Get Adobe Flash player

برمی مسلمانوں کی نسل کشی کیوں؟۔۔۔شاہ زمان

اللہ پاک کی زمین پر ایک خطہ میانمار ہے، جس کی سرحدیں، بنگلہ دیش ، بھارت، تھائی لینڈ، لاس، اور چین کی سرحدوں سے ملتی ہیں،جہاں پندرہ لاکھ کے قریب کلمہ گو آباد ہیں،جنھیں دنیا روہنگیا مسلمان کہتی ہے۔ہماری آزادی کے ایک سال بعد ان کو بھی جاپانیوں سے آزادی ملی تھی، انھوں نے بھی ہماری طرح یوم آزادی منایا تھا، مگربد قسمی سے ان کو ملک کا شہری تسلیم نہیں کیا گیا کیوں کہ ان کے نام کے ساتھ مسلمان چپساں تھا۔ آتش پرستوں نے بہت کوشش کی مگر راہِ توحید سے نہ پھیر سکے۔پھر جبر و استبداد کی انتہاشروع ہوگئی، اس سال روہنگیا مسلمانوں نے بھی آزادی کے بعدسترویں عید قربان منائی، موازنہ کیجیے  عید کے دن ہمارے بچے اپنی پسندکے کھلونوں سے کھیل رہے تھے۔ قربانی کے جانوروں کے ساتھ سیلفی بنا کر پھولے نہیں سما رہے تھے، والدین اپنے بچوں کو ہنستے کھیلتے دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے،مگر ان کے بچے اپنی امی ابو کو کفار کے ہاتھوں ذبح ہوتے اور گولیوں سے چھلنی ہوتے دیکھ رہے تھے ، ماں باپ اپنے جگر گوشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کٹتے اور زندہ جلتے دیکھ رہے ہیں۔میانمار کے اس ماحول میں عید قربان منانے والو تم نے توواقعی عہد رفتہ کی یاد تازہ کردی، تمہاری ایک فرد کی قربانی آج پوری دنیا کے مسلمانوں کی اجتماعی قربانی پر بھاری محسوس ہو رہی ہے۔ مغربی میڈیا برمی مسلمانوں کی نام نہاد حمایت کے ساتھ ساتھ عجیب انداز میں منافقانہ چال چل رہا ہے ، جس میں بہت ہی دھیمے انداز میں برما کے مسلمانوں کو غیر ملکی مہاجر ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، بی بی سی نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ برمی مسلمان کالونیل دور میں بنگال سے آکر آباد ہوئے ہیں، حالانکہ اراکان جہاں روہنگیا مسلمانوں کی اکثریت ہے ،کالونیل دور سے پہلے ہی مسلمانوں کے زیر نگیں تھا،پندرویں صدی میں بنگال کے سلطان جلال الدین محمود شاہ کی حکومت میں شامل تھا ، مغلیہ دور میں بھی ،پورے برما میں مسلم حکمرانی کو تسلیم کیا جاتا تھا، مسلم لباس اور طرز زندگی کو فوقیت حاصل رہی، کرنسی پرایک طرف برمی اور دوسری طرف فارسی کندہ تھی۔برما کی آزادی میں بھی روہنگیا مسلمانوں کا اہم کردار تھا۔آزادی کے بعد برمی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کا آغاز ہوا، شہریت دینے سے انکار کر دیا گیا، مگر قومی شناختی کارڈ جاری کر دیااور مسلمانوں کو پارلیمنٹ میں بھی رسائی حاصل ہوئی۔ 1962کی فوجی بغاوت نے مسلمانوں پر ابتلا، ظلم اور بربریت کے کئی دروازے کھول دیے، مسلمانوں سے قومی شناختی کارڈ واپس لیکر غیر ملکی کارڈ جاری کر دیے۔ رہی سہی کسر 1982کے شہریت کے قانون نے پوری کردی جس میں مسلمانوں کو مکمل طور پر غیر ملکی قرار دیدیا، روہنگیا مسلمانوں کے اکثریتی صوبے اراکان کو قیدخانہ بنا دیا گیا، مسلمانوں کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگادی گئی، تعلیم،روزگار اور صحت کی سہولیات سے بھی یکسر محروم کر دیا گیا۔ میڈیا کی رسائی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ۔