Get Adobe Flash player

کچھ تذکرہ ضیاء آمریت کا۔۔۔ضمیر نفیس

شاعر نے یاد ماضی کو عذاب قرار دیا ہے مگر میں ان خوش قسمت افراد میں سے ہوں جن کا ماضی شاندار اور قابل فخر رہا ہے دولت سے حال اور ماضی شاندار ہوتا ہے نہ قابل فخر البتہ یہ اعلیٰ مقاصد اور اس کے حصول کی جدوجہد سے ہوتا ہے جس ترقی پسندی کے ساتھ شاعری اور صحافت کے میدان میں قدم رکھا تھا اس پر قائم رہنے اور اس کاذ کے لئے جدوجہد پر اطمینان معمولی کامیابی نہیں میری یہ بھی خوش قسمتی رہی کہ اس سفر کے دوران ایسے شریک سفر ملے جن سے نظریاتی ہم آہنگی تھی  صحافت کے سفر میں ضیاء الحق کا دور کٹھن تھا اپوزیشن کے ترجمان اخبار ''حیدر'' کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اس وقت کے سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان خیبرپختونخواہ کے گورنر جنرل فضل حق اور آزادکشمیر کے چیف ایگزیکٹو بریگیڈئیر حیات کے ساتھ بڑے معرکے ہوئے مجیب الرحمان کی دھمکیوں کے علاوہ اشتہارات اور نیوز پرنٹ کے کوٹہ کی بندش بھی تھی مگر پوری ٹیم کے اندر ایک جذبہ تھا جسے فوجی حکومت ماند نہ کر سکی۔حافظ طاہر خلیل میرے معتمد ترین ساتھیوں میں سے تھے بہت کم احباب جانتے ہیں کہ وہ ایک زبردست ترقی پسند شخصیت ہیں خوبصورت تحریر کے ساتھ موثر خبر بنانے کا ہنر رکھتے ہیں انہوں نے سیاسی رپورٹ کے علاوہ اخبار میں شفٹ انچارج کی حیثیت سے بھی کام کیا' ترجمہ بھی کیا' جس شعبہ میں کمی دیکھی آگے بڑھ کر فرائض ادا کئے' بھٹو دور میں اس وقت کے وفاقی وزیر ممتاز بھٹو کے پریس سیکرٹری بھی رہے بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ بھی کام کیا ان کی بہت سی خوبیوں میں یہ بھی ہے کہ  وہ قائل کرتے ہیں اور قائل ہونا بھی جانتے ہیں سی آر شمسی جو ایک دور میں پی ایف یو جے کے سیکرٹری جنرل رہے چکوال میں ہمارے اخبار کے نامہ نگار تھے انہوں نے مجھے کہا کہ وہ راولپنڈی میں رہائش اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ پنڈی میں ان کے لئے جگہ بنائی جائے میں نے ایک لمحہ کی تاخیر کے بغیر ہاں کی اور راولپنڈی میں شروع میں انہیں سٹی رپورٹر اس کے بعد سیاسی رپورٹر کی ذمہ داریاں بھی دیں اس طرح ہمارے اخبار نے صحافیوں کے مستقبل کے لیڈر کو مواقع فراہم کئے منظور صادق حیدر کے نیوز ایڈیٹر تھے اگرچہ احمدی تھے اس کے باوجود حافظ طاہر خلیل ان کی عزت کرتے تھے اور دفتر میں ایک دوستانہ ماحول تھا۔ یہ معمولی بات نہیں تھی ایک ایسا ماحول تھا جس میں مذہب اور عقیدے کی بنیادپر کوئی تعصب نہ تھا سب کا ایک ہی مشن تھا جمہوریت کی بحالی ترقی پسندانہ فکر کا فروغ اور استحصالی معاشرے کا خاتمہ' محمد عاشق  اللہ کو پیارے ہوچکے ہیں زبردست محنتی سب ایڈیٹر تھے اکرم سلیم نو آموز کارکنوں میں شامل تھے جلد ہی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور اندر کی ایک کاپی کے انچارج بنا دئیے گئے۔راجہ ظفر الحق جنرل ضیاء الحق کے وفاقی وزیر اطلاعات تھے جنرل ضیاء نے کہا تھا وہ میرے اوپننگ بیٹسمین ہیں تاہم  سیکرٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمان جو پرویزی تھے بہت زیادہ طاقتور تھے ہمارا پی آئی ڈی اور حکومت سے جھگڑا یہ تھا کہ ہم ایم آر ڈی کو نام نہاد لکھنے کے معاملے میں حکومت کا  حکم نہیں مانے تھے کم و بیش تمام اخبارات نے ایم آر ڈی کو نام نہاد لکھنا شروع کر دیا تھا۔ حکومت کی دوسری تکلیف اخبار کے سخت اداریے اور میرا زیر زبر کے عنوان سے کالم تھا ایک دن مجھے پی آئی او نے کہا کہ کل آپ کی سیکرٹری اطلاعات سے دس بجے میٹنگ طے پائی ہے آپ ہماری بات تو مانتے نہیں اب آپ جانیں اور وہ جانیں مختصراً اگلے روز میں وقت مقررہ پر پہنچا جونہی کمرے میں داخل ہوا اپوزیشن کے ترجمان اخبار کے ایڈیٹر کی انہوں نے اس طرح پذیرائی کی ''کیا ایم  آر ڈی لگا  رکھی ہے اخبار سمیت آپ سب کو بند کردونگا'' میں نے ہنس کر کہا جنرل صاحب میں آپ کا مہمان ہوں پہلے مجھے بیٹھنے کو کہیں پھر ٹھنڈا گرم پوچھیں اس کے بعد ڈانٹ ڈپٹ بھی کرلیں انہیں فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوا بیٹھنے کو کہا اور ٹھنڈا گرم منگوایا مجھے ٹرسٹ کے اخبار میںزیادہ تنخواہ کی پیشکش کی میں نے کہا پالیسی چیف ایڈیٹر کی ہے میرے بعد ہوسکتا ہے مجھ سے بھی زیریلا آئے مسئلہ تو وہیں رہے گا' کہنے لگے جنرل ضیاء کا موڈ صبح صبح آپ کے اخبار کو پڑھ کر خراب ہوتا ہے اور مجھے فون کرتے ہیں کہ ایک اخبار آپ سے قابو نہیں ہو رہا میں ہے کہا آپ ان کو ہمارا اخبار بھجواتے ہی کیوں ہیں کہنے لگے یہ بھی کرکے دیکھ لیا وہ حیدر مانگتے ہیں مجیب الرحمان کہنے لگے راہ راست پر آجائو ورنہ! اس ملاقات کے ایک ہفتے بعد  اخبار کے چیف ایڈیٹر محمد رفیق بٹ کو نظر بند کر دیا گیا۔