Get Adobe Flash player

مودی کی دعوت ۔۔۔ ملک عبد الرحمن

بھارت کے انتخابات کے نتیجے میں پہلی بار کسی پارٹی کو سادہ اکثریت حاصل ہوئی ہے ورنہ اس سے پہلے مدتوں مختلف اتحاد ہی مل کے کمزور حکومتیں بناتے رہے ہیں۔مودی کے انتخاب نے ایک بات تو واضح کر دی کہ بھارت کے ووٹرز نے اپنا پرانا سیکولر چہرہ بدلنے کا عندیہ دے دیا ہے۔کانگریس کے منافقت بھرے سیکولرازم سے بی جے پی کی ہندوتوایوں بہتر ہو گی کہ اس کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آئے گا ۔مودی حکومت اب جس انداز میں بھارت کو لے کے آگے بڑھے گی اس کی ذمہ داری بھی بی جے پی پہ ہی ہو گی۔ایسی حکومتیں جو انتہاپسندانہ خیالات رکھتی اور کامیاب ہوتی ہیں حقیقی معنوں میں مقتدر ہوتی ہیں۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ بے جے پی کی مودی سرکار بھی اگلے پانچ سال ہمہ مقتدر ہو گی۔جیسا کہ مودی اپنی کامیابی کے بعد اپنے دس سالہ ایجنڈے کی بات کررہے ہیں اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اپنے ووٹر کو خوش کرنے کے لئے ان کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مودی مسلم مخالف ایجنڈے ہی کے زور پہ بر سر اقتدار آئے ہیں لیکن یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیئے کہ الیکشن میں کامیابی کے لئے سیاستدان اکثر عوام کو سبز باغ دکھایا کرتے ہیں۔مودی نے بھارتی صدر سے ملاقات کے فورا بعد اس بات کا عندیہ دیا کہ ان کی تقریبِ حلف وفاداری میں سارک ممالک کے تمام سربراہان کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔متعلقہ حلقوں میں اس اعلان کو کافی حیرت سے سنا گیا۔حیرت اس بات پہ تھی کہ بھارت میں پہلے سے اس طرح کی کوئی روایت نہیں اور بھارت میں مغل بادشاہی کا دور بھی نہیں کہ بادشاہ سلامت بغیر دفترِ خارجہ کی مرضی اور منشا کے کہیں بھی کھڑے ہو کے کوئی اعلان کر دیں یا کسی کو بھی دعوت دے دیں۔ایک ارب سے زیادہ آبادی کا ملک اداروں کے سہارے ہی چل رہا ہے۔مجھے بھارت سے کوئی محبت نہیں نہ ہی میں بھارت سے خائف ہوں۔ پاکستان بھارت سے بہت چھوٹا ملک ہے۔بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہا جا تا ہے۔بھارت ایٹمی قوت بھی ہے۔وہ دنیا کی ایک بڑی معیشت اور ایک بڑی فوج کا مالک ہے۔یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہاں صاف اور شفاف الیکشن ہوتے ہیں۔ جو قیادت منتخب ہو کے آتی ہے اس کی ایک اخلاقی حیثیت بھی ہوتی ہے ۔سارک ممالک کے سربراہان کو حلفِ وفاداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت خاصی سوچ و بچار کے بعد دی گئی ہے ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت جنوبی ایشیاء میں اپنے آپ کو علاقے کا تھانیدار سمجھتا ہے اور اس کی ہمیشہ یہ کوشش اور خواہش رہی ہے کہ سارک ممالک کے علاوہ چین بھی اس کی دھونس اور دھاندلی کو تسلیم کرے۔ یہ بھارت کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنے پڑوسی ممالک میں ناجائز مداخلت کی ہے۔سری لنکا نیپال جیسے ممالک بھی بھارتی روئیے سے کبھی خوش نہیں رہے۔آجکل بھلے ہی بنگلہ دیش میں بھارت نواز سرکار ہو لیکن پانی کے مسئلے پہ بھارت نے بنگلہ دیش کا بھی ناک میں دم کئے رکھا ہے اور خالدہ ضیا کے دور میں بنگلہ دیش کو بھی ناکوں چنے چبوانے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔پاکستان بارہا بھارتی جارحیت کا شکار ہو چکا ۔اب بھی جب کبھی بارڈر پہ تعینات بھارتی فوجی زیادہ شراب پی لیں تو پاکستان کی طرف رخ کر کے وہ اپنی توپوں کے دھانے کھول دیتے ہیں۔پاکستان کے علاوہ بھارت چین سے بھی ایک جنگ لڑ چکا ہے۔بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم سے ایک دنیا واقف ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو جوتے کی نوک پہ رکھ کے ابھی تک اس نے کشمیر پہ اپنا غاصبانہ تسلط قائم کر رکھا ہے۔یہ سیکولر بھارت کی کہانی ہے۔اب جبکہ بھارت میں ہندوتوا کا راج ہو گا تو کیا تصویر بنے گی۔بظاہر بہتر تعلقات اور خطے میں امن کے لئے اسے ایک مثبت اور بہتر کاوش کہا جا سکتا ہے لیکن بھارت کی تاریخ اور مودی کی سیاست کو دیکھتے ہوئے اسے چھوٹے ممالک کو مرعوب کرنے کی کوشش قرار دینے والوں کی بھی کمی نہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ اس اعلان کے بعد پاکستان میں یہ بحث چھڑ گئی  کہ وزیر اعظم پاکستان کو یہ دعوت قبول کرنی چاہیے کہ نہیں۔ اس سے پہلے من موہن سنگھ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے دی گئی ایسی ہی ایک دعوت رد کر چکے ہیں۔اس حساب سے دیکھا جائے تو وزیر اعظم پاکستان کو بھی نفی میں جواب دے کے حساب برابر کر دینا چاہیے ۔ملکوں کے تعلقات اور ان کے درمیان معاملات صرف دو طرفہ نہیں ہوتے ان کے بہت سے چہرے ہوتے ہیں۔اب دنیا گلوبل ویلیج بن گئی ہے۔عالمی سطح پہ متحرک اورفعال میڈیا دنیا میں ہونے والے چھوٹے چھوٹے واقعات اور معاملات پہ نظر رکھتا ہے۔سارک کے ارکان میں پاکستان واحد ملک ہے جو بھارت کی کسی بھی حرکت کے آگے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہوتا ہیبھارت کے عزائم میں صرف اور صرف پاکستان رکاوٹ ہے۔پاکستان کے ساتھ باہمی تعلقات بہتر کئے بغیر بھارت کی ترقی ممکن نہیں۔