Get Adobe Flash player

گرومیت سنگھ:باباسے قیدی نمبر1997۔۔۔ سید منصور آغا

کل تک جس کے اشارے پرسرکارناچتی تھی، ہزاروں لاکھوں افراد جس کے لئے جان دینے کو تیار تھے، جس کی دسترس میں وسائل دنیا کی کوئی کمی نہ تھی ، جو کاروں کے لمبے قافلہ میں چلتا تھا ، جس کے ست سنگ میں ہزاروں کی بھیڑ ہوتی تھی،جو لاکھوں کے لئے عقیدت اوراحترام کا مرکز تھا، جو ایک بڑے سکھ پنتھ ڈیرہ سچا سودا  کا بے تاج بادشاہ تھا، وہ جب احتساب کی کسوٹی پر کسا گیا تو گناہ گار نکلا۔سزاکا مستحق قرارپایااورجب عدالت میں سزا سنائی گئی تو وہ گڑگڑارہاتھا، رحم کی بھیک مانگ رہاتھا، دھاڑیں مارمار کر رورہاتھا، یہاں تک اس کی ٹانگوں نے بھی ساتھ چھوڑدیا۔ وہ کھڑا نہ رہ سکا اور زمین پر گرپڑا۔اس کو گھسیٹ کرباہرلیجایا گیا ۔ اب وہ جیل میں قیدی نمبر 1997 ہے ۔ عدالت نے اس کو جبری عصمت دری کے دو کیسوں میں بیس سال بامشقت کی سزاسنائی ہے۔ 30لاکھ روپیہ جرمانہ عائد کیا۔کیس ابھی اوربھی چل رہے ہیں۔ دیکھئے آخرانجام کیا ہوتا ہے؟ وہ شوگرکا مریض ہے ،بی پی کابھی۔کئی دن تک ہم نے اس کی خبروں کو سنا، ٹی وی پر اس کے مناظر کودیکھا ، تبصرے سنے اورکئے۔ برابھلا کہا ، لعنت ملامت بھی کی، مگرذرا ٹھہریے اوردیکھئے کہ کیااس رواں روداد سے ہم نے خود کوئی سبق لیا ؟ کیا ہمیں یاد آیا کہ ایک دن ہمیں بھی ایک سچی عدالت میں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ خدانہ کرے اس دن کہیں ہمارا حال گرمیت جیسا تو نہیں ہوجائیگا؟گرمیت سنگھ کی ولادت اگست 1967میں راجستھان کے سرحدی ضلع گنگانگر کے گائوں گروسرموڈیا میں ہوئی۔ سات سال کی عمرمیں اس وقت ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ شاہ ست نام سنگھ نے اس کو ڈیرے میں داخل کرلیا۔ 23 ستمبر1990کو شاہ نے ایک بڑے ست سنگ کا اہتمام کیا جس میں گرمیت کو سنت کا اعزاز دیا اور اپنا نائب اورخلیفہ نامزدکردیا۔ اس وقت گرمیت کی عمر صرف 23 سال کی تھی۔سوا سال بعد شاہ کی وفات ہوگئی اور گرمیت ڈیرہ کے سربراہ بن گئے۔سب کچھ بنا کسب ، بغیرامتحان مل گیا۔ سچاسودا ایک سکھ صوفیانہ پنتھ ہے جس کی بنیاد1948میں ایک خداترس صوفی سنت مستانہ بلوچستانی نے ڈالی تھی۔وہ سنت کرپال سنگھ مہاراج کے چیلے اورمرید تھے۔اس ڈیرہ کی تعلیمات اور اصول اعلی اقداراور بلند نظریہ پر قائم ہیں۔محنت کی کمائی سے گزراوقات کرنے اورعطیات قبول نہ کرنے کی سخت ہدایت ہے۔ہرفکروعمل میںانسانیت پرزوردیاگیا ہے۔ ذات یا مذہب کی بنیاد پر کسی سے تفریق نہیں کی جاتی۔ جو ڈیرے میں آجائے وہی مہمان۔ ہرکسی کی خاطر ومدارات ہوتی ہے۔ معاشرتی برائیوں جیسے جہیز'تلک، بیڑی ،سگریٹ، گٹکا، نشہ ، شراب وغیرہ سے سختی سے روکا جاتا ہے۔ خدمت خلق کی باتیں ہوتی ہیں۔طوائف پیشہ خواتین کی بھی شادی کرادی جاتی ہے۔ مذہبی و سماجی عدم تفریق اورشرف انسانیت پرزورکی وجہ سے اس کااثرورسوخ بڑھا۔ پسماندہ طبقات، دکھی افراد اور خصوصا خواتین میں اس کے معتقدین بڑھتے چلے گئے۔ اپریل 1960میں بابابلوچستانی کی وفات کے بعد ان کے چیلے شاہ ست نام نے گدی سنبھالی۔لیکن اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ گرمیت سنگھ نے ڈیرے کے تمام اصولوں کو تلاجنی دیدی اوربقول جج ایک وحشی جنگلی جانور کی طرح برتائو کیا۔ دولت کی ریل پیل ہوگئی۔ ذکروفکر کے بجائے فلموں میں دلچسپی لی جانے لگی اورمغربی طرز کے لباس پہنے جانے لگے۔