متحدہ ریاست ہائے امریکہ ۔۔۔اطہر مسعود وانی

گزشتہ سے پیوستہ
امریکہ میں آباد کاری اور وسائل کا استعمال:17ویں صدی میں یورپ سے بڑی تعداد میں لوگ نئی جگہوں پر آباد ہونے کے لئے مختلف خطوں کی جانب روانہ ہورہے تھے۔انگلینڈ نے سپین کو ہرا کر نئی سپر پاور ہونے کا مقام حاصل کر لیا۔1607میںامریکہ کے مشرقی علاقے میںپہلی انگلینڈ کی کالونی جیمز ٹائون کے نام سے قائم ہوئی جسے اب ورجینیا کہتے ہیں۔یہ امریکہ میں ایک نئی دنیا کی تعمیر کی ابتدا تھی۔ان کا کام برٹش کمپنی کے لئے پیسہ کمانا تھا۔ان شاندار وسیع علاقوں کا مالک کوئی نہیں تھا۔ان علاقوں میں14ہزار مقامی لوگ چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں رہتے تھے۔ دریائوں اور ساحل کے ساتھ دو سو گائوں آباد تھے اور گھنے جنگلوں میں بڑے گھر واقع تھے۔وہ بینز اور مکئی اگاتے تھے۔یہ لوگ کسان اور شکاری تھے۔یہاں آباد کاروں کی امید کے برعکس سونا یا چاندی نہیں تھا۔صرف زمینیں اور وہاں کے لوگ تھے۔شروع میں آباد کار اور مقامی لوگ آپس میں کسی ٹکرائو کے بغیر رہتے رہے۔یہ سرزمین ایسے قدرتی وسائل سے مالا مال تھی جن کی یورپ میں کمی تھی۔ آباد کاروں کی طرف سے امریکہ کے دریائوں سے بڑے پیمانے پر مچھلیاں پکڑی جانے لگیں اور بڑی تعداد میں یہ مچھلیاں انگلینڈ ،سپین وغیرہ بھیجی جانے لگیں۔آباد کاروں نے دو سو سال میں امریکہ سے اتنا حاصل کر لیا جو یورپ میں ہزاروں سالوں میں حاصل کیا گیا تھا۔کئی جہاز زیادہ مچھلی کے وزن کی وجہ سے ڈوب جاتے۔اتنے وسیع پیمانے پر مچھلیوں کے شکار سے مچھلیوں کی افزائش پر نہایت برے اثرات مرتب ہونے لگے۔پیسوں کے لئے مچھلی خشک کر کے نمک میں رکھ کر بھی یورپ بھیجی جاتی تھی۔نہ ختم ہونے والے جنگلات یورپئینز کے لئے حیران کن تھے،کاشت کاری کے لئے جنگلات کے درخت کا صفایا کیا جانے لگا اور یہاں سے لکڑی بھی یورپ بھیجی جانے لگی۔درختوں کے وسیع پیمانے پر کٹائو سے 17ویں صدی میں کریبین اور اٹلانٹک آئی لینڈ کے وسیع علاقوں سے جنگلات کا مکمل صفایا ہو گیا۔ آباد کاروں کے گھروں میں دن رات ہر وقت ہر کمرے میں آگ جلتی رہتی تھی،جلانے کے علاوہ کاشت کاری اور تعمیرات کے لئے بھی تیزی سے درخت کاٹے جا رہے تھے۔یورپی لوگوں نے امریکہ کے وسائل لوٹ کر خطے کو بدل دیا اور ساتھ ہی اپنے ساتھ لائی چیزوں سے بھی امریکہ کو تبدیل کر دیا۔اپنی ملکیتی زمینوں کے خواہشمندیورپی لوگ بہتر زندگی کے لئے امریکہ کا رخ کرنے لگے۔ وہ مذہبی آزادی کے بھی متلاشی تھے۔ان کا یقین تھا کہ وہ اپنی کامیابیوں اور خوشیوں کے خود ذمہ دار ہیں۔پہلی بار آباد کاروں کے ساتھ عورتیں بھی امریکہ پہنچنے لگیں اور وہ اپنے ساتھ استعمال کی مختلف مزید اشیاء بھی لے کر آئیں۔وہ بھیڑیں،مرغیاں، پودے اور یورپی فصلوں کے بیج بھی ساتھ لائیں جو اس خطے کے لئے نیا تھا ۔انہوں نے کاشت کاری کے یورپی اوزاروں اور طریقوں سے زمینوں میں کاشت کاری شروع کی۔ ماحولیاتی تبدیلی وقوع پذیر ہونے لگی اورجلد ہی گندم اور دوسری یورپی فصلیں امریکہ میں بھی پیدا کی جانے لگیں۔ گائے کی طرح کے امریکی جانور بائیسن کی جگہ بیل گائے زیادہ نظر آنے لگیں۔مویشیوں کی تعداد یورپ کی نسبت زیادہ تیزی سے بڑھنے لگی۔بیلوں کی آبادی بڑھنے سے امریکہ میں بیج مختلف زمینوں تک پھیلتے چلے گئے۔یورپی لوگوں کے لائے گئے جانور امریکہ میں تبدیلی کی ایک اہم بنیاد ثابت ہوئے اور ان کی آبادی مختلف حصوں میں پھیلتی چلی گئی۔آباد کاروں کے گھر لکڑی کے ستونوں کی دیواروں کے حصاروں میں قائم کئے گئے۔ان کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔گوشت امریکہ میں سستی ترین خوراک بن گئی۔ان کے پاس یورپ سے لایا گیا آتشی اسلحہ،ہتھیار ،اوزار تھے۔کاشت کاری وسیع ہوتی گئی،درخت کاٹ کر مزید علاقے کاشت کاری کے قابل بناتے ہوئے ہر قسم کے چیزیں اگائی جانے لگیں۔انہوں نے یورپی درخت بھی علاقے میں لگانے شروع کر دیئے۔یورپ سے لائے گئے پھلوں کے درخت بھی لگائے گئے۔یورپ کے پودے ،پھول لگانے سے امریکہ میں شہدکی پیداوار بھی شروع ہو گئی۔یورپی شہد کی مکھیاں بھی یہاں شہد پیدا کرنے لگیں جو مقامی شہد مکھیوں کی نسبت ہر قسم کے پھولوں سے شہد حاصل کر سکتی تھیں۔سیب کے باغات سے شمالی امریکہ میں سیب کی پیداواربڑی صنعت بن گئی،جس کاتخمینہ پانچ ملین ٹن سالانہ تھا۔یورپی پھل وغیرہ امریکہ میں اچھی پیداوار دینے لگے۔امریکہ سے ٹماٹر اور آلو وغیرہ کی یورپ آمد سے یورپ کے کھانوں میں نیا اضافہ ہوا۔امریکہ سے لائے گئے ٹماٹر اور آلو کی پیداوار یورپ میں تیزی سے ہونے لگی۔16صدی میں ٹماٹر یورپ کے اکثر حصوں میں پیدا کیا جانے لگا اورروس میں بھی ٹماٹر اگایا جانے لگا۔یورپ کے امرا میں چائے کے ساتھ چینی اور تمباکو سٹیٹس سمبل بن گیا۔تمباکو امریکہ سے ہی یورپ لایا جانے لگا اور آباد کاروں نے اس کی پیداوار یورپ بھیجنا وسیع پیمانے پر شروع کیا۔ یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے گنے اور تمباکو کی کاشت میں اضافہ ہونے لگا۔امریکہ کے ان کھیتوں میں کام کرنے کے لئے یورپ سے افریقی غلاموں کو بھی امریکہ لایا جانے لگا۔دس ملین افریقی غلام امریکہ لائے گئے۔ان افریقی غلاموں کے ذریعے یورپ کی طلب پوری کرنے کے لئے امریکہ میں گنا،گندم،تمباکو،چاول کی وسیع کاشت ہونے لگی۔18ویں صدی تک امریکہ کافی حد تک مکمل ہو گیا تھا۔نیو سپین اور نیو انگلینڈ کے علاقے پوری طرح مستحکم ہو گئے۔امریکہ میں آباد کار وں کی دولت میں اضافہ ہونے لگا۔اب امریکہ آنے والوں نے مغرب کا رخ کرنے کے لئے ریلوے لائین بچھانیاشروع کی۔اس طرف مزید زمینیں موجود تھیں۔اس نئے امریکہ کی تعمیر میں امریکہ کی تقریبا 90فیصد مقامی آبادی ہلاک کر دی گئی۔امریکہ یورپ کے تمام علاقوں سے امریکہ آئے آباد کاروں،دریافتیں کرنے والوں،نئی کالونیاں بنانے والوں کا ملک بن گیا۔ان میں افریقہ سے لائے گئے غلام بھی شامل تھے۔