Get Adobe Flash player

میانمار میں مسلم کشی، او آئی سی کہاں ہے؟۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 میانمر میں صدیوں سے آباد روہنگیا مسلمانوں پر اپنے ہی ملک کی سرزمین تنگ ہو گئی۔ ریاست ر اکھائن میں مسلمانوں کے اکثریتی علاقے میں دو ہزار چھ سو گھروں کو جلا دیا ہے۔یہ کارروائی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے جانے والے پرتشدد واقعات کے چند بڑے واقعات میں سے ایک ہے۔ میانمار کے حکام کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کو لاؤڈ سپیکروں کے ذریعے متنبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کو ان کے علاقوں میں داخل ہونے پر چیلنج نہ کریں۔ میانمار کے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں ایک بار پھر شدت آچکی ہے۔ بچوں اور خواتین سمیت روزانہ بیسیوں مسلمانوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ نسل کشی کا یہ کھیل امن کی نوبل انعام یافتہ حکمران آنگ سان سوچی کی نگرانی میں جاری ہے۔ آنگ سان سوچی کی سرکاری فوج کے ساتھ بودھسٹ ملیشیاز بھی میانمار کے مسلمانوں کے گھروں پر حملوں اور جلانے میں مصروف ہیں۔  لوگ ان حملوں سے بچ کر پناہ کی تلاش میں خلیج بنگال عبور کر کے بنگلہ دیش کی طرف جارہے ہیں مگر کئی ایسی کشتیاں بھی تھیں، جن کے نصیب میں کنارا ہی نہ تھا۔ ڈوب کر جاں بحق ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے جن کی نعشوں کو دریا کنارے ہی اجتماعی قبروں میں دفن کیا جارہا ہے۔ بچنے والے بنگلہ دیش کے ریلیف کیمپوں میں  پہنچے جہاں غذا اور رہائش کی صورتحال انتہائی ابتر ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ہزاروں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں اور بنگلہ دیش میں مہاجر کیمپ پہلے ہی بھر چکے ہیں۔ جان بچا کر بنگلہ دیش پہنچنے والے افراد کی تعداد 90 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔مسلمانوں کے قتل عام پر آنگ سانگ سوچی کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔ سوچی کی خاموشی مسلمانوں کے قتل عام میں شراکت کے برابر ہے۔ جہاں تک  میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی کی مسلم نسل کشی پالیسی کا تعلق ہے تو سوچی سے نوبل امن انعام واپس لینے کیلئے آن لائن پٹیشن شروع کر دی گئی ہے۔ پٹیشن میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھانے پر سوچی سے نوبل انعام واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں آنگ سان سوچی اور میانمار کے فوجی سربراہ کو عالمی عدالت لے جانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ پٹیشن پر 3 لاکھ 500 سے زائد دستخط ہو گئے ہیںجبکہ پٹیشن کو نارویجن نوبل کمیٹی تک پہنچانے کیلئے تین لاکھ دستخط درکار ہیں۔ آنگ سان سوچی کو جمہوریت کیلئے جدوجہد پر 2012ء میں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔پاکستان نے میانمار میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے قتل اور ملک سے ان کی جبری بے دخلی کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار کے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور قتل وغارت پاکستان کیلئے ازحد باعث تشویش ہیں۔ پاکستان زور دیتا ہے میانمار کی حکومت ان واقعات کی تحقیقات کرائے' ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔اپنی پالیسی کے تحت' پاکستان دنیا بھر کی مسلمان اقلیتوں کی طرح روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم و تشدد کا سلسلہ بند کیا جائے۔ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار عالمی برداری کے ضمیر کے لئے چیلنج ہے۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے میانمار میںمسلمانوں پر مظالم کی مذمت کی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے میانمار کے مسلمانوں پر مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے عالمی برادری نے میانمار اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ او آئی سی اور تمام بااثر اسلامی ممالک کو اس مسئلہ کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے میانمار میں ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصہ سے آباد مسلمانوں کے خلاف حکومت کا سفاکانہ برتاؤ اور انسانیت سوز سلوک قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا اقوام متحدہ، اسلامی دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں فی الفور نوٹس لیں۔ میانمار میں مسلمانوں کی بدترین نسل کشی اور انسانیت کی تذلیل ہو رہی ہے۔  بچوں،عورتوں، نوجوانوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے ۔ بچوں کو پاؤں کے نیچے کچلا اور ذبح کیا جا رہا ہے انہیں زندہ جلایا جا رہا ہے۔ جماعة الدعوةکے پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہا ہے میانمار کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر عالمی اداروں کا طرزعمل منافقانہ ہے۔ حکومت پاکستان مسلمانوں پر مظالم کے حوالہ سے لائحہ عمل طے کرنے کے لئے او آئی سی کا اجلاس طلب کرے۔  اقوام متحدہ اور دیگر عالمی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے روہنگیا مسلمانوں پر منظم حملوں کو نسل کشی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میانمار کے ہمسایہ ممالک کی خاموشی انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں سینکڑوں افراد نے میانمار کے سفارتخانہ کے باہر مظاہرہ کیا۔جکارتہ میں میانمار سفارت خانے پر پٹرول بم پھینکا گیا۔ روسی دارالحکومت ماسکو میں ہزاروں افراد نے میانمار کے سفارتخانے کے باہر رونگیا مسلمانوں پر مظالم پر احتجاج ریکارڈ کرایا۔  پاکستان کی نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی نے اپنے ایک پیغام میں مطالبہ کیا ہے کہ روہنگیا میں تشدد کا خاتمہ کیا جائے۔ دیگر ملکوں اور میرے وطن پاکستان کو بنگلہ دیش کی پیروی کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں کو خوراک، گھر اور تعلیم تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔ پوپ فرانسس نے روہنگیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم اور ان کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو روہنگیا سے باہر نکال کر پھینک دیا گیا ہے۔ انہیں ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں دھکیل دیا گیا ہے لیکن وہ سب اچھے اور امن پسند لوگ ہیں۔ وہ ہمارے بھائی ہیں۔سال ہا سال سے روہنگیا کے مسلمان مصائب کا شکار ہیں۔ ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں قتل کیا گیا اور اس کی وجہ صرف یہ ہے وہ اپنی روایات پر عمل کرتے ہیں، اپنے مسلم عقیدے پر عمل کرتے ہیں۔ برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ  کے مطابق مصنوعی سیارے سے لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے آگ میانمار کی فوج نے لگائی ہے۔ گزشتہ ہفتے میانمر کی فوج نے چار سو روہنگیا مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔  اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کی امداد کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق 60 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جانیں بچا کر بنگلا دیش جا چکے ہیں۔ مہاجرین کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو دقت پیش آ رہی ہے۔ جہاں بھی کہیں مسلم کشی کی واردات ہو تو اس کے پیچھے بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ہمیشہ نظر آتا ہے۔ میانمار میں بھی جہاں  مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جا رہی ہے اور ایسے وقت میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی یانگون پہنچ گئے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی سے ملاقات کی اور انہیں بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ ملاقات میں مسلمانوں پر مظالم کا تذکرہ گول کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نے آنگ سان سوچی سے دہشت گردی کے خاتمے پر تعاون کی پیشکش کی ۔  بھارتی وزیراعظم نے برما کے صوبہ راکھائن جہاں روہنگیا مسلمان آباد ہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری مظالم میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں اور اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق اسرائیل میانمار کی فوج کو اسلحہ اور تربیت فراہم کررہا ہے۔ صہیونی حکومت نے میانمار کو سرحدی نگرانی کے لیے 100 سے زائد ٹینکس، اسلحہ اور کشتیاں فروخت کی ہیں۔ متعدد اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنیاں راکھائن ریاست میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والی برمی اسپیشل فورسز کو فوجی تربیت فراہم کررہی ہیں۔ اسرائیلی اسلحہ کمپنی نے اپنی ویب سائٹ پر تصاویر بھی شائع کی ہیں جس میں اس کا عملہ راکھائن میں آپریشن کرنے والی میانمار کی اسپیشل فورسز کو جنگی تکنیک اور ہتھیاروں کی تربیت فراہم کررہا ہے۔اسرائیلی حکومتیں کئی سال سے میانمار کو اسلحہ بیچ رہی ہیں۔ اس پالیسی کا فلسطین پر قبضے اور فلسطینی مسلمانوں کو بے گھر کرنے سے گہرا تعلق ہے۔ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیاروں کو ''آزمودہ'' کہہ کر دنیا کی بدترین حکومتوں کو فروخت کرتا ہے۔روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کو سامنے والی انسانی حقوق کی کارکن پینی گرین نے کہا کہ صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ اور بھی کئی ممالک روہنگیا مسلمانوں پر مظالم میں ملوث ہیں۔ پچھلے سال برطانیہ نے بھی میانمار کی فوج پر 3 لاکھ پاؤنڈز اخراجات کیے اور تربیت فراہم کی۔