شجاعت کی نئی تاریخ ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں جہاں پاکستان کی بری اور بحری افواج نے ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ وہیں پاک فضائیہ کا کردار بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔6 ستمبر 1965ء کو جنگ کے پہلے ہی دن' پاک فضائیہ نے بری فوج کے دوش بدوش بڑا اہم کردار ادا کیا اور پٹھان کوٹ' آدم پور اور ہلواڑہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے' دشمن کے 22 طیارے اور متعدد ٹینک' بھاری توپیں اور دوسرا اسلحہ تباہ کیا۔ لیکن جنگ کا اگلا دن' یعنی 7 ستمبر 1965ء  کا دن تو پاک فضائیہ ہی کا دن تھا۔7 ستمبر 1965، پاکستان میں یہ دن یوم فضائیہ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ 1965 کی جنگ میں اس روز پاک فضائیہ نے دشمن کو ایسی دھول چٹائی جس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔اس دن اگرچہ پاک فضائیہ کے طیارے سرگودھا کے ہوائی اڈے پر' طلوع آفتاب سے پہلے ہی بھارت کے ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے تیار کھڑے تھے۔ مگر دشمن کا حملہ اس قدر ناگہانی تھا کہ حملے کا علم ان کی آمد کے بعد ہی ہوا چنانچہ فضائیہ کے طیاروں نے اپنا فریضہ بھرپور طریقے سے انجام دیا۔دشمن کے طیاروں کو نہ صرف فرار پر مجبور ہونا پڑا بلکہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے کئی طیارے مار گرائے۔اس کے بعد پاک فضائیہ نے دشمن کے ہوائی اڈوں پر جوابی حملہ کیا اور لدھیانہ' جالندھر' بمبئی اور کلکتہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے مجموعی طور پر دشمن کے 31 طیارے تباہ کردیے۔ جنگ ستمبر کے دوران پاک فضائیہ نے 1965ء  میں پیشقدمی کرنے والی بھارتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر لاہور کو بچا لیا۔ بھارت کے لڑاکا طیاروں کو اڑنے سے پہلے ہی پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر تباہ کر دیااور بغیر کسی مزاحمت کے سرینگر ہوائی اڈے کو بمباری سے تباہ کر کے ناقابل استعمال بنا دیا۔ 7 ستمبر 1965 کو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جنگی طیاروںکو تباہ کرکے عالمی ریکارڈ بنانے والے اسکوارڈن لیڈر ایم ایم عالم کے کارنامے زندہ و جاوید اوریوم فضائیہ کا خاصا ہیں۔ جنگ کے ہیرو سکوارڈن لیڈر محمد محمود عالم نے دشمن کے9 جنگی طیارے مار گرائے جن میں پانچ لڑاکا طیارے تو ایک منٹ سے بھی کم وقت میں تباہ کیے۔ بہادری کے صلے میں دوبار ستارہ جرات سے نوازاگیا۔ اٹھارہ برس قبل وائس چیف آف آرمی سٹاف کی حیثیت سے ریٹائر ہونے والے ائر مارشل ارشد چودھری نے تیئس سالہ فلائنگ آفیسر کے طور پر جنگ ستمبر کے دوران کل بتیس فضائی معرکوں میں حصہ لیا۔بقول ارشد چودھری جنگ ستمبر شروع ہونے سے پہلے ہی جنگ کے آثار نمایاں تھے اور پشاورمیں متعین فضائیہ کے انیسویں سکواڈرن کو پٹھان کوٹ کا بھارتی ہوائی اڈہ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔ہم نے اس کام کی خوب پریکٹس کی۔ سکواڈرن لیڈر سجاد حیدر جنہیں پیار سے نوزی حیدر کہا جاتا تھا، بہترین قائد، استاد اور ساتھی تھے۔ چھ ستمبر ہمارے لئے بہت اہم دن تھا کیونکہ چار ستمبر کو ہمارے ساتھ چھمب جوڑیاں میں دو بھارتی طیارے گرا کر ہیرو بن گئے تھے۔ ہمیں بھی معرکہ کارزار میں کودنے کی جلدی تھی۔ چھ ستمبر کو حکم ملا کہ بھارتی دستوں کی واہگہ کی جانب پیشقدمی کی اطلاع ملی ہے۔ صبح نو بجے چھ طیاروں پر مشتمل ہمارے فارمیشن نے پرواز کی۔ دو دو طیارے آگے اور کور کیلئے دو طیارے عقب میں اڑ رہے تھے۔ بی آر بی عبور کرنے کے بعد ناقابل یقین منظر دیکھا کہ ہم بھارتی فوج کے سر پر پہنچ چکے ہیں۔ بھارتی ٹینک آگے تھے۔ ساتھ پیدل فوجی چل رہے تھے۔ پیچھے فوجی ٹرک، ان کے پیچھے ڈبل ڈیکر اور عام بسوں میں سوار لاہور کو فتح کرنے کیلئے بھارتی چلے آ رہے تھے۔ ہم نے بھارتی فارمیشن اور پیشقدمی کے انداز کا جائزہ لیا۔ نوزی حیدر نے پوزیشنیں سمجھائیں اور سب سے پہلے ہم نے راکٹوں سے بھارتی ٹینکوں کو عمدگی سے نشانہ بنایا۔ بھارتیوں کو خوش فہمی میں خود پر پڑنے والی افتاد کا کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن ٹینکوں کی تباہی نے انہیں بوکھلا دیا۔ ہمارے لئے ہدف کی کوئی کمی نہیں تھی۔ دوسرے حملہ میں پھر ٹینکوں کو نشانہ بنایا۔ اس دوران بھارتی پیش قدمی رک چکی تھی اور فوجیوں کی پسپائی کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ مزید حملوں میں ہم نے بھارتی فارمیشنوں پر فائر شروع کر دیا۔ ہر طرف بھارتیوں کی لاشیں، تباہ شدہ ٹینک، ٹرک اور بسیں پڑی تھیں۔ مفرور بھارتیوں کو نشانہ بنانے کیلئے ہم نے وسیع علاقہ میں پھیلے کماد کے کھیتوں میں ان کا تعاقب کیا۔ جب ایندھن اور اسلحہ بارود ختم ہونے لگا اس وقت تک ہم جی بھر کے بھارتیوں کو نقصان پہنچا چکے تھے۔حکم ہوا کہ اسی شام پٹھانکوٹ کا مشن مکمل کرنا ہے۔ ہمارے جذبے جوان، جوش انتہا پر پہنچا ہوا تھا۔انتہائی بلندی پر اڑنے والے دو جاسوس طیاروں کی بدولت پاکستان کے پا س پٹھانکوٹ کے اڈے کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ تربیت نے خوف سے بے نیاز کر دیا تھا۔ رہی سہی کسر جذبہ شہادت نے نکال دی۔ طویل فاصلہ کے سبب ہمیں صرف ایک ایک حملہ کرنا تھا۔ فضا میں بلند ہوئے، پھر اترنا شروع کر دیا اور بھارتی راڈار سے بچنے کیلئے درختوں کی بلندی تک آ گئے اور بغیر کسی مزاحمت کے شام پانچ بج کر پانچ منٹ پر پٹھانکوٹ پہنچ گئے۔ہم نے بھارتیوں کو مکمل سرپرائز دیا۔ ہوئی اڈے پر پہنچ کر اپنے اہداف تلاش کئے، پوزیشن لی۔ اس وقت صرف اللہ کا خوف دل میں تھا۔ مشن لیڈر نے آواز دی کہ اڈے پر موجود طیارے  مگ 21 ہیں۔ یہ اس وقت کے جدید ترین طیارے تھے۔ طے ہوا کہ سب کو تباہ کرنا ہے چاہے ایک سے زائد حملے کرنے پڑیں۔ ہمارے حملوں سے تباہ ہونے والے طیارے آگ کے گولے بن چکے تھے۔ ہمارے تمام طیارے مشن مکمل کر کے کامیابی سے واپس آ گئے۔ فضائی جنگوں کی تاریخ کی یہ کامیاب ترین کارروائی تھی ۔بھارتی فضائیہ کے مورال کا یہ حال ہو گیا تھا کہ بھارتی طیارے، پاکستانی طیاروں کو دیکھ کر ہی رخ بدل لیتے تھے۔ متعدد بار بھارتی طیاروں نے تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود پسپائی اختیار کی۔پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے خلاف اپنی کارروائی 6 ستمبر کو شام 5 بجے کے بعد شروع کی تھی اور 7 ستمبر کو شام 5 بجے سے پہلے وہ دشمن کے 53 طیارے تباہ کرکے ناقابل شکست فضائی برتری حاصل کرچکی تھی۔ اس کے بعد جنگی بندی تک' ماسوائے سرحدی جھڑپوں کے' بھارتی فضائیہ نے کبھی بھی پاک فضائیہ کے اس تسلط کو چیلنج نہیں کیا جو اس نے فضائوں میں پہلے ہی روز قائم کرلیا تھا۔ پاکستان کے لیے فضائی جنگ 6 ستمبر کو شروع کی گئی تھی اس کی فضائیہ نے 7 ستمبر ہی کو جیت لی تھی۔پاک فضائیہ کے موجودہ نوجوان ہواباز زبردست تربیت اور جوش و جذبہ کے حامل ہیں جو وقت آنے پر دشمن کے دانت کھٹے کر سکتے ہیں۔