Get Adobe Flash player

نائیجیریا۔۔۔میاں انوارالحق رامے

 نائیجیریا براعظم افریقہ کا ایک عظیم ملک ہے ،اس کے 36صوبے ہیں ملک میں وفاقی صدارتی نظا م نافذ ہے ۔آبادی تقریباََ 174 ملین  ہے ۔نائیجریا میں اسلامی شدت پسند کہلوانے والے گروپ جماعت اہل سنہ الدعوة الجہاد نے چند ہفتے پہلے دوسو طالبات کو سکول سے اغوا کرلیا تھا ۔اس کے بعد مزید 8طالبات کو بھی اغوا کرلیا گیا ۔مقامی ہوسازبان میں مغربی تعلیم کی مخالفت کے باعث تنظیم  بوکو حرام کہا جاتا ہے ۔اس تنظیم کے بانی محمد یوسف نے 2002ء میں اس کی بنیاد سلفی نظریات پررکھی تھی ۔آبادی کے اعتبار سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے ۔500کے قریب نسلی گروپ اس میں رہائش پذیر ہیں ۔ 50%کرسچین اور 50%مسلمان پر مشتمل ملک ہے دنیا کی  چھبیسوی بڑی معیشت ہے ۔اور امکان ہے 2050میں اس کا مقام بیسواں ہوجائے گا ۔GDP،500بلین ڈالر ہے اور ساؤتھ افریقہ کو پیچھے چھوڑگیا ہے ۔ٹوٹل ایریا 923,768 KM،356667   Sqہے ماٹوUnity ,faith,peace and progress ہے۔1960ء میں آزاد ہوا تھا ۔1966-1999ء تک فوجی حکمرانوں کا تسلط قائم رہا ۔1999ء میں دوبارہ جمہوریت کی طرف سفر کا آغاز کیا ۔نائیجریا میں بوکو حرام کی کارروائیوں کے نتیجے میں 2012تا 2013سے 10ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔امریکی رپورٹس میں بوکو حرام کو القاعدہ کا حصہ بتایا گیا ہے ۔2013ء میں بوکو حرام کو امریکہ نے دہشت گردتنظیم قراردیا تھا ۔نائیجریا ابھرتی ہوئی معیشت ہے ۔یہاں پر اعلیٰ درجے کا مالیاتی ،قانون اور مواصلاتی نظا م موجود ہے ۔نائیجریا کا ٹرانسپورٹ اورسٹاک ایکسچینج افریقہ میں دوسری بڑی حصص مارکیٹ ہے ۔2008ء میں شرح نمو ،9فیصد ،2009ء میں 8.3فیصد 2011ء میں 8فیصد تک رہی ہے ۔1980ء میں تیل کے نرخ گرنے کی بنا پر ملک کو قرضوں کی عدم واپسی کی بنا پر دیوالیہ قرار دے دیا گیا ۔نائیجریا نے 2006ء میں اپنے ذمہ قرضہ جات کو ادا کردیا جو تقریباََ 30ارب ڈالر تھے ۔تیل کی پیداوار کے اعتبار سے نائیجریا کا بارہواں نمبر ہے اور برآمد کے اعتبار سے آٹھواں نمبر ہے ۔GDP کا 40 فیصد اور حکومتی آمد ن کا 80فیصد تیل پر منحصر ہے ۔60فیصد آبادی کا پیشہ زراعت ہے ۔نائیجیریا نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں گراں قدر ترقی کی ہے ۔ چین اور روس ، اور برطانیہ 5 معاونت سے راکٹ خلاء میں چھوڑے ہیں ۔سیٹلائٹ کے شعبہ میں مزید آگے بڑھ رہا ہے ۔منصوبوں میںروس چین کی شراکت کی بنا پر امریکی اور بعض دوسری قوتوں کو شکایت پیدا ہوگئی ہے ۔نائیجیر یا میں مغوی طالبات کے لواحقین کا احتجاج بڑھتا جارہا ہے ۔ابوبکر شیخاؤ نے طالبات کو بردہ منڈی میں بیچنے کا اعلان کیا ہے ۔شمال مشرقی علاقے میں چی بوک سکول مسلم اورعیسائی طالبات کیلئے اعلیٰ تعلیمی ادارہ  ہے ۔مغوی طالبات کے ورثا ء نے دنیا بھر کی قوتوں سے بالعموم اور امریکہ اور برطانیہ سے بالخصوص مدد کی اپیل کی ہے ۔مغوی طالبات کے بدلے میں ابوبکر شیخاؤاپنے عسکریت پسندوں کے تبادلے کا مطالبہ کررہا ہے ۔ابوجہ ،لاگوس قدونہ کی طرح نیویارک اور لندن بھی ابو بکر شیخاؤ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔نائیجیریا میں فوج کے حوصلے پست ہیں ۔ابو بکر شیخاؤ کے عسکریت پسندوں کو زیر کرنے سے قاصر ہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے عسکریت پسندوں کے ہاتھوں طالبات کے اغواء پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔امریکہ اور برطانیہ کے ماہرین نائیجیریا پہنچ گئے ہیں ۔فرانس اور چین نے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں ۔