بارشوںکے دوران کپاس کی دیکھ بھال۔۔۔نوید عصمت کاہلوں

پاکستان دنیا میں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے اور ملکی مجموعی پیداوار کا تقریباً 75فیصد حصہ پنجاب میں پیدا ہوتا ہے۔ کپاس اور اس کی مصنوعات کے ذریعہ ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ کپاس حساس فصل ہونے کی وجہ سے بارشوں اور ہوا میں موجود نمی سے زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ کپاس کی فصل کیلئے زیادہ بارشیں پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ کپاس کی 90 فیصد سے زائد کاشت خطہ جنوبی پنجاب میں ہے۔ کپاس حساس فصل ہونے کی وجہ سے بارشوں اور ہوا میں موجود نمی سے متاثر ہوتی ہے۔ کپاس کی فصل کیلئے زیادہ بارشیں پیداوار پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔کھیت میں بارش کا پانی زیادہ دیر نہ کھڑا رہنے دیں۔ کیونکہ اگر بارش کا پانی کپاس کے کھیت میں 24گھنٹے سے زیادہ دیر تک کھڑا رہے تو فصل کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔ حتیٰ کہ 48 گھنٹے پانی کھڑا رہے تو پودے مرجھانا شروع کردیتے ہیں۔ پانی کھڑا رہنے سے پودوں کا پھل بھی گرجاتا ہے۔ اگر کپاس کے قریب دھان، کماد یا چارہ جات کی فصلیں موجود ہوں تو بارش کا پانی ان فصلوں میں نکال دیا جائے یا کھیت کے ایک طرف لمبائی کے رخ 2فٹ چوڑی اور 4فٹ گہری کھائی کھود کر پانی اس میں جمع کردیا جائے۔ اگر کپاس کی فصل پیلی ہوجائے تو ایک بوری یوریا کھیلیوں میں کیرا کریں۔ نائٹروجن کی زیادہ کمی کی صورت میں پانی نکالنے کے بعد کھیت وتر آنے پر یوریا کھاد کا 2 فیصد محلول بناکر سپرے کیا جائے تاکہ پودوں کی نشوونما دوبارہ شروع ہوسکے۔ اگر پھر بھی فصل پر نائٹروجن کی کمی کی علامات نظر آئیں تو 10دن کے وقفہ سے اس محلول کا دوبارہ سپرے کیا جائے۔ برسات میں نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے کپاس کی فصل سے رس چوسنے والے کیڑوں خصوصاً چست تیلہ اور سفید مکھی کے حملہ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں جس کیلئے ہفتہ میں پیسٹ سکائوٹنگ جاری رکھیں اور کسی بھی کیڑے کی معاشی نقصان دہ حد پر پہنچنے پر محکمانہ سفارش کردہ زرعی ادویات کا سپرے کریں۔ زیادہ بارشوں کی صورت میں کپاس کے پودوں کی غیر ثمر دار بڑھوتری میں تیزی آجاتی ہے ۔ کپاس کے کھیتوں کے اندر اور باہر دوسری نظر انداز جگہوں پر جڑی بوٹیوں کی بھرمار ہوتی ہے۔ نتیجتاً نقصان رساں کیڑوں کی تعداد بھی بہت تیزی سے بڑھتی ہے۔ پیسٹ سکائوٹنگ کے لیے چند قدم اندر جا کر 20 مختلف پودوں کا معائنہ اس طرح کریں کہ پہلے پودے کے اوپر والے، دوسرے پودے کے درمیان والے اور تیسرے پودے کے نیچے والے اور پھر چوتھے پودے کے اوپر والے پتے کی نچلی طرف دیکھ کر رس چوسنے والے کیڑوں کی تعداد نوٹ کرلیں۔ یہی عمل جاری رکھ کر 20 پودے پورے کرلیں۔ آخر میں تمام پتوں پر دیکھی جانے والی تعداد کو جمع کر کے فی پتا اوسط نکال لیں۔ اگر سفید مکھی کی تعداد 5 پر دار یا 5 بچے فی پتا یا دونوں ملا کر 5 فی پتا ہو تو یہ سفید مکھی کے نقصان کی معاشی حد ہے۔ اگر جیسڈ اور سفید مکھی کا حملہ اکٹھا موجود ہو تو ایک جیسڈ کو 5 سفید مکھیوں کے برابر تصور کر کے معاشی نقصان کا اندازہ لگائیں اور   محکمہ زراعت کے مقامی عملہ سے مشورہ کے بعد ہی مناسب زہر استعمال کریں۔ کپاس کے علاقوں میں موجود نمی کے باعث کپاس کے ٹینڈوں کی سنڈیوں کا حملہ بھی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ اپنے کھیتوں میں ٹینڈوں کی سنڈیوں کے نقصان کی معاشی حد معلوم کرنے کے لیے ہفتے میں دو بار پیسٹ سکائوٹنگ کریں۔ چتکبری سنڈی، امریکن سنڈی اور گلابی سنڈی کی معاشی نقصان دہ حد پر پہنچیں تو ان کے کیمیائی تدارک کے لئے  محکمہ زراعت کی سفارش کردہ نئی کیمسٹری کی زرعی زہروں کا سپرے کریں۔ لشکری سنڈی کو قابو میں رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کپاس کے کھیتوں کی پیسٹ سکائوٹنگ کے دوران کپاس کے پودوں کا بغور جائزہ لیتے رہیں۔ اگر کسی پودے پر اس کے انڈے یا چھوٹی سنڈیاں نظر آئیں تو اُن کو ہاتھوں کی مدد سے چن کر تلف کریں ۔ بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیتوں میں جڑی بوٹیاں زیادہ اگنا شروع ہو جاتی ہیں جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ کاشتکاروں کو چاہیے کہ فصل بڑی ہونے پر جڑی بوٹیوں کے تدارک کیلئے شیلڈ لگا کر بوٹی مار زہر سپرے کریں۔ زیادہ بارشوں کی وجہ سے پودے کا قد بہت بڑھ جاتا ہے جس سے بجائے پھل لینے کے پودا بڑھوتری کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اگر غیر ضروری بڑھوتری کو نہ روکا جائے تو پیداوار کم ہونے کے ساتھ فصل بھی دیر سے تیار ہوتی ہے۔