Get Adobe Flash player

بھارت کی نیو کلیئر ڈاکٹرائن پر بدلتا رویہ۔۔۔عبدالقادر خان

بھارت نے خطے میں طاقت کے عدم توازن پر اپنی جارحانہ روش کو قائم رکھتے ہوئے اپنے نیوکلیئر ڈاکٹرائن پر تبدیلی کے ساتھ اپنے جوہری رویئے کو بدل لیا ہے۔ گزشتہ دنوں بھارتی اہلکاروں اور اسکالرز کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات سے اشارہ ملتا ہے کہ بھارتی حکومت اپنے جوہری ہتھیار پہلے استعمال نہ کرنے کے اصول پر نظرثانی کے لئے غور کر سکتی ہے اور اس میں پیشگی حملے کے آپشن کو شامل کر سکتی ہے۔اس سے قبل ہی پاکستانی وزرات خارجہ کے ترجمان نے2016 میں بھارتی وزیر داخلہ کے ایٹمی حملے میں پہل نہ کرنے کے بیان کو ڈھونگ قرار دے دیاتھا ۔ واضح رہے کہ پاکستان نے ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے بات کی ،کیوں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے خوفناک نتائج ہوسکتے ہیں جبکہ پاکستان کی تجویز کردہ اسٹریٹیجک ریسٹرین ریجیم ایٹمی تصادم سے بچنے کی بہترین حکمت عملی ہے۔ دوسری جانب ٹائمز آف انڈیا کے مطابق میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں جنوبی ایشیاء میں جوہری توانائی کے ماہر ویپین نارانگ نے واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہ کرنے کی پالیسی ترک کرسکتا ہے، کارنیگی انٹرنیشنل نیوکلیئر پالیسی کانفرنس 2017 کے موقع پر نارانگ کا کہنا تھا کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بھارت ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پاکستان کو پہل کرنے کی اجازت نہیں دے گا ۔ علاوہ ازیں تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹیڈیز کی میزبانی میں ہونے والی ایک گول میز مباحثے میں بھارت کی جانب سے نیو کلیئر ڈاکڑائن کی تبدیلی کے موضوع فرام کاوینٹر ویلیو ٹو کائونٹر فورس: چینج ان انڈیاز نیوکلیئر ڈاکٹرائن  پر اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ بھارت ایٹمی حملے میں پہل کرنے کی پالیسی کو تبدیل کرسکتا ہے۔امریکی انٹیلی جنس چیف نے امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کے خطرے کی تشخیص برائے 18-2017 پر بریفنگ دیتے ہوئے امریکی کانگریس کو خبردار کرچکے ہیں کہ بھارت سرحد پار حملوں کو بہانا بناکر پاکستان کے خلاف جارحیت پر اتر سکتا ہے اور لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کے درمیان مارٹر شیل فائر کرنے کے واقعات خطے کے دو ہمسایہ جوہری ہتھیاروں کی حامل ریاستوں کے درمیان براہ راست تنازع کا باعث ہوسکتے ہیں۔بھارتی عزائم کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان نے ملکی دفاع میں ایٹمی حملوں میں پہل کو روکنے کیلئے چھوٹے ایٹمی ہتھیار بنا ئے ہیں ۔امریکہ اور روس کے بعدپاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جس نے یہ صلاحیت حاصل کی ہے۔ ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک کے مطابق ہم نے ملکی بقا کی خاطر کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا سو ہم نے ٹیکنیکل ہتھیار بنا لئے ، ہم نے شاہین ون اور ٹو بنائے ضرورت پڑی تو شاہین تھری بھی بنائیں گے ۔پاکستان نے بھارت کی جارحانہ پالیسیوں پر ہمیشہ اپنا دفاع کیا ہے اور اسی دفاعی نکتہ نظر کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے کم رینج پر داغے جانے والے ایٹمی ٹیکنیکل ہتھیار بنائے۔ ان ٹیکنیکل چھوٹے ہتھیاروں کو ہائی سیکیورٹی جگہ پر محفوظ کیا گیا ہے ، یہ ہتھیار سیکرٹ کوڈ کے بغیر فائر بھی نہیں کئے جاسکتے ، نیز اس سے ہیروشیما میں گرائے جانے والے ایٹم بم کی طرح تابکاری اثرات بھی کم پھیلتے ہیں ، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان ہتھیاروں کو کسی بھی جگہ سے فائر کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح پورا بھارت پاکستان کے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں آچکا ہے ۔پاکستان نے اپنی مملکت کے دفاع اور بقا کیلئے بھارت کے روایتی جنگ کے ڈاکٹرائن کولڈ سٹارٹ سے بچائو کیلئے مختصر رینج کے یہ ٹیکنیکل ہتھیار بنائے ہیں۔یہ ایٹمی ہتھیار میزائل کے اوپر نصب کئے جاتے ہیں ۔ پاکستان نے امریکہ اور روس کے بعد ان ہتھیاروں کو بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ، تاہم بھارت ابھی تک اس ٹیکنالوجی کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔لیکن چین میزائل پر متعددجوہری  وار ہیڈ لگانے کے تجربے میزائل ڈیفنس انڈسٹریز میں کرچکا ہے۔پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام و صلاحیتوں اور حفاظت پر ہمیشہ تنقید و تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں اس بات کی اہلیت نہیں ہے کہ وہ اپنے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کرسکتا ہے ۔ لیکن تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے ایٹمی اثاثوں کی جس طرح حفاظت کی ہے وہ دیگر ایٹمی ممالک کے لئے ضرب المثال ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیاء پر اپنی پالیسی بیان میں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کے متعلق تحفظات کا ایک بار پھر اظہار کیا تھا کہ کہیں یہ اثاثے کسی انتہا پسند گروپ کے ہاتھ نہ لگ جائیں ۔ لیکن پاکستانی فوج نے جس طرح مملکت میں دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ہیں وہ اس بات کو باعث اطمینان بناتی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہے اور پاکستان اپنی ذمے داریاں سنجیدگی سے ادا کررہا ہے ۔ اس صورتحال سے پاکستان بھی بخوبی آگاہ ہے کہ بھارت ، مقبوضہ کشمیر میں روز بہ روز بڑھتی حریت پسندی کی تحریک کی کامیابی سے سخت پریشان اور خوف زدہ ہے اور وہ کوئی بھی مکروہ چال چل سکتا ہے ۔بھارت کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزی کررہا ہے اور مقبوضہ وادی کو اپنے ظلم و جبر کا نشانہ بھی بنا رہا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیر کی عوام کے رائے اور اقوام متحدہ کی قرار داد کے مطابق عمل درآمدکرنے پر زور دیا ہے ، لیکن سات لاکھ بھارتی فوجی ، نہتے آزادی پسند عوام کے خلاف کسی بھی انتہائی سخت اقدام سے باز نہیں آرہے اور مسلسل کشمیریوں کی نسل کشی کررہے ہیں ۔ بھارت اپنی سبکی و ناکامی کو چھپانے کیلئے  سرجیکل اسٹرائیک  کے جھوٹے دعوے کرتا ہے لیکن اسے خود اپنے ملک کی عوام اور اپوزیشن جماعتیں شدید تنقید کا نشانہ بنا کر شرمندہ کرتی ہیں تو دوسری جانب مودی سرکار کی پارٹی کے انتہا پسند ہندوں کی بھارت کے مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات بھارتی مسلمانوں کے لئے سوہان روح بنے ہوئے ہیں ۔ بھارتی شر انگیزیوں سے کوئی پڑوسی ملک نہیں بچا ہوا ، کبھی امریکی شہ پر چین کے ساتھ سرحدی تنازعات بڑھاتا ہے تو کبھی افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کرانے سے باز نہیں آتا ۔ بھارت اپنے مخصوص عزائم کو پورا کرنے کیلئے کسی بھی سطح تک جا سکتا ہے ۔ اس کے لئے را ء کے ایجنٹ مخصوص ایجنڈوں پر مصروف عمل ہیں ۔ پاکستان میں لسانیت ہو یا فرقہ واریت کے ذریعے پاکستانیوں کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کوششوں اور سازشوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہی نکلتا ہے ۔پاکستان اپنی دفاع کے لئے جہاں نظریاتی اساس کے تحت جنگ میں مصروف ہے تو دوسری جانب مشرقی ، شمال مغربی سرحدوں پر بھی دشمن کی حکمت عملی کو ناکام بنانے میں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہا ہے۔ یہ کسی بھی ملک کی عوام کیلئے فخر کا مقام ہے کہ 39برسوں سے حالت جنگ میں رہنے والا ملک ، بغیر کسی دوسرے ملک کی مداخلت کے بغیر تن و تنہا کئی ممالک کی پراکسی وار کا مقابلہ کررہا ہے۔بھارت اگر پراکسی وار میں مشرقی پاکستان کے تلخ تجربے کو دوہرانا چاہتا ہے تو اسے ناکامی کا سامنا ہوگا ، اگر کسی ایٹمی حملے کی ناکام کوشش کرتا ہے تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اگر بھارت روایتی جنگ لڑنا چاہتا ہے تو بھی تمام پاکستانی عوام اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ پاکستان محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی بقا و سلامتی کے لئے پاک سر زمین ہے ۔ جس کے لئے من الحیث پاکستانی قوم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی ۔