Get Adobe Flash player

پاکستان کے دشمنوں سے یارانہ۔۔۔ریاض احمد چوہدری

 الطاف حسین نے کچھ عرصہ قبل پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جس کی سارے پاکستان اور پوری دنیاکے محب وطن پاکستانیوں نے شدید مذمت کی۔ایسا پہلی بار نہیں ہوا ،اکثر ہوتا تھا۔پھر مذمت، معافی اور اپنے الفاظ کی واپسی پر بات ختم ہو جاتی تھی۔پاکستان کے خلاف اتنی نفرت کا اظہار تو شاید بھارت نہیں کرتا جتنا نفرت کا اظہار قائد تحریک کرتا تھا۔کراچی کی سیاست ہمیشہ لسانی اور علاقائیت کی بنیاد پر تھی۔کہا جاتا تھا کہ الطاف حسین جنون یا مدہوشی کی کیفیت میں بات کر جاتے ہیں مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ الطاف حسین اسی جنون یا پھر مدہوشی کی کیفیت میں بھارت مردہ باد ، بھارت ''ناسور'' کہتے ہوں۔امریکہ ،برطانیہ اور اسرائیل کے خلاف بات کی ہو۔ اپنی ذات اور نظریات کے خلاف بات کی ہو۔پاکستان میں جنرل مشرف کے اقتدار کے دوران موصوف الطاف حسین برطانیہ سے بھارت ایک سیمینار میں شرکت کے لئے گئے تو بھارت کی مرکزی شاہراہوں پر الطاف حسین کی تصاویر لگائی گئیں، VIP پروٹوکول دیا گیا۔گزشتہ برس 22 اگست کو پاکستان مخالف اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے بعد ایم کیو ایم کی پاکستان میں موجود قیادت نے الطاف حسین سے علیحدگی اختیار کرلی تھی، اور تنظیم بظاہر دو حصوں پاکستان اور لندن میں تقسیم ہوگئی تھی۔ایم کیو ایم پاکستان مسلسل یہ باور کروانے کی کوشش کر رہی ہے کہ اب یہ تسلیم کرلینا چاہئیے کہ ایم کیو ایم لندن ایک الگ جماعت ہے، جس سے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ایم کیو ایم لندن کے الطاف حسین  اب بھی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی سے باز نہیں آتے۔ وقتاً فوقتاً پاکستان مخالف بیان داغتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں سے ان کا بہت یارانہ ہے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اگست کے مہینے میں  متحدہ قومی موومنٹ لندن کے سربراہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکرٹریٹ میں پاکستان مخالف رکن کانگریس ڈانا روہرا باچر اور جلاوطن بلوچ رہنما خان آف قلات سے طویل ملاقات  اور ان کے ساتھ مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے پر تبادلہ خیالات  ہے۔ جس کے بارے میں  ایم کیو ایم لندن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نے کیلی فورنیا سے امریکی رکن کانگریس سے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے بارے میں شکایت کی۔یہ ملاقات 4گھنٹے تک جاری رہی اور ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ایم کیو ایم  لندن کے ایک ترجمان نے بتایا کہ امریکی رکن کانگریس نے حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور ایم کیو ایم کے قائد کو یقین دلایا کہ وہ یہ معاملہ امریکی کانگریس اور دوسرے فورمز پر اٹھائیں گے۔ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا  خان آف قلات بھی ملاقات میں موجود تھے اور انھوں نے مشترکہ مقاصد کیلئے مل کر کام کرنے سے اتفاق کیا۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ ہم خیال لوگ مستقبل میں مل جل کر کام کریں گے اور باہمی رابطوں میں اضافہ کریں گے۔ الطاف حسین کی یہ ملاقات ان کے بااعتماد ساتھی ندیم نصرت کی جون کے آخر میں واشنگٹن میں سینیٹر جان مک کین، رکن کانگریس ڈانا روہراباچر اور ٹیڈ پوئے سے مدد کے حصول سے ملاقات کے بعد ہوئی ہے۔ پاکستانی اخبار اور چینل میں اس ملاقات کی خبروں کی اشاعت کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے ایم کیو ایم لندن اور اپنے سابق ساتھیوں پر پاکستان کے مفاد کے خلاف کام کرنے اور پاکستان مخالف عناصر سے ہاتھ ملانے کا الزام عائد کیا تھا۔ فاروق ستار نے واشنگٹن میں پاکستان امریکی سیاستدانوں سے ندیم نصرت کی ملاقات کو ایم کیو ایم لندن کے پاکستان دشمن ایجنڈے اور کا حصہ اور 22اگست کی الطاف حسین کی تقریر کا تسلسل قرار دیا تھا۔فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ندیم نصرت امریکہ میں پاکستان مخالف لابنگ میں مصروف ہیں لیکن ہم ایم کیو ایم لندن کو اردو بولنے والی کمیونٹی کے نام پر وہ کچھ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو ایم کیو ایم لندن کر رہی ہے۔مہاجروں کے نمائندے اپنے ورکرز اور حامیوں کے ساتھ یہاں ہیں۔انھوں نے الطاف حسین کی جانب سے امریکی کانگریس سے پاکستان کی امداد روکنے کی اپیل کو احمقانہ اور مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔فاروق ستار کے اس بیان کا جواب دیتے ہوئے ندیم نصرت نے امریکی ارکان سیاستدانوں سے اپنی ملاقاتوں اور پاکستان کے خلاف مدد مانگنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ الطاف حسین کی 22اگست کی تقریر کے بعد ان کی تقاریر پر لگائی جانے والی پابندی اور ایم کیو ایم کے 3گروپوں میں تقسیم ہونے کے بعد اب ایم کیو ایم لندن کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ ایم کیو ایم لندن نے حالیہ دنوں میں جلاوطن بلوچ گروپوں سے رابطہ کرکے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن کسی بھی معروف گروپ نے ان کو مثبت جواب نہیں دیا۔ اقوام متحدہ کی سطح پر مہم چلانے والے جلاوطن بلوچ رہنما مہران بلوچ نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنے عروج کے دور میں کراچی میں رہنے والے بلوچوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہی ہے اور بلوچوں کے خلاف متعصبانہ کارروائی کرتی رہی ہے۔ مہران بلوچ نے الزام لگایا کہ کراچی میں اپنے عروج کے دور میں ایم کیو ایم کراچی میں بلوچوں کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ انھوں نے اور دوسرے بلوچ رہنمائوں نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر کام کرنے سے انکار کر دیا لیکن ایم کیو ایم لندن نے خان آف قلات سے روابط استوار کرلئے ہیں جنھوں نے برطانیہ میں پناہ کی درخواست دی ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی عدالت انصاف میں لانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں لیکن گزشتہ 10سال کے دوران ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ خان آف قلات اس سے قبل لندن میں امریکی ارکان کانگریس ڈانا روہراباچر اور ٹیڈ پوئے کے ساتھ پاکستان کے خلاف ایونٹ منعقد کرتے رہے ہیں۔الطاف حسین کا یارانہ اب تک بھارت ، امریکہ ، اسرائیل اور برطانیہ سے رہا ہے  اور وہ ہر فورم پر پاکستان، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنی نفرت کا نشانہ بناتے ہیں۔ان کو یہ عقل نہیں کہ ہمارے ازلی دشمن تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ کوئی پاکستانی ان کے ہتھے چڑھے جس کے منہ میں وہ اپنی زبان بلوا سکیں۔ الطاف حسین نے  مختلف پریس کانفرنسوں میں بھارت ، امریکہ اور اسرائیل کی ترجمانی کی۔ہمیں چاہیے کہ نہ صرف الطاف حسین کے بیانات کی بھرپور مذمت کریں بلکہ ان کی ہرزہ سرائی کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کریں۔