''احتساب عدالتوں کے فیصلے اس کے بعد اپیلیں''۔۔۔ضمیر نفیس

سپریم کورٹ نے پانامہ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو حکم دیا تھا کہ وہ شریف فیملی اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف چھ ہفتوں کے اندر ریفرنس دائر کرے اور احتساب عدالتیں چھ ماہ کے اندر ان ریفرنسز پر فیصلے دیں سپریم کورٹ کی طرف سے ایک جج بھی مقرر کئے گئے جو اس سارے عمل کی نگرانی کریں گے مقصد یہ تھا کہ کسی سطح پر نیب جان بوجھ کر کوئی کمزور ریفرنس نہ بنائے جو مدعاعلیہ کو فائدہ دے سکے اسی طرح احتساب عدالت کی مانیٹرنگ بھی کی جائے گی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور عدالت کسی مرحلے پر بھی غلط طور پر کسی مدعاعلیہ کو ریلیف نہ دے سکے۔بعض قانونی حلقوں کی طرف سے احتساب عدالت کی سپریم کورٹ کے جج کی طرف سے مانیٹرنگ کے عدالت عظمیٰ کے حکم پر تنقید کی گئی اور اس ضمن میں یہ استدلال دیا گیا کہ سپریم کورٹ کے جج کی مانیٹرنگ ماتحت عدالت کی آزادی پر دبائو ہے ماتحت عدالت کو آزادانہ اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کا حق ہونا چاہیے مانیٹرنگ کے عمل سے اس کا یہ حق پامال ہوسکتا ہے بہرحال اس  استدلال کا کسی نے نوٹس نہ لیا' نیب نے معینہ مدت کے اندر ریفرنسز مکمل کرکے متعلقہ عدالتون کے سپرد کر دئیے ہیں۔ادھر یہ پیش رفت ہوئی کہ جمعہ کے روز ہی سابق وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر ایکشن ہوا اپنی درخواست میں انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی تھی چنانچہ چیف جسٹس نے اس درخواست کی سماعت کے لئے تین رکنی بنچ قائم کر دیا جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گا اور اس سلسلے میں کارروائی 12ستمبر سے شروع ہوگی قانونی ماہرین کا موقفہے کہ ریفرنسز پر احتساب عدالت اس وقت تک کارروائی نہیں کر سکتی جب تک کہ سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ سامنے نہیں آجاتا۔ ایسی صورتحال میں ہفتہ دس دن کی تاخیر ہوسکتی ہے اس کے بعد احتساب عدالتیں سماعت شروع کریں گی۔سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق احتساب عدالتوں کو چھ ماہ کے اندر فیصلے دینے میں دوسرے لفظوں میں آئندہ سال مارچ تک یہ مقدمات سمیٹے جانے چاہئیں عدالتوں کے فیصلے شریف فیملی کے حق میں ہوں یا خلاف قومی سیاست پر ان کے زبردست اثرات مرتب ہوں گے مئی کے اواخر یا جون کے اوائل میں عام انتخابات منعقد ہوں گے انتخابی نتائج پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔جس انداز سے سارے عمل کی مانیٹرنگ ہو رہی ہے اس کے پیش نظر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ احتساب عدالتوں کے پاس کافی شواہد موجود ہیں جو شریف فیملی کے خلاف فیصلوں کا جواز بن سکتے ہیں مگر احتساب عدالت آخری نہیں ہے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں کوئی بھی سائل ہائیکورٹ سے رجوع کر سکتا ہے اور ہائیکورٹ سے خلاف فیصلہ آنے کی صورت میں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا حق رکھتا ہے گویا انصاف کے آخری مرحلے تک پہنچنے کے لئے مارچ 2018ء کے بعد بھی سال ڈیڑھ سال کا عرصہ لگ سکتا ہے عمران خان کو یہ خوش فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ شریف فیملی کو فوری طور پر سیاست سے آئوٹ کر دیا جائے گا یا اسے جیلوں کے سپرد کر دیا جائے گا جب بھی کوئی معاملہ طوالت کا رخ اختیار کرتا ہے تو عام طور پر مدعاعلیہ کو ہی اس کا فائدہ پہنچتا ہے اب دیکھئے شریف فیملی اس معاملے میں کس حد تک خوش قسمت ثابت ہوسکتا ہے۔عمران خان کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا ہے کہ وزیر خزانہ کے خلاف ریفرنس دائر ہونے کے بعد انہیں اپنے منصب سے مستعفی ہو جانا چاہیے اس مطالبہ کو سراسر غلط بھی نہیں قرار دیا جاسکتا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے پہلے  سے ہی تیار ہیں انہوں نے متعدد کمیٹیوں کی سربراہی یا رکنیت سے اسحاق ڈار کو فارغ کر دیا ہے اور سرتاج عزیز کو پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے لائے ہیں تاکہ کسی اچانک صورتحال میں انہیں مشیر خزانہ مقرر کیا جاسکے یوں محسوس ہوتا ہے کہ سرتاج عزیز کو ایک بار پھر اپنے معاشی تجربے کی قومی معیشت کی بہتری کے لئے بروئے کار لائیں گے اسحاق ڈار پر ایک سادہ سا الزام ہے کہ ان کے اثاثے ان کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں اگرچہ وہ استدلال دیتے ہیں کہ ان کے بیٹوں نے ان کی معاونت کی مگر اس استدلال سے عدلیہ پہلے مطمئن ہوئی نہ آئندہ ہوگی۔