Get Adobe Flash player

ریاست کے ہر ستون کو اپنی ذمہ داریاںادا کرنا ہونگی ۔۔۔ظہیر الدین بابر

 نئے عدالتی سال  2017-18   آغاز کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا  کہنا تھا کہ اصل جمہوریت کا سب سے اہم پہلو قانون کی حکمرانی ہے جس کے لیے عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ  عدلیہ کی آزادی کا مقصد  ججز کا انتظامیہ ،کسی بھی شخص یاطاقتور اتھارٹی سمیت ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہونا ہے۔ جناب جسٹس ثاقب نثار کے بقول آئین بالادست ہے اور ریاست کے ہر ستون کو اپنی ذمہ داریاں اور افعال آئین کے مطابق سرانجام دینے ہوتے ہیں۔''مملکت خداداد پاکستان میں نظامِ عدل، قانون کی بالا دستی اور آئین کی حکمرانی کئی دہائیوں سے اہم موضوع بحث  ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ  اب تک ہر حکمران نے قانون کی حکمرانی کو  من پسند معانی پہنائے ہیں جس کے نتیجے میں مسائل کم ہونے کی بجائے ان میں اضافہ ہوا۔ دراصل آئین اور قانون کی بالادستی کی اہمیت یہ بھی ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی ریاست کے فعال اور دیانتدار اداروں کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح ہر  جمہوری ریاست کے شہری ایسی ریاست  کا خواب دیکھنے میں حق بجانب ہیں جہاں عدلیہ آزاد ہو اور ریاست کے سبھی  طبقات اس کے فیصلوں پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد کریں ۔ عصر حاضر میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ  امن و امان اور خوش حالی کی فضا میں سانس لینے کی خواہش رکھنا ریاست کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔دراصل ایک  مثالی ریاست وہی کہلا سکتی ہے  جہاں قانون کی بالا دستی ہو، ریاست کے سبھی شہریوں بشمول اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق مساوی بنیادوں پر حاصل ہوں ۔ جہاں کی سرزمیں پر  بسنے والے  غربت بھوک اور بیروزگاری جیسے ناموں سے  نا آشنا ہوں۔جہاں دہشت گردی اور اس سے ملتے جلتے عفریت ناپید ہوں دراصل یہ وہی دیس ہے جس کے بارے میں  میں  راوی امن اور چین لکھے۔دراصل تیسری دنیا کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان کا  رائج  نظامِ عدل بھی ہمیں  نو آبادیات سے منتقل ہوا۔تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ متحدہ  برصغیر پاک و ہند میں  شخصی نظامِ حکومت ہی فعال تھا جس کے تحت ہر قسم کے  اختیارات اور فیصلے  فردِ واحد کے ہاتھ میں محفوظ رہے یعنی جہاں  قاضی شہر بھی حاکمِ وقت کے آگے سر جھکائے دست بستہ کھڑا رہتا تھا۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد برصغیر پاک وہند پر رہنے والوں پر  مسلط ہونے والا برطانوی راج اگرچہ اپنے ساتھ قانون کی ایک نئی شکل لے کر آیا تاہم مخصوص حوالوں سے وہ   کسی طور پر بہترین  نظامِ عدل نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انگریز سرکار کا تشکیل دیا جانے والا قانون جو مقامی باشندوں کے لئے تعصب سے بھرپور مگر خود انگریزوں کے لیے ہر قسم کی پابندیوں سے آزاد تھا۔ تاریخ کے اوراق بھرے پڑے ہیں کہ متحدہ برصغیر پاک وہند کی مقامی آبادی سے  انگریزوں کا روا رکھا جانے والا سلوک  امتیازی اور تحقیر آمیز تھا۔یقینا پاکستان کے قیام کا ایک مقصد  تھا کہ ایسا ملک حاصل کرنا  یہاں قانون کی حکمرانی اس انداز میں نظر آئے کہ حکمران اور عوام کے درمیان کسی قسم کا فرق دکھائی نہ دے۔اس میں شک نہیں کہ آج بھی ہم تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ایک طرف ہمارے تمام تر پرانے خستہ سماجی ڈھانچے شکست و ریخت کا شکار ہو رہے ہیں جب کہ دوسری طرف ان کی جگہ لینے والے نئے نظام اپنی تشکیل کے ابتدائی مراحل سے گزر رہا ہے ۔کوئی نہ بھولے کہ کسی بھی ریاست میں  عدل وانصاف کے قوانین کا براہِ راست تعلق عوام کی ذاتی زندگی سے ہے۔ معیشت بھی اسی وقت مستحکم ہوتی ہے جب وہاں امن و امان قائم ہو۔ اس کے ساتھ  جمہوریت کا استحکام بھی ریاست کی خوش حالی سے ہی مشروط ہے۔دراصل اسی نقطہ کو چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے تازہ  خطاب میں بیان کیا۔ یاد رکھنا ہوگا کہ جب  ملک کا  بااثر طبقہ، اشرافیہ یا جاگیردار طبقہ خود کو قانون سے مستثنی قرار دیتا ہے تو عملا پورا نظام تہس نہس ہوجایا کرتا ہے۔ دراصل  معاشرے میں بگاڑ تب ہی پیدا ہوتا ہے جب ریاست کا بااثر طبقہ یا جرائم پیشہ افراد محض حکامِ بالا تک اپنی رسائی کے زعم میں مبتلا ہو کر سرکشی کے مرتکب قرار پائے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بطور قوم ہمیں  انصاف کے لیے کسی مثالی صورتِ حال کے انتظار میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ  سماج کو درپیش بنیادی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنی  انفرادی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ ہماری اجتماعی کامیابی یہی ہے کہ ہم ایک ایسا لائحہ عمل ترتیب دے ڈالیں  جو ملک سے ناانصافی کو بتدریج ختم کرڈالے۔ اس میں شک نہیںکہ ہمارے ہاں جمہوری نظام ابتدائی مرحلے میں ہی سہی مگر بہرکیف موجود ہے چنانچہ ہمیں  اپنی ناکامیوں سے سیکھنا ہوگا۔ دراصل یہ اسی وقت ممکن ہے  جب ہم اپنے ماضی کی غلطیوں اور غلط فیصلوں کو کسی صورت فراموش نہ کریں۔چیف جسٹس جناب ثاقب نثارکا یہ کہنا غلط نہیں کہ قانون شکنی کرنے والوں کا سخت مواخذہ ہی ریاست میں امن کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ دراصل ہم میں سے کسی کو بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر نظام انصاف کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہیںکرنی چاہیے۔ریاست کے ذمہ دار اداروں کا فرض ہے کہ وہ مختلف اداروں کے باہمی تصادم کو روک کر قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