عالمی امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ نائیجیرین صدر ملک میں بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی پر قابو پانے میں ناکام ہوگئے ہیں خصوصاََ شمال کے مسلم علاقے جہاں حکومت کی کرپشن اور سفاکی عام ہے ۔بوکو حرام کی جانب سے طالبات کے اغوا کرنے کے واقعہ نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کا کام کرنے والوں کی توجہ بڑی تیزی سے حاصل کی ہے ۔صدراوبامہ نے اس واقعہ کو دل کا سکون لوٹنے والا اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے مدد کی پیشکش کی ہے ۔ایوان نمائندگان میں اپوزیشن لیڈر نینسی پلوسی اور ڈی کیلف نے اس واقعہ کو عالمی شعور پر حملہ قرار دیا ہے ۔افریقہ امور کے ماہر ٹم کاکس نے کہا کہ نائیجیریاکی فوج افریقہ میں بہترین فوج تھی لیکن اب وہ مسلم عسکریت پسندوں کے خلا ف اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے ۔نائیجیرین فوج میں صلاحیتوں کی کمی کا سبب تربیتی آلات پر سرمایہ کاری میں کمی جنگی سامان بہتر بنانے میں ناکامی ،جدید تربیت اور تکنیکی امور میں کمی کی وجہ سے فوج کے مورال میں زوال آیا ہے ۔نائیجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن کا یہ اعتراف بڑا تشویشناک ہے کہ بوکو حرام نے پولیس اور مسلح افواج میں اپنے حامی پید ا کرلئے ہیں ۔نائیجیرین فوج سہل پسندی ہوگئی ہے ۔ٹینکوں اور بکتر بندگاڑیوں کی بجائے پک اپ ٹرک استعمال کررہی ہے ۔فوجی تربیت میں اسلحہ کے استعمال کے امور سے کو تاہی برتی رہی ہے ۔نائیجیرین فوج کو عسکریت پسندوں سے لڑنے کی تربیت کی اشد ضرورت ہے ۔نائیجیرین فوج کی اٹھان میں امریکہ ،برطانیہ اور فرانس کا اہم کردار رہا ہے لیکن بعدازاں ان ممالک کے نائیجیریا سے فوجی تعلقات بتدریج کم ہونے سے فوج کمزورہوگئی ہے۔نائیجیریا پر 1966تا 1999ء تک فوجی ٹولہ حکمران رہا ہے جس کی بنا ء پر نائیجیرین فوجی معاملات میں بہتر ی کے اعتبار سے تنہائی کا شکار ہوگیا تھا ۔نائیجریا میں جمہوریت ہے دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب نائیجیریا کو مغرب سے دفاعی تعلقات بحال کرکے اپنی مسلح افواج کو مضبوط و مستحکم بنانا چاہیے۔نائیجیریا میں چین ،بر طانیہ ،امریکی اور فرانس اور اسرائیلی امداد پر ممنونیت کے جذبات نمایاں کئے جارہے ہیں ۔بوکو حرام نے 2009ء میں جہادی سرگرمیاں شروع کی تھیں ان کے نزدیک مغربی دنیا سے رابطہ غیر اسلامی فعل ہے بوکو حرام اپنے آپ کو امام ابن تیمیہ  کے پیروکار قرار دیتے ہیں ۔محمد یوسف بانی بوکوحرام کے بعد ابوبکر شیخاؤ ایک ظالم سخت گیر کے طور پر ابھرا ہے ۔اس کی قیادت میں بوکو حرام نے نائیجیریا میں بین الاقوامی برادری خاص طور پر مغربی مفادات پر حملہ کرکے امریکہ کیلئے اس ملک میں پھر سے فوجی اہمیت حاصل کرنے کا نادر موقع فراہم کیا ہے ۔روسی وچینی اثرات کو کم کرنے کیلئے امریکہ اور اُس کے حواریوں کی خواہش ہے کہ نائیجیریا جیسے معدنی دولت سے مالا مال ملک کو سرمایہ دارانہ نظام سے ہر صورت میں وابستہ رکھا جائے ۔ابو بکر شیخاؤ ایک کٹھ پتلی ہے ۔یہ اسلام کا نام لیکر جب بچیوں کے اغواء کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو گویا مغر بی افواج کو دعوت دے رہا ہے کہ نائیجیریا کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں ۔اس کے وسائل پر قبضہ کرلیں اس ملک کی کثیر النسلی سوسائٹی کو دوبارہ غلامی کا طوق پہنا دیں ۔OICکی بالعوم اور حکومت پاکستان کی بالخصوص ذمہ داری ہے کہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے نائیجیرین حکومت کو مطلوبہ تکنیکی امداد فراہم کرے ۔