امریکہ میںشہری نظام کا قیام اور آزادی کی لہر:16ویں صدی کے ایک عشرے بعد امریکہ سے تمباکو انگلینڈ بھیجا گیا اور1619 میں ٹوبیکو انڈسٹری قائم ہوئی۔ اس کے بعد آباد کاروں کے لئے زمینوں کی ملکیت کو قانونی شکل دینا شروع ہوئی۔ حقوق ملکیت امریکی جمہوریت کی بنیاد قرار پائی۔ورجینیا میں دنیا کی پہلی قانون ساز اسمبلی قائم ہوئی۔ہائوس آف برٹرسز نامی اس اسمبلی نے اپنا پہلا قانون منظور کیا جس کے تحت جمہوری حکومت قائم کی گئی۔ورجینیا امریکہ کی دوسری کالونیوں کے لئے ایک مثال بن گئی۔اس اسمبلی کے ایک رکن پیٹرک ہنری نے اپنی مشہور تقریر میں کہا کہ مجھے یا تو آزادی دو یا موت۔1620 کے بعد امریکہ مختلف یورپی قوموں کے آباد کار لوگوں کے ملاپ کامجموعہ بن گیا۔مونٹیچوسس ریاست میں امریکہ کے مجموعی تصور، آزادی،انسانی حقوق،سیلف گورننس،تعلیم اور دانشوارانہ خیالات کا تصور اورقیام پر وان چڑھنے لگا۔مو نٹی چوسس ریاست میں 1700میں لندن کے احکامات کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا۔امریکہ میںسیلف گورنمنٹ کے قیام میں مونٹی چوسس نے قائدانہ کردار ادا کیا۔مونٹی چوسس نے چرچ اور حکومت کو الگ کرنے اور آزادی اظہار کے امریکی اصولوںکے قیام میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ اس پر دیگرکالونیوں نے بھی سیلف گورنمنٹ کے طریقوں پر غور شروع کیا۔ کالونی کے پروپرائٹر لارڈ بالٹی مو رنے کہا کہ کالونیوں کے آزاد لوگوں کو کسی بھی قانون سازی کا حق حاصل ہے اور آزاد آدمی وہ ہے جو قانون ساز اسمبلی کے رکن کے لئے ووٹ دینے کا حق رکھتا ہو ۔اسی دوران مقامی مسائل کے حوالے سے ٹائون میٹنگز کے اجلاسوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔جس میں لوگ اکٹھے ہو کر ٹیکسوں،تعلیم،عوامی قوانین اور عطیات کے لئے فیصلے کرتے اور بعد ازاں ان میں انقلاب کے امور بھی طے کئے جانے لگے۔1638 میں کلونئیل لیڈر ٹامس ہوکر نے کنٹیکی ٹائون کمیٹی اجلاس میں یہ تاریخی الفاظ کہے کہ ''ا تھارٹی کی بنیاد انسانوں کی آزادانہ مرضی پر منحصر ہیہر انسان آواز رکھتا ہے ،ووٹ کا حق رکھتا ہے''۔1669 میںکیرو لینیا کالونیوںکے پرو پرائیٹرز جان لاک نے بنیادی آئین تیار کیا،اس میں حکومت کے قیام کا طریقہ کار بتایا گیا۔118سال بعد یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ نے حکومت کی تشکیل کے طریقہ کار کی منظوری دی گئی۔کیرولینیا کے بنیادی آئین کی پیروی میں 1680میں ولیم پینز پینس نے حکومت کی تشکیل کے حوالے سے ایک بلو پرنٹ تیار کیا جس میں حکومت کی تشکیل پر عائد شرائط شامل تھیں۔18ویں صدی کے آغاز میں تمام انگلش کالونیوں میں عوامی نمائندہ حکومتیں قائم تھیں۔برٹش پارلیمنٹ نے امریکہ پر کنٹرول کی کوشش کی لیکن امریکی کالونیوں میں ایک نئی طرز کے سیلف رول کا تصور مضبوط ہو رہا تھا جو لوگوں کے جمہوری حقوق پر مشتمل تھا۔(جاری ہے)