے والے بن جائیں۔اس جدید دور میں اللہ کی شان اور اس کے آخری پیغمبر ۖ کے فرامین کی جتنی اہمیت بڑھ گئی ہے وہ سائنسی ترقی سے پہلے نہ تھی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ۖ کا معراج پر جانا اور تھوڑے سے وقفہ کے بعد تفصیلی سیر کرکے واپس آجانا اس سے بڑھ کر آسان کام ہے جتنا راکٹ پر انسان کا چاند پر قدم رکھنا جب عام انسان راکٹ پر بیٹھ کر چاند کی سطح تک پہنچ سکتا ہے تو سارے جہانوں کا رب اپنے محبوب کو اپنے پاس کیوں نہیں بلا سکتا؟اس جدید دور کے تقاضوں کو سمجھ کر ہم اپنے ایمان کو بہت مضبوط کر سکتے ہیں۔جتنا انسان ترقی کی منازل طے کرتا جائے گا اتنا اس کو اپنے رب کی ربوبیت اور اس کے پیارے حبیب ۖ پر دین مکمل ہو جانے کا یقین مستحکم ہوتا جائے گا لیکن افسوس کہ اس ترقی کے دور میں ہم نے اپنے نفس کو مطمئن نہ بنایا بلکہ صرف دنیا بنانے کی فکر میں لگے رہے۔آخرت پر یقین کو مضبوط نہ کر سکے۔رحمان کی غلامی میں آجاتے تو اپنی عاقبت سنوار جاتے اوردنیا کی حقیقت کو سمجھ لیتے تو موت کو ہر وقت یاد رکھتے اور موت کے بعد آنے والی زندگی کی زیادہ فکر کرتے۔لیکن شیطان مردود نے ہمیں دنیا کی رنگینیوں میں مست رکھا ہوا ہے۔