ابتدامیں اس ڈیرے کا کوئی سروکارسیاست سے نہیں تھا۔فلاحی کام البتہ ہوتے تھے۔ گرمیت نے ان کوترقی دی۔کئی جگہ اسکول وکالج بھی قائم کیے جن میں فیس کم اور تعلیم اچھی بتائی جاتی ہے اوربھی سماجی کام کئے ۔ مگرساتھ ہی سیاست میں بھی دخل دیا اورعطیات لینے لگے۔ان کے بیٹے کی شادی پنجاب کے ایک بڑے سیاسی لیڈرکی بیٹی سے ہوئی ہے۔چنانچہ الیکشن میں ڈیرہ سچاسودا کے اثر و رسوخ کا پکارا گیا۔ اگرچہ وہ ہار گئے مگر 2012 کے چنائو میں کانگریس کی ریاستی قیادت نے ان کی تائید چاہی اورپائی۔ نتیجہ مایوس کن رہا۔ حالیہ لوک سبھا واسمبلی چنائو میں گرمیت سنگھ پرمودی جی کا جادوچل گیا اور انہوں نے بھاجپا کے کشکول میں اپنا وزن ڈال دیا۔حالانکہ بھاجپا آرایس ایس کے جن اصولوں پر کاربند ہے ،وہ ڈیرے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ڈیرے کا اصول فرقہ ورانہ ہم آہنگی اوربھاجپا کا فرقہ وارانہ گروہ بندی۔ بہرحال ہریانہ میں توان کی تائید رنگ لائی اور پہلی مرتبہ بھاجپا کو اکثریت حاصل ہوگئی مگردہلی اوربہار میں ڈیرے کا جادو نہ چل سکا۔اس سے قبل چوٹالہ کی سرکار بھی ان کی اسیررہی۔ گرمیت نے یہ سب کچھ تو کیا مگروہ نہ کیا جو سادھو سنتوں کا کام ہے۔ خود شادی شدہ ہیں۔ تین بیٹیاں اورایک بیٹا ہے۔محنت کے بجائے عیش پرستی کو جگہ دی' گندی فلمیں دیکھنے لگے ' لباس بدل ڈالا۔ مصرفیات بھی عجیب عجیب ہوگئیں لیکن شہرت کو بٹہ تب لگا جب عورتوں کی عصمت دری، قتل، اور دیگرجرائم کی خبریں آنے لگیں۔ 2002 میں یہ خبرآئی کہ دونوجوان خواتین ،جو ڈیرہ میں سادھوی تھیں اور گرمیت کو اپنا خدا سمجھ بیٹھی تھی، اس کی جنسی ہوس کا شکارہوگئیں۔ اندازہ لگائیے کہ اس لمحہ ان بے بس خواتین کی شخصیت کس طرح پارہ پارہ ہوئی ہوگی؟ جس کو اپنا روحانی پیشوا اور پختہ محافظ جانا، اسی نے گھیرگھونٹ کر بدکاری کی۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ایک سادھوی کا بیان ہے کہ گرمیت نے رات کو اس کو اپنے کمرے میں بلایا جہاں ننگی فلم چل رہی تھی ۔ ریوالور کی نوک پر اس سے زیادتی کیااورپھر یہ سلسلہ چلتا ہی رہا۔ خبرہے کہ اس طرح کوئی تین درجن خواتین کا جنسی استحصال وہ کرتارہااورسب دم بخود رہیں۔آخراپریل2002 میں وزیراعظم اٹل بہاری باجپئی، مرکزی وزیرداخلہ ایل کے ایڈوانی، پنجاب اور ہریانہ کے وزرائے اعلی اورپنجاب وہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ایک خاتون کاگمنام خط ملا، جس میں جنسی استحصال کی شکایت اورجانچ کی گزارش کی گئی۔ سیاست دانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔البتہ چیف جسٹس نے سرسہ کے ضلع وسیشن جج ایم ایس سولارکو مستعد کیا ۔ ابتدائی جانچ کے بعد جسٹس سولار نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی کہ معاملہ کی سنٹرل ایجنسی سے جانچ ہونی چاہئے۔ چنانچہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی جانچ کا حکم دے دیا۔وزیراعلی اوم پرکاش چوٹالہ بلبلا اٹھے اورسپریم کورٹ میں عرضی گزاری کہ سی بی آئی جانچ نہ ہو لیکن عرضی مسترد ہوئی۔پانچ سال کی تفتیش کے بعد سی بی آئی نے جولائی2007 میں دوخواتین کی جبری عصمت دری کاکیس داخل عدالت کیا۔ ان خواتین نے عدالت میں گواہی دی، مگرایک نے کہا کہ یہ تو بابا نے اس کو شدھ کرنے کے لئے کیا تھا۔ اسی دوران ایک جراتمند صحافی رام چندرچھترپتی نے اپنے شام نامہ پوراسچ میں مذکورہ خط اورڈیرے میں جنسی غلاظت پر ایک رپورٹ شائع کردی۔ ان کو ان کے دفتر کے باہر گولی ماردی گئی۔ اسپتال میں موت وزیست کے درمیان لٹکے ہوئے صحافی نے بار بارگزارش کی کہ مجسٹریٹ کو بلایا جائے اور ان کا بیان درج کرایا جائے مگرچوٹالہ سرکارٹس سے مس نہیں ہوئی۔ آخر کوئی بارہ دن بعدچھترپتی نے دم توڑدیاان کے قتل کرانے کا الزام بھی گرمیت پر ہے۔کیس اسی سی بی آئی عدالت میں چل رہا ہے۔پانچ سال بعد انبالہ میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی توہرتاریخ پر ہنگامہ ہوتا رہا۔ آخر اپریل 2011 میں عدالت کوا نبالہ سے پنچ کلہ شفٹ کردیا گیا۔مقدمہ دس سال تک گھسٹتارہا'ایک سو سماعتیں ہوئیں۔2016 میں روزانہ سماعت شروع ہوئی اوراگلی ایک سوسماعتوں کے بعد گرمیت کو سزا ہو گئی۔ ان پر اپنے بہت سے معتقدین کوجبری خصی کرانے کا بھی الزام ہے۔ ان کو جھانسا دیا گیا تھا کہ اس کے بعد بھگوان کے درشن ہونگے۔یہ تفصیل اس لئے بیان کردی کہ اندازہ ہوجائے گزشتہ پندرہ سال میں گرمیت کے پاس کتنا موقع تھا کہ اپنی غلط روش سے بازآجاتے اورڈیرہ کے اس کے اصولوں پر پھر سے قائم کرتے  مگر انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھایا اورفیصلے کا دن آگیا۔ وہ گڑگڑارہے تھے ، ارے کوئی مجھے بچالے۔ اندازہ کیجئے کہ جب انسان اپنی قدروں سے، اپنے اصولوں سے گرجاتا ہے تو کس مقام پر پہنچ جاتا ہے، جہاں اس کے لئے بجز سزا کوئی راہ فرار نہیں رہتی۔ یہ وقت دیرسویر آکر رہتا ہے۔میں نے اس تحریرکا آغازجہاں سے کیا تھا، کہ اس میں ہمارے لئے کیا سبق ہے، وہیں آجاتے ہیں۔ کیا قرآ ن ہمیں باربار یہ خبردارنہیں کرتا کہ آخرایک دن آنے والا ہے جب انصاف کا ترازوقائم ہوگا اورہمارے سارا کیا دھرا، ذرا ذرا، ہمارے سامنے ہوگا اورہم اس دن ہم اپنی غلطیوں پر بہت پچھتائیں گے مگراس پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔دھن دولت، اولاد، اقتدار منصب کچھ کام نہ آئیں گے۔ یہ دنیا کی زندگی چارروزہ ہے۔ جن کو خدا پر یقین نہیں، جن کیلئے بس اس دنیا کا اقتدار، دھن، دولت، عیش پرستی اوراولاد ہی سب کچھ ہیں ان کو نہ دیکھئے۔ اپنی طرف دیکھئے۔ گرمیت نے قصورصرف جنسی بے راہ روی کاہی نہیں کیا،اس کا بڑاقصور اعتماد شکنی بھی ہے۔ وہ اعتماد جو شاہ ست پال نے ان پر کیا، جو لاکھوں مجبورمرداورخواتین نے کیا، جنہوں نے خدمت خلق کے لئے خود کو ڈیرہ کے لئے وقف کردیا۔ سی بی آئی جج جگدیپ سنگھ نے سزامیں نرمی کی درخواست کو مستردکرتے ہوئے یہی بات کہی ہے، نرمی کیسی، جس کو صنف نازک نے خدا جاناتھا وہ ان کے لئے جنگلی وحشی بن گیا۔ دیکھئے جنسی بے راہ روی انسان کو کیا سے کیا کردیتی ہے؟خداہم سب کی حفاظت فرمائے۔لیکن آپ کو یہ جان کرحیرانی نہ ہونی چاہئے کہ جس شخص کی تعریف وزیراعظم مودی سمیت بھاجپا کے بے شمارلیڈروں نے کی، ان کے قدموں پرعقیدت کے پھول نچھاورکئے ،وہ گرمیت کے جیل جانے سے کس قدر راحت محسوس کررہے ہوں گے۔ ڈیرہ سچا سودا کاایک مضبوط ووٹ بنک تھا،جو ٹوٹ گیا۔ وزیراعلی کھٹرپر کچھ تنقید ہوئی ہے۔ وہ پارٹی صدرامیت شاہ سے ملے ہیں لیکن یہ امید کرنا فضول ہے کہ یہ ملاقات کچھ نتیجہ خیزہوگی۔ یہ سطریں لکھنے تک اس کی کوئی خبرنہیں آئی۔اس سارے معاملے میں ہمیں افسوس اس بات ہے کہ تشدد میں کوئی چالیس بے قصورنادان لوگ مارے گئے۔ ہم ان کے اہل خاندان کو تعزیت پیش کرتے ہیں۔