1970کے بعد متعدد کریک ڈائون ہوئے اور لاکھوں مسلمانوں کو جبرا پڑوسی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کر دیا گیا ۔امید کی جارہی تھی کہ فوجی حکومت کا ظلم برداشت کرنے والی آنگ سان سوچی کے برسرِاقدار آنے پر مسلمانوں کے دن بدلیں گے ، مگر اس کی پارٹی کے حکمران بنتے ہی ، روہنگیا مسلمانوں پر تاریخ ساز بربریت کا آغازہوا، سوچی نے برما میں مودی کا کردار ادا کرتے ہوئے، بدھ مت کے دہشت گردوں کو شہ دی جنھوں نے فوج کے ساتھ ملک کر برما کے مسلمانوں کی باقائدہ نسل کشی شروع کردی، جس کے متعلق گزشتہ برس لندن کی کوئین میری یونیورسٹی کے محققین کی رپورٹ میں کہا گیا ہے میانمار کی سرکاری سرپرستی میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی آخری مراحل میں ہے۔اس کے ردعمل میں ہی حرکت الیقین نامی مزاحمتی تحریک نے جنم لیا، جن کا کہنا ہے کہ انھوں نے صرف اپنی حفاظت کی خاطر ہتھیار اٹھائے ہیں۔اکتوبر2016میں چند سرحدی فورس کے جوانوں کے قتل کا بہانہ بنا کر برمی فوج اور بدھ ملیشیاز نے مسلم آبادیوں پر چڑھائی کر دی، مکانات نظر آتش کر دیے گئے،ہزاروں معصوم مسلمان،بچوں، نوجوانوں ،بوڑھوں اور عورتوں کو شہید کردیا گیا، نومبر2016میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی مداخلت پر برمی حکومت نے کمیشن کے قیام پر رضامندی کا اظہار کیا، پھرعالمی رائے عامہ کی آنکھوں میں دھول جھونک کرمعاملہ ٹھپ کر دیا گیا۔ جنوری2017کو اقوام متحدہ کی سپیشل نمائندہ کو رسائی دینے سے انکار کیا گیا اور پھر اقوم متحدہ کے تفتیش کاروں کو ویزے جاری کرنے سے بھی میانمار حکومت نے معذرت کر لی۔ انڈونیشیا کے صوبہ سماترا میں بیس فیصد عیسائی آبادی کے لیے اقوام متحدہ کی پھرتی قابل دید تھی مگر یہاں باجی اقوام متحدہ شرم کے مارے آنکھ نہ اٹھا سکی۔روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تازہ لہر 25اگست 2017اس وقت شروع ہوئی جب حرکت الیقین کی طرف سے پولیس اور فوج کی چوکیوں پر مبینہ حملے کا بہانہ بنا کر، برمی فوج اور بدھ ملیشیا ایک بار پھر مسلم آبادی پر چڑھ دوڑے، متعدد گائوں کے ہزاروں مکانات نظر آتش کر دیے گئے، ہزارو ں بے گناہ مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا، معصوم بچوں تک کو جلتے مکانوں میں پھینک کر زندہ جلا دیا گیا، پچھلے ایک ہفتہ کے دوران ایک لاکھ کے قریب برمی مسلمان بنگلہ دیش کے سرحد پر پہنچ چکے ہیں جہاں خوراک اور ادویات کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ دنیاخاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، مسلم حکمران اپنا اقتدار بچانے، اور انسانی حقوق کے علمبردار اپنی تنخواہ پانے کی فکر میں ہیں جبکہ مسلم نوجوان اور اقبال کے شاہیں سوشل میڈیا پر خوش گپیوں میں مصروف ہیں ، کچھ نوجوان صرف مذمتی پوسٹ شیئر کرکے خیالوں میں محمد بن قاسم کا کردار ادا کر رہے ہیں، کچھ پروفیسر قسم کے نام نہاد مسلمان تو یہ فلسفہ جھاڑ رہے ہیں کہ کیا ہم نے مسلمانوں کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔واہ جی اگر یہ فلسفہ ابنِ قاسم کو سمجھ آجاتا تو آپ پروفیسر رام چندر کے سوا کچھ نہ ہوتے۔