Get Adobe Flash player

انقلابی فکر و عمل ہی وقت کی ضرورت۔۔۔ڈاکٹر محمد جاوید

وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے ستر سال ہونے والے ہیں، خوش فہمیوں، ناہلیوں، چوریوں اور بے انصافیوں سے گھرے ہوئے یہ ستر سال ہماری بحثیت قوم ناکامیوں کا مژدہ سنا رہے ہیں، اگر کامیابیوں کا تذکرہ کریں تو چند خاندانوں نے بھر پور ترقی کی ہے، خوب مال بنایا، اپنی اپنی ایمپائر کھڑی کیں، بھر پور طریقے سے اس بدقسمت ملک کے اداروں پہ کنٹرول کر کے قانون کو اپنے گھر کی رکھیل بنایا، غریب قوم کے وسائل کو برے طریقے سے نہ صرف خود لوٹا بلکہ بین الاقوامی چوروں سے بھی لٹوایا، انتہائی قانونی طریقے سے ہر شعبے کو دیوالیہ کر کے اپنے خاندان یا گروہ کو فائدے پہنچائے گئے۔عوام نے اپنے جاہل پن سے ان سفید پوش لٹیروں کی خوب آئو بھگت کی اور ہر آنے والے دنوں میں خود کو بڑے عذاب سے دوچار کرتے رہے اور کر رہے ہیں، پڑھا لکھا طبقہ جو باشعور ہے وہ سوائے تماشائی کے کوئی کردار ادا نہیں کر سکا۔اور پڑھا لکھا کہلانے والا وہ طبقہ جو اس استحصالی طبقے کا ساتھ دیتا رہا اور دے رہا ہے اس میں اور اس جاہل اور ان پڑھ طبقے میں کوئی فرق نہیں۔دونوں اس ملک کی بربادی میں برابر کے شریک ہیں،لیکن اس سے بھی بڑا مجرم وہ طبقہ جو سمجھتے ،بوجھتے فقط تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے،اور عملی جدو جہد نہیں کرتا۔کوئی ایک شعبہ یا ادارہ لے لیں،انتہائی ایمانداری سے اس کے کردار اور کام کا تجزیہ کریں،تو ان کی نااہلی، بد انتظامی، اقربا پروری، کرپشن کو دیکھ کر سر شرم سے جھک جائے گا۔ہمیں اپنے ارد گرد غور کرنا چاہئے۔جو قوم اپنے گرد و پیش اور حالات کو نہیں سمجھتی اس کے حالات اس کی دسترس سے باہر ہو جاتے ہیں۔اپنی آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لئے مخصوص اجارہ دار خاندانوں نے تو بھر پور طریقے سے حکمت عملی ترتیب دی ہوئی ہے۔۔۔بیرون ملک جائیدادیں اور بزنس۔۔۔۔بیرون ملک تعلیم۔۔۔بیرون ملک علاج معالجہ۔۔۔۔۔بیرون ملک رہائشیں۔۔۔۔بیرون ملک عیاشیاں۔۔۔۔ملکی خزانے سے خرد برد ہو یا دیگر طریقوں سے ملکی معیشت کو تباہی و بربادی سے دوچار کر کے پیسہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیںلہذا انہیں قوم کی نسلوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔تعلیمی نظام بدتر اور فرسودہ اور اس کے لئے مناسب بجٹ نہیں، صحت کا نظام بدتر اور فرسودہ اس کے لئے مناسب بجٹ نہیں، زراعت،صنعت و تجارت کا برا حال کیوں کہ اس کے لئے کوئی قومی پالیسی یا ایماندار افراد موجود نہیں۔۔۔۔۔سب اس تباہی میں اپنے اپنے حصے کا گوشت نوچ رہے ہیں۔۔۔۔لیکن اس جسم سے نوچا ہوا ہر لوتھڑا سب کو موت کی طرف لے جا رہا ہے۔۔۔اس گھر کو آگ لگ چکی ہے اس گھر کے چراغ سے۔۔۔۔۔اب کیا کیا جائے؟ایک اچھی اور مثبت تبدیلی کیسے آئے؟کس طرح سے اداروں کو اہل اور ایماندار افراد کے سپرد کیا جائے؟کیسے قومی خزانے کی چوریوں کو روکا جائے؟ ایسے ایک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کا ڈھانچہ تشکیل دیا جائے اور اس میں بلاتفریق ہر طبقے کا بچہ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر ملک کی ترقی کے لئے کام کر سکے؟کیسے ایک بہترین صحت کا نظام تشکیل دیا جائے کہ کوئی عام آدمی بغیر دوا و علاج کے نہ مر سکے؟کیسے ایک نظام عدل تشکیل دیا جائے جہاں عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف مہیا ہو سکے؟کیسے ایسی قیادت پیدا کی جائے جو قو می سچ کی حامل ہو، قومی حب الوطنی کی حامل ہو، سب سے بڑھ کر ایماندار ہو،اس کا کردار کسی بھی قسم کی کرپشن سے پاک ہو، اس کے اندر قومی قیادت کی صلاحیت موجود ہو،وہ کسی مافیا کے زور پہ ملک کی بھاگ ڈور نہ سنبھالے بلکہ ملک کی اکثریت اسے منتخب کرے۔یہاں قیادت سے مراد کوئی ایک شخصیت نہیں بلکہ وہ سیاسی ٹیم ہے جو ملک کے سیاسی نظام کو چلائے۔۔۔۔لیکن یہ سب خوش فہمیاں اور خوبصورت اور دل نشین آرزو کے سوا کچھ نہیں جب تک ایسی کسی قیادت کی تیاری اور سیاسی انقلاب کے ذریعے ملکی اداروں کے اندر جوہری تبدیلی کے لئے عملی جدو جہد نہیں کی جاتی۔۔۔تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جب کسی قوم یا ریاست کو سرمایہ پرست ،مفاد پرست مافیا کنٹرول کر لیتی ہے تو پھر اس کے تسلط سے نکلنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ایسا سیاسی مافیا نہ صرف ملکی اداروں ، قانون، معیشت، میڈیا پہ کنٹرول کر کے اپنے مفادات کا تحفظ کرتا ہے بلکہ جب اسے کسی انقلابی قوت سے خطرہ درپیش ہو تو وہ انتہائی ظالمانہ ،گھنائونے ہتھکنڈوں پہ اتر آتا ہے۔۔۔تاریخ نے یہ بتایا ہے کہ جب کسی قوم کے اندر غیرت جاگتی ہے اور وہ اپنے اوپر مسلط ظالمانہ نظام کو ختم کرنے کے درپے ہو جاتی ہے تو پھر اسے قربانیاں دینی پڑتی ہیں، بغیر قربانی کے ظالم مافیا کبھی قوم کو آزادی نہیں دیتی اور نہ ہی عادلانہ نظام کو قائم ہونے دیتی ہے۔۔۔۔کیونکہ ان کے اثاثے اور معاشی و سیاسی مفادات خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔وہ قوم کو ذلت کے گڑھوں میں تو دفن کرنے سے گریز نہیں کرتے لیکن جب ان کے مفادات پہ زد پڑتی ہے تو وہ اس پسی ہوئی قوم کو مزید آگ اور خون میں دھکیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔۔۔انقلاب ہی دراصل قوموں کی زندگی ہے۔۔۔۔قوم جب مر رہی ہوتی ہے۔تو ذوق انقلاب ہی اس کے اندر زندگی کی رمق پیدا کرتا ہے۔۔۔۔انقلاب کا ذوق ہی ظالموں اور مفاد پرست گروہوں کے سامنے سینہ سپر ہونے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔۔۔۔ذوق انقلاب ہی نوجوانوں کے اندر قومی قیادت کا شعور پیدا کرتا ہے۔۔۔انقلابی جدو جہد قومی خود کفالت، قومی تشکیل کی جدو جہد ہوتی ہے۔۔۔۔جب ریاستی نظام اداروں کے نام پہ ظلم و جور اور کرپشن کا گڑھ بن جائے تو اس کی مثال اس پانی کی ہے جسے روک دیا جائے تو اس میں بدبو بھر جاتی ہے اور وہ بیماریوں اور خرابیوں کا ذریعہ بن جاتا ہے۔۔۔۔انقلابی عمل اس رکے ہوئے بد بو پانی کی رکاوٹ کو توڑ دیتا ہے اور اسے قیام عدل کے ذریعے جاری وساری کرتا ہے۔۔۔۔اس سے معاشرہ پھر سے اپنے پائوں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہو جاتا ہے۔۔۔انقلاب ایک نئی روح پھونک دیتا ہے۔۔۔۔ظالموں جابروں، بھتہ خوروں، سفید پوش ڈاکوئوں،رسہ گیروں،جاہلوں، نااہلوں اور غداروں سے معاشرے کو صاف کرتا ہے۔۔۔۔ستر سال کے تجربے سے اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہئے کہ اس ناسور کا خاتمہ فقط انقلابی جدو جہد ہی سے ہو سکتا ہے۔۔۔۔کیونکہ جزوی خرابی دعوت و اصلاح سے درست کی جا سکتی ہے لیکن اگر کلی خرابی پیدا ہو جائے تو اسے انقلاب ہی سے درست کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔آئیے دنیا کے انقلابات کا مطالعہ کریں۔۔۔قوموں کے عروج و زوال کا تجزیہ کریں۔۔۔۔انقلابیوں کی سیرت وکردار کا مطالعہ کریں۔۔۔اپنے اندر ذوق انقلاب پیدا کریں۔۔۔۔۔انسانیت کا درد اپنے اندر پیدا کریں۔۔۔اپنے اندر تنظیم پیدا کریں۔۔۔اور اپنی قوم کے بہتر مستقبل کے لئے استبدادی قوتوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اپنے اندر سیاسی تنظیم پیدا کریں۔۔۔ملک کے اکثریتی طبقے کو جو کہ ان پڑھ ہے اور سرمایہ پرست اور مفاد پرست مافیا کے اثر میں ہے اسے ان کے اثر سے نکالنے کے لئے جدو جہد کریں۔۔۔۔۔جب تک خرابی کی جڑ کو ختم نہیں کیا جائے گا۔۔۔۔کسی بھی مثبت تبدیلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