Get Adobe Flash player

بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں۔۔۔ضمیر نفیس

سابق وزیر داخلہ اور مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما چوہدری نثار علی کے ایک انٹرویو  پر ان دنوں بعض حلقوں میں بڑی بحث ہو رہی ہے مذکورہ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز اور بے نظیر بھٹو کا کوئی مقابلہ نہیں' مریم نواز ابھی بچی ہیں اور بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں میں نے کبھی ان کو اپنا لیڈر نہیں مانا ابھی تو انہوں نے سیاسی سفر کا آغاز کیا ہے انہیں لیڈر بننے میں وقت لگے گا' ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو ایک دم لیڈر نہیں بنیں انہوں نے دس سال تک نشیب و فراز اور انتہائی مصائب کے ساتھ سیاسی جدوجہد کے عمل کو جاری رکھا اس دوران انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں اور جلاوطنی بھی کاٹی تب کہیں جا کر قوم نے انہیں اپنا لیڈر مانا مریم نواز کو اپنے آپ کو لیڈر ثابت کرنے کے لئے بہت وقت چاہیے نواز شریف کو رخصتی میں فوج کا کردار نہیں ہے اگر انہوں نے محاذ آرائی کی تو اس سے اپنی پوزیشن کمزور کریںگے سپریم کورٹ اور فوج سے محاذ آرائی کا راستہ غلط ہے فوج سے ہماری کوئی لڑائی نہیں محاذ آرائی کا مشورہ دینے والے لوگ پارٹی کے اندر اقلیت میں ہیں۔چوہدری نثار علی نے محولہ انٹرویو میں کوئی ایک بات بھی غلط نہیں کی  میں اس میں اضافہ کرتے ہوئے بلاول کو بھی شامل کرتا ہوں بلاول کی بھی محض یہی خصوصیت ہے کہ وہ بے نظیر  کا بیٹا ہے لیکن وہ آصف زرداری کے بھی بیٹے ہیں اگر بے نظیر کا بیٹا ہونا ان کی خصوصیت اور امتیاز ہے تو آصف زرداری کا بیٹا ہونا ان کے لئے منفی پوائنٹ ہے والدین کی اچھی یا بری شہرت کے بچوں پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں سیاست کے میدان میں عملی جدوجہد بلاول نے بھی نہیں کی اس اعتبار سے مریم نواز اور بلاول دونوں یکساں ہیں دونوں اپنے اپنے گھرانوں اور ان کے اقتدار کا فائدہ اٹھا رہے ہیں اگر پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں اقتدار میں نہ ہوتیں پھر دیکھتے لیدری کیسے چلتی' چوہدری نثار علی نے درست کہا کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں انہیں ایک لمہے یا چند دنوں میں سیاسی اور پھر لیڈر نہیں بنایا جاسکتا اس کام میں وقت لگتا ہے سرکاری میڈیا کوریج کرے دوسروں کے لکھے ہوئے سکرپٹ سامنے ہوں اور خوشامدیوں کا ہجوم ہو جو تقریر کے ایک ایک لفظ پر سر دھنتے اور تعریف کرتے ہوں تو ایسے میں انسان کے اندر اپنے آپ کو لیڈر سمجھنے کی خوش فہمی پیدا ہو جاتی ہے  میں یہ تماشا دیکھتا ہوں کہ جن لوگوں کا چالیس چالیس سال کا سیاسی تجربہ ہے جو تعلیم یافتہ اور تجربہ کار ہیں وہ بھی اپنے سفید سروں کے ساتھ راونڈ ٹیبل  بیٹھے ہیں اور بلاول اپنے معتمد کی رومن میں لکھی ہوئی مختصر تقریر ان کے سامنے پڑھ کر انہیں عوام سے رابطے کی نصیحت کرتے ہیں۔ یہ  پرانے سیاستدان بھی موروثنی سیاست میں پھنسے ہوئے ہیں ٹکٹ کی مجبوری ہے اپنے بچوں سے بھی  چھوٹے بلاول کو قائد کہہ کر خوشامد نہ کریں تو ان کا سیاسی مستقبل تاریک ہو جائے گا' اگر ان سب سے حلف لے کر ان کے دل کا حال پوچھا جائے تو ہر ایک یہ تسلیم کرے گا کہ مجبوری کے عالم میں وہ اس بچے کو قائد کہہ رہے ہیں جو ان کے مقابلے میں سیاست کا علم اور تجربہ زیرو رکھتا ہے گویا قائد ہونے کے لئے سیاست کا تجربہ نہیں کسی قائد کی اولاد ہونا شرط اول ہے عوام سے تعارف بھی ضروری نہیں یہ بعد میں ہوتا رہے گا یہ سب خوشامدیوں اور ملازموں کے ذمے ہے چوہدری نثار علی نے درست کہا کہ مریم نواز میرے قائد کی بیٹی ہے قائد نہیں ابھی تو ان کے سیاسی سفر کا آغاز ہے منزل ابھی بہت دور ہے' عوام  کا لیڈر ہونا بہت مشکل  ہے البتہ اس کے لئے وقت اور محنت چاہیے جبکہ والد کا لیڈر ہونا بھی ضروری نہیں والدین کے زورپر جو لیڈر بنتے ہیں عوام کے لئے انہیں قبول کرنا ضروری نہیں عوام آزاد ہیں پارٹی کارکنوں کی طرح مجبور نہیں ہوتے ان کا مسئلہ خوشامد بھی نہیں ہوتا عوام جنہیں لیڈر بناتے ہیں وہ پھانسی پانے کے  بعد بھی زندہ رہتے ہیں نہ صرف تاریخ میں بلکہ عوام کے دلوں میں